• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

قصہ ساڑھے چار درویش (حصہ اول)

by sohail
اپریل 28, 2020
in کالم
1
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ڈاکٹر ظفر الطاف کے چار مرشدان گرامی ڈاکٹر اجمل، ڈاکٹر طارق صدیق، ایس۔کے۔ محمود اور عبدالحفیظ کاردار کے چھوٹے موٹے قصے

(تین اقساط کی پہلی قسط)

”سبحان اللہ، کیا صانع ہے کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹی کی مورتیں پیدا کیں! باوجود دو رنگ کے ایک گورا ایک کالا اور یہی ناک، کان، ہاتھ پاؤں سب دیئے۔ تس پر رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں۔“

 قصہ چہار درویش شہرہ آفاق کلاسیک جو فارسی میں امیر خسرو نے لکھی تھی  اس کا مروجہ اردو لب و لہجے میں انگریز  جان برتھوک گل کرائسٹ کی فرمائش پر فورٹ ویلم کالج کے استاد میر امن نے ایسا ترجمہ کیا کہ بعد میں کسی ترجمے کو اردو زبان میں ویسا شرف و قبولیت نہ مل پایا۔ اس کا آغاز یوں ہوا ہے جوں ہم نے کیا۔

ہمارے قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے

ڈاکٹر ظفر الطاف کو عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی، ان چار افراد سے بڑی خصوصی عقیدت و انسیت تھی، ان میں سے تین بزرگوں کا تعلق لاہور سے، ایک کا یعنی ڈاکٹر طارق صدیقی کا لکھنو اور کراچی سے تھا۔ جان لیں گنتی کے حساب سے تو یہ بزرگ بشمول ڈاکٹر ظفر الطاف پانچ ہی بنتے ہیں مگر چونکہ ڈاکٹر صاحب ان چاروں کو مرشد اور مکرم مانتے تھے لہذا ہم ان کا شمار نصف یعنی ساڑھے میں کرتے ہیں۔

وزارت زراعت میں ایک بڑبولی حریم شاہ کی ہم شکل خاتون ان سے پنجابی کے بوجھ سے دوہری ہکلاتی انگریزی میں کہیں سے سن سناکر ہماری شکایت لگاتی کہ دیوان صاحب نے سر جی آپ کو آدھا مرد کہا ہے۔ تسی بہت لفٹ دین دے او تے بوتا اوکھا ہوندا ہے۔  یہ سن کر وہ مسکراتے۔ آہستہ سے اسے کہتے Don’t be silly he only means setting my own value against those giants. Diwan is right. Ok you go to France. There is conference on rice.

 میر امن دہلوی نے کہا تھا نا کہ یہ ہی ہات پاؤں ناک کان سب دیے اس پے رنگ بہ رنگ شکلیں جدی جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول نہیں ملتا۔“

 سو ان ساڑھے چار درویشوں میں دو صفات مشترک تھیں۔ سب کا رنگ روپ ڈیل ڈول جدی جدی تھا مگر سب کے سب بے حد تعلیم یافتہ، باکردار اور وضع دار لوگ تھے۔ کردار کی اسی پختگی، اصول پرستی اور بے باکی و حق گوئی نے تین کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے، ایس کے محمود کو پہلے ایوب خان اور بعد میں جنرل ضیاالحق کے سامنے اور آدھے درویش یعنی ہمارے مربی و مشفق ڈاکٹر ظفر الطاف کو جنرل پرویز مشرف اور حمزہ دودھ والے کے سامنے کھڑا کردیا تھا۔

 جو افراد بھٹو صاحب کے سامنے سینہ سپر ہوئے وہ یہ تین افراد تھے، ڈاکٹر طارق صدیقی، عبدالحفیظ کاردار اور ڈاکٹر اجمل۔

