سابق پاکستانی کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ عمران خان ایک ٹیکنیکل کپتان نہ ہونے کے باوجود ایک کامیاب کپتان تھے کیونکہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو بھرپور اعتماد دیتے تھے، وہ جانتے تھے کہ کھلاڑیوں سے کس طرح بہترین کارکردگی کس طرح لینی ہے۔
یوٹیوب پر رمیز راجا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے شروع میں ہم اچھی پرفارمنس نہیں دے رہے تھے لیکن عمران خان نے بھرپور اعتماد دیا جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کے خلاف میں نے 37 گیندوں پر 60 رنز اور فائنل میں صرف 35 گیندوں پر 42 رنز بنا دیے۔
پاک بھارت کرکٹرز کی دوستیاں اور دشمنیاں، شاہد آفریدی کی زبانی
جاوید میانداد کو ٹیم سے نکالنے کے پیچھے عمران خان کا ہاتھ تھا، سابق کرکٹر باسط علی کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ یہ سب عمران جان کی بھرپور سپورٹ کی وجہ سے ممکن ہوا، انہوں نے ہمیشہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے وہ ایک عظیم کپتان بن گئے۔
انضمام نے بتایا کہ عمران خان کسی کھلاڑی کی ایک سیریز میں ناکامی کے باوجود اس کو مسلسل چانس دیتے جس کی وجہ سے ٹیم میں تمام کھلاڑی پرفارمنس دینے میں کامیاب رہے، کھلاڑیوں کو بھرپور تحفظ دینے کی وجہ سے ٹیم کے کھلاڑی ان کا بہت احترام کرتے تھے۔
انضام الحق نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک سیریز میں ان کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی اور واپسی پر جب وہ جہاز میں سوار ہوئے تو ان کی نشست عمران خان کے ساتھ آئی۔
انہوں نے کہا کہ میں سوچنے لگا کہ اب مارے گئے، جب انسان پر برا وقت آتا ہے تو تمام چیزیں الٹی ہو جاتی ہیں، اب ان کی سیٹ بھی عمران خان کے ساتھ آ گئی لیکن جب میں ان کے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے میری بیٹنگ کی تعریف کی، یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے کھلاڑی پرفارمنس دیتے تھے۔
انضمام الحق نے کہا کہ ہمارے دور میں انڈیا کی بیٹنگ لائن کاغذوں میں بہت مضبوط تھی لیکن ان کے بلے باز اگر 100 کرتے تھے تو ان کے کھلاڑیوں کو انفرادی فائدہ ہوتا تھا لیکن ٹیم کے لے یہ سنچری کام نہیں آتی تھی، دوسری طرف اگر پاکستانی بلے باز 40 سکور بھی کرتے تو اسکور ٹیم کے میچ جیتنے کے لیے کام آتا، یہ دونوں ملکوں کی بیٹنگ میں بنیادی فرق تھا۔