کورونا کے خوف سے ہانگ کانگ کی کراٹے کی ٹیم نے ملک چھوڑا، براعظم بھی تبدیل کیا مگر اس وبا سے نا بچ سکے۔
تفصیلات کے مطابق ہانگ کانگ کے لی چن ہو اپنی ٹیم سمیت گزشتہ چار برس سے اولمپکس میں شرکت کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ چین میں سامنے آنیوالی نئی بیماری کورونا وائرس ہانگ کانگ میں بھی پھیل گئی اور ٹیم کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔
کورونا وائرس وبا کا خاتمہ کیسے ہوگا؟
امریکی کمپنی کی تجرباتی ویکسین کورونا کے خلاف موثر ثابت ہونے لگی
ہانگ کانگ میں کورونا کا پہلا کیس 24 جنوری کو رپورٹ ہوا۔ جب کورونا کے کیسز بڑھنے لگے تو فروری کے آغاز میں ٹیم نے فرانس جانے کا فیصلہ کر لیا۔
اس وقت ایشیاء کورونا وائرس کے خطرات میں گھرا تھا مگر یورپ میں اس کا خطرہ کم لگ رہا تھا۔ انہوں نے ہر طرف نظر دوڑائی تو فرانس کو محفوظ پایا اور وہاں جا کر اولپمکس کیلئے تیاریاں شروع کر دیں۔
ٹیم جب فروری کے آغاز میں فرانس پہنچی تھی تو اس وقت کورونا وائرس کے خطرات کم تھے جس وجہ سے انہوں نے احتیاط نہ کی۔
انہوں نے سب سے ملنا جاری رکھا اور فرانس کی کراٹے ٹیم کے ہمراہ گھل مل کر تیاریاں کرتے رہے، انہوں اس وقت بھی لاپرواہی دکھائی جب کورونا نے اٹلی میں تباہی مچائی۔
سی این این کے مطابق ٹیم کے فرانس جانے کے ایک ماہ کے اندر کورونا وائرس بھی یورپ میں پہنچ گیا جس سے لی اور انکی ٹیم کے کئی ارکان اس کا شکار ہوگئے، اب لی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ اس بداحتیاطی پر پچھتا رہے ہیں۔
ہانگ کانگ لوٹنے کے بعد لی کی جانب سے قرنطینہ کے دوران ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جب ہانگ کانگ میں کورونا کے کیسز بڑھ رہے تھے تو اس وقت یورپ میں سب ٹھیک تھا۔
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ
انہوں نے بتایا کہ وہ تھکے ہوئے ہیں اور اپنے جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہیں، انکے مطابق وہ جتنا برا اس بیماری کے دوران محسوس کر رہے ہیں ویسا انہوں نے زندگی بھر محسوس نہیں کیا۔
ہانک کانگ کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لی، انکی ٹیم کے دیگر دو افراد اور ٹیم کے کوچ فرانس میں کورونا وائرس کے مریض بنے تھے۔