 کمال یہ ہے کہ عبدالحفیظ کاردار اور ڈاکٹر اجمل تو کئی لحاظ سے بھٹو صاحب کے لیے دیوتا سمان تھے۔ ممبئی میں ذوالفقار علی بھٹو گھنٹوں اپنے بڑے بھائی امداد علی بھٹو کے ساتھ کاردار صاحب کو کھیلتا دیکھتے تھے۔ امداد علی انہیں انڈین کرکٹ کلب ڈنشا روڈ چرچ گیٹ ممبئی میں چھوڑ کر خود اداکارہ نرگس کے پیچھے خوار ہونے نکل جاتے تھے۔ بھٹو فیملی کا ایک گھر ورلی سی فیس کے علاقے میں تھا اور وہ ان دنوں Cathedral and John Connon School ممبئی میں طالب علم تھے۔ یہ حوالہ ہم سے مت منسوب کریں، ہم نے بھی ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنا ہے۔

ایس کے محمود اور ڈاکٹر طارق صدیقی دونوں سی ایس پی تھے۔ اصلی تے وڈے، آجکل ڈبے کے دودھ والے، رو کے روٹی مانگنے والے، کردار میں لڑکھڑاہٹ، سوچ میں ہکلاہٹ اور زبان گونگی۔ بابا بلیک شپ قسم والے افسر نہیں۔

ڈاکٹر اجمل جو شعبہء نفسیات گورنمنٹ کالج کے بانی سربراہ تھے، ان کا ایک کارنامہ اور بھی ہے۔ وہ پاکستانی فوج میں نفسیاتی جنگ کے شعبے کے مشیر تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل، پنجاب یونی ورسٹی کے چانسلر اور ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں مرکزی سیکرٹری تعلیم بھی رہے۔

لاہور ایک عرصے تک ان افراد کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ بھٹو صاحب کے دور میں کاردار صاحب صوبائی وزیر تعلیم تھے اور ڈاکٹر طارق صدیقی ان کے سیکرٹری۔ حنیف رامے وزیر اعلیٰ دونوں کے دل و جان سے گرویدہ تھے۔ حنیف رامے جیسا پڑھا لکھا علم دوست وزیر اعلیٰ قیام پاکستان سے آج تک کسی صوبے کو نہیں ملا۔ ان کا مرقعہ غالب کیا نفیس فن پارہ تھا۔

 ڈاکٹر اجمل کا معاملہ

ڈاکٹر اجمل کا معاملہ ذرا Mild تھا۔ گرما گرمی نہ ہوئی، بس بھٹو صاحب کو ان کی ایک بات بری لگی تو انہیں ان کے سیکرٹری وزارت تعلیم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

 ایک دوپہر سن 1978 لنچ پر ڈاکٹر ظفر الطاف کے گھر کے عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر اجمل، طارق سعید ہارون سی ایس پی موجود تھے۔ ہم ایسے میں جونیر موسٹ افسر ہوتے تھے، افسر مہمانداری۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر ہی پر ایک کمرے میں قیام رہتا تھا۔

لنچ پر یہ دلچسپ مرحلہ آیا کہ دونوں یعنی کاردار صاحب نے، ڈاکٹر اجمل نے ایک دوسرے سے پوچھ لیا کہ وزیر اعظم ان کی کس بات سے خفا ہوئے کہ انہیں ان کے دونوں کو عہدے سے آناً فاناً ہٹا دیا گیا۔

 دونوں پرانے لاہوری دوست تھے لہذا پہلے آپ، پہلے آپ ہوتی رہی پھر ڈاکٹر اجمل کہنے لگے کہ وہ پہل کرتے ہیں۔ بیک گراؤنڈ انفارمیشن یہ ہے کہ سردار داؤد افغانستان کے سن 1973 سے 1978 کے عرصے میں صدر تھے۔ یہ وہ عرصہ جس میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

