• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, جون 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

عمران خان ٹیکنیکل کپتان نہ ہونے کے باوجود ایک عظیم کپتان تھے

by sohail
اپریل 23, 2020
in تازہ ترین, کھیل
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سابق پاکستانی کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ عمران خان ایک ٹیکنیکل کپتان نہ ہونے کے باوجود ایک کامیاب کپتان تھے کیونکہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو بھرپور اعتماد دیتے تھے، وہ جانتے تھے کہ کھلاڑیوں سے کس طرح بہترین  کارکردگی کس طرح لینی ہے۔

یوٹیوب پر رمیز راجا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے شروع میں ہم اچھی پرفارمنس نہیں دے رہے تھے لیکن عمران خان نے بھرپور اعتماد دیا جس کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کے خلاف میں نے 37 گیندوں پر 60 رنز اور فائنل میں صرف 35 گیندوں پر 42 رنز بنا دیے۔

پاک بھارت کرکٹرز کی دوستیاں اور دشمنیاں، شاہد آفریدی کی زبانی

جاوید میانداد کو ٹیم سے نکالنے کے پیچھے عمران خان کا ہاتھ تھا، سابق کرکٹر باسط علی کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ یہ سب عمران جان کی بھرپور سپورٹ کی وجہ سے ممکن ہوا، انہوں نے ہمیشہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے وہ ایک عظیم کپتان بن گئے۔

انضمام نے بتایا کہ عمران خان کسی کھلاڑی کی ایک سیریز میں ناکامی کے باوجود اس کو مسلسل چانس دیتے جس کی وجہ سے ٹیم میں تمام کھلاڑی پرفارمنس دینے میں کامیاب رہے، کھلاڑیوں کو بھرپور تحفظ دینے کی وجہ سے ٹیم کے کھلاڑی ان کا بہت احترام کرتے تھے۔

انضام الحق نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک سیریز میں ان کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی اور واپسی پر جب وہ جہاز میں سوار ہوئے تو ان کی نشست عمران خان کے ساتھ آئی۔

انہوں نے کہا کہ میں سوچنے لگا کہ اب مارے گئے، جب انسان پر برا وقت آتا ہے تو تمام چیزیں الٹی ہو جاتی ہیں، اب ان کی سیٹ بھی عمران خان کے ساتھ آ گئی لیکن جب میں ان کے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے میری بیٹنگ کی تعریف کی، یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے کھلاڑی پرفارمنس دیتے تھے۔

انضمام الحق نے کہا کہ ہمارے دور میں انڈیا کی بیٹنگ لائن کاغذوں میں بہت مضبوط تھی لیکن ان کے بلے باز اگر 100 کرتے تھے تو ان کے کھلاڑیوں کو انفرادی فائدہ ہوتا تھا لیکن ٹیم کے لے یہ سنچری کام نہیں آتی تھی، دوسری طرف اگر پاکستانی بلے باز 40 سکور بھی کرتے تو اسکور ٹیم کے میچ جیتنے کے لیے کام آتا، یہ دونوں ملکوں کی بیٹنگ میں بنیادی فرق تھا۔

Tags: انضمام الحقرمیز راجہعمران خانعمران خان بطور کپتان
sohail

sohail

Next Post

انسانوں کے بعد اب پالتو بلیوں میں بھی کورونا وائرس پھیلنے لگا

کیا نکوٹین کورونا کے خلاف موثر ہے؟ نئی تحقیق سامنے آ گئی

یو اے ای کی شہزادی جس کی دھمکی کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا

ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

کورونا وائرس کے خلاف جنگ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ نے جمہوریت کا بھرم رکھ لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In