امریکی ریاست نیویارک میں بدھ کے روز دو پالتو بلیوں میں کورونا وبا کی تصدیق ہوئی ہے، امریکہ میں پالتو جانوروں میں یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔
اخبار ڈیلی میل کے مطابق امریکی محکمہ برائے زراعت اور فیڈرل سینٹرز فار ڈیزیس کنٹرول اینڈ پریوینشن نے کہا ہے کہ بلیوں میں معمولی سانس کی بیماری تھی جسکے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پالتو بلیاں گھر کے افراد یا پڑوس سے وبا کا شکار ہوئیں۔
امریکہ کے چڑیا گھر میں ایک شیرنی کورونا کا شکارہو گئی
قرنطینہ اور تنہائی، امریکہ میں کتوں کی طلب بڑھ گئی
سی ڈی سی نے تجویز دی ہے کہ لوگوں کو اپنے پالتو جانوروں کو باہر کے افراد یا جانوروں سے میل جول سے بچانا چاہیے۔
اس سے قبل نیویارک کے برانکس زو میں سات چیتوں اور شیروں کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔
حکام کے مطابق پالتو بلیاں سٹیٹ کے مختلف حصوں میں ہیں تاہم ان کا پتہ نہیں بتایا گیا۔
سی ڈی سی کی اہلکار اور انسانوں اور پالتو جانوروں کے روابط کی ماہر ڈاکٹر کیسی بارٹن نے بتایا کہ پالتو بلی گھر میں موجود ایک شخص کو سانس کی تکلیف کے بعد بیمار ہوئی تاہم اس شخص میں کورونا کی تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار پالتو جانور گھر سے باہر جاتے ہیں جس سے وہ کورونا کے شکار فرد سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق دوسری پالتو بلی، جس میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے، کا مالک کورونا کا شکار تھا جبکہ اسی گھر میں دوسری بلی میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کچھ جانور انسانوں سے وبا لے رہے ہیں تاہم اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملا کہ جانور یہ وبا انسانوں میں پھیلا رہے ہیں۔
مختلف طبی ایجنسیوں کی رائے ہے کہ کورونا وبا سے متاثرہ شخص جتنا ممکن ہو سکے گھر میں پالتو جانوروں کو نہ چھوئے۔
ڈاکٹر بارٹن نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کے لوگو ں میں خوف بڑھے، نہ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے پالتو جانوروں سے ڈریں یا انکا جوق در جوق ٹیسٹ کرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ جانور وبا کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یو ایس ڈی اے کے ڈاکٹر جین رونی کے مطابق پالتو جانوروں کے ٹیسٹ اس وقت تک نہیں کرانے چاہئیں جب تک ان کا رابطہ کسی کورونا وبا سے متاثرہ شخص سے نہ ہو اور ان میں علامات نہ پائی جائیں۔
امریکہ سے باہر پالتو جانوروں میں کورونا وبا کے کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں ہانگ کانگ شامل ہے جبکہ چین میں ایک تحقیق کے مطابق بلیاں باآسانی وبا کا شکار ہو سکتی ہیں، یہی بلیاں آپس میں کورونا کو منتقل کر سکتی ہیں۔