سردار داؤد کا جھکاؤ روس کی طرف تھا اور وہ ایک انتہاپسند قوم پرست پختون رہنما تھے۔ پاکستان سے اس قدر ناخوش رہتے تھے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس میں خود نہ آئے بلکہ اپنے وزیر اعظم عبدالرحمن پژواک کو اپنی جگہ بھیج دیا۔ ولی خان کے اور بلوچ قوم پرستوں کے بہت بڑے حامی تھے۔ یہ سب باتیں بھٹو صاحب کے مزاج سے متصادم تھیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ خالد کو سمجھانے کو کہا تو  شاہ خالد نے عمرے کے دوران حجر اسود پر ہاتھ رکھوا کر پچاس کروڑ ڈالر کی اضافی امداد کا لفافہ پکڑا کر سردار داؤد سے وعدہ لیا کہ وہ پاکستان مخالفت سے باز رہیں گے۔

 اگست 1976 میں البتہ جب پاکستان آئے تو بھٹو صاحب نے اس دورے میں چالاکی یہ دکھائی کہ ان کی نفیساتی profiling کے لیے ایک آدھ سرکاری مجالس میں ڈاکٹر اجمل کو بھی شامل کیے رکھا۔ ایئر پورٹ سے سردار داؤد کو رخصت کر کے جس وقت واپسی ہو رہی تھی وزیر اعظم نے اپ ڈیٹ کے لیے ڈاکٹر اجمل کو ساتھ کار میں بٹھا لیا۔ ڈاکٹر اجمل کہنے لگے میں بھٹو کی ذہانت کو اس وقت مان گیا کہ جب اس نے نفسیات کے حوالے سے یہ گہری بات پوچھی کہ ”ڈاکٹر صاحب اگر دوران گفتگو کوئی شخص ایک ہی لفظ بار بار استعمال کرے تو کیا اسے اس کی شخصیت کے حوالے سےKey -Word  مانا جاسکتا ہے۔ میں نے یہ بات یوں پوچھی کہ میں نے اور آپ نے دیکھا سردار داؤد اپنی گفتگو میں لفظ Decent  بہت استعمال کر رہا تھا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ وہ غیر شعوری طور پر اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ بہت نفیس اور اعلی شخصیت کا حامل ہے؟“

میں نے جواب دیا ”انڈیڈ پرائم منسٹر۔ آپ نے بہت کمال کا نقطہ نکالا۔ یقینا وہ بہت نفیس اور اعلیٰ شخصیت کا حامل ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ آپ تو جانتے ہیں کہ سردارداؤد کا تعلق بہت باوقار روایتی شاہی خاندان سے ہے“۔ میرا یہ جواب سن کر  دو منٹ کی خاموشی اور ری۔ فلیکشن کے بعد ان کی جانب سے ایک بمب شیل آیا۔ ” ڈاکٹر صاحب اللہ کو گواہ بنا کر ایمانداری سے مجھے بتائیں کہ میں کون سا لفظ دوران کلام بہت استعمال کرتا ہوں؟“۔

ڈاکٹر اجمل نے ایک لمحے کو سکوت اختیار کیا۔ لنچ کی میز پر ڈاکٹر ظفر الطاف کے ایف ایٹ شاہ فیصل مسجد کے قریب والے گھر پر ہم سب کے چہروں کا بہت دھیمے سے جائزہ لیا اور کہنے لگے ”لو جی اسکپر (کاردار صاحب کو سبھی لوگ اسکپر کہتے تھے۔ اس کی وضاحت ہم کاردار صاحب والے حصے میں کریں گے) میں نے کچھ زیادہ ہیHonesty دکھائی اور کہدیا کہ پرائم منسٹر آپ غیر شعوری طور پر  Sadist (اذیت پسند۔ وہ جو دوسروں کو ضرر پہنچا کر شدید لطف لے) کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل کے اگلے کلمات پنجابی میں تھے مگر ہم اردو میں لکھتے ہیں۔ مجھے لگا کہ بھٹو غصہ سے بھڑک اٹھا ہے۔ اس پر کپکی طاری تھی۔ عمر اور منصب کا خیال نہ ہوتا تو وہ مجھ پر ٹوٹ پڑتا۔ وزیر اعظم ہاؤس کی پورچ میں گاڑی سے بغیر خدا حافظ کیے اتر کر اندر چلا گیا۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں اپنے گھر رفیع رضا کے ساتھ پہنچا کہ عزیز احمد وزیر خارجہ کے ساتھ۔ اگلے دن میری چھٹی ہو گئی۔

