نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈا آرڈرن نے کورونا وائرس کے خلاف فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کورونا کا پھیلاؤ رک چکا ہے، نئے کیسز کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وزیراعظم جسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم نے کورونا کا ملک سے خاتمہ کر دیا ہے لیکن معمولی تعداد میں نئے کیسز آ سکتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔
کورونا وائرس کے خلاف جنگ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ نے جمہوریت کا بھرم رکھ لیا
کورونا وبا: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم اور کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں کمی کر دی
انہوں نے کہا کہ نئے کیسز سامنے آنے کی صورت میں ہم پورے عزم کے ساتھ انہیں دوبارہ ختم کر دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے نئے کیسز کی تعداد سنگل ڈیجیٹ میں آ چکی ہے، انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا جنہوں نے اس لڑائی میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔
نیوزی لینڈ منگل سے پابندیوں کو لیول فور سے لیول تھری پر لا رہا ہے جس کے بعد کچھ کاروبار کھلنا شروع ہو جائیں گے تاہم گھر سے باہر دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہو گا۔
ملک بھر میں اسکول بھی محدود سطح پر کھل جائیں گے، مینوفیکچرنگ اور جنگلات کا کام بھی شروع ہو جائے گا تاہم ہدایات یہی دی گئی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کام گھر سے کیا جائے۔
لوگ اب اشیائے ضروریہ کی خریداری بھی کر سکیں گے اور ساحل سمندر پر نہانے بھی جا پائیں گے، شادیوں اور اموات کی صورت میں دس افراد تک کے اجتماع کی اجازت ہو گی۔
سی این این کے مطابق نیوزی لینڈ کے محکمہ صحت کے ڈائرکٹر جنرل ایشلے بلوم فیلڈ کا کہنا ہے کہ نئے کیسز کی معمولی تعداد کا مطلب ہے کہ ہم نے کورونا کا خاتمہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاتمے کا مطلب کیسز کی تعداد صفر ہونا نہیں ہوتا لیکن اب ہمیں معلوم ہو گا کہ نئے کیسز کہاں سے آ رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ نے کیسے فتح حاصل کی؟
نیوزی لینڈ میں کورونا کا پہلا مصدقہ مریض 28 فروری کو سامنے آیا، امریکہ میں اس سے ایک ماہ قبل پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
14 مارچ کو ملک میں صرف چھ افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی اور اسی روز وزیراعظم آرڈرن نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی ملک میں آئے گا اسے دو ہفتوں کے لیے الگ تھلگ رہنا ہو گا۔
20 مارچ کو ملک بھر میں غیرملکیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا، 23 مارچ تک مریضوں کی تعداد 103 تک پہنچ چکی تھی اور کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔
اسی دن جسینڈا آرڈرن نے لیول تھری لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، غیرضروری کاروبار بند کر دیے گئے، اجتماعات منسوخ ہو گئے اور تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔
چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ
لاک ڈاؤن کے باعث غاروں میں چھپ جانے والے سیاح برآمد
ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا حکم دے دیا گیا، پبلک ٹرانسپورٹ صرف اشد ضروری کام کرنے والوں تک محدود کر دی گئی اور ملک کے اندر پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
25 مارچ کو نیوزی لینڈ میں لیول فور کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا جس میں لوگوں کے سوائے اشد ضرورت کے، گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا، اس صورت میں بھی دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنا لازم قرار دے دیا گیا۔
پورے نیوزی لینڈ میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کر دی گئی، پچاس لاکھ کی آبادی میں سے ایک لاکھ 23 ہزار 920 ٹیسٹ اب تک لیے جا چکے ہیں۔
9 اپریل کو کورونا کے کیسز کم ہو چکے تھے اس کے باوجود سرحدوں پر آمد و رفت کی پابندی مزید سخت کر دی گئی اور باہر سے آنے والے نیوزی لینڈ کے شہریوں کے لیے گھر کے بجائے حکومت کے تیارکردہ قرنطینہ سنٹرز میں دو ہفتے الگ تھلگ رہنا لازمی کر دیا گیا۔