  ڈاکٹر طارق صدیقی

ظاہر ہے دوسرا سوال اب ڈاکٹر اجمل کی جانب سے آنا تھا کہ کاردار صاحب سے بھٹو کی ناراضگی کا سبب کیا بنا۔ وہ تو ان کو ہیرو اور اسکپر کہا کرتے تھے۔ کہنے لگے ”جب بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو میری مرضی یہ تھی کہ مرکز میں وزارت کھیل اور تعلیم کا قلمدان میرے پاس ہوتا۔ آئل اینڈ گیس کے حوالے سے بیرونی ممالک میں میرے جو تعلقات تھے ان میں مجھے وزیر اعظم اپنا مشیر خاص رکھتے۔“ مجھے بھٹو نے صوبائی وزیر تعلیم بنا دیا۔

 تعلیمی اداروں کو قومیانے کی میٹنگ میں لاہور میں جب میرے سیکرٹری ڈاکٹر طارق صدیقی، جو سن پچپن کے بیچ کے سی ایس پی تھے، انہوں نے اس تجویز سے جدا حکومت کا رول Supplementary and Regulatory رکھنے کا پالیسی اشارہ دیا تو بھٹو نے اسے اپنی مخالفت مانا۔ ڈاکٹر طارق صدیقی (جن سے بھٹو صاحب پہلے کچھ خاص واقف نہ تھے) ان کے بارے میں کچھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا تو میں نے بھی بھرے اجلاس میں کہہ دیا کہ Mr. Prime Minister my secretary is the ablest of officers and knows about education more than what we all collectively do.

کاردار صاحب کہنے لگے کہ میرے ذہن میں وہ ممبئی والا Hero -Worshipping, Wide -eyed Bhutto تھا۔

اس پر ڈاکٹر اجمل کہنے لگے کہ اقتدار کی بلندی پر آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس سے سر چکرانے لگتا ہے۔ ہم سب بھول گئے کہ بھٹو ایک شو بوائے قسم کا بے اصول جاگیردار تھا۔ اس کا  demeanor(ظاہری دکھاوا) ایک قسم کا کیموفلاج تھا مگر deep down he was an insecure despot  (وہ اپنی شخصیت کی اتھاہ گہرائی میں ایک غیر محفوظ آمر تھا)۔

ڈاکٹر صاحب بتاتے تھے کہ جے اے رحیم اور ان کے بیٹے سے بھٹو ناراض ہو گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جے اے رحیم آئی سی ایس افسر تھے۔ فارن سیکرٹری بھی رہے تھے اور پی پی کے بانی ممبران میں سے ایک تھے۔

ایک سرکاری ڈنر میں وزیر اعظم بھٹو کی آمد میں تاخیر ہوئی تو جے اے رحیم ناک بھوں چڑھا کر انہیں مہاراجہ لاڑکانہ کہہ کر ان کی آمد کا انتظار کیے بغیر نکل گئے۔ بھٹو تک اطلاع پہنچی تو وہ سیخ پا ہو گئے۔

رات کو وزیر اعظم کے سیکورٹی چیف سعید احمد خان جن کو پولیس میں سعید کٹا کہا جاتا تھا جے اے رحیم کو جوتم پیزار کر کے صبح کے ایک بجے گھر سے بیٹے سمیت لے گئے۔ ہم نے ان دو افسران راجہ سکندر زمان ڈی ایس پی اور راجہ فضل الرحمان کو جو سندھ کی سی آئی اے پولیس میں ڈی ایس پی تھے کی تحقیقات کو ہینڈل کیا ہے۔ یہ دونوں اس جسمانی تشدد کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے جب ان باپ بیٹوں کو کراچی منتقل کر دیا گیا تھا۔

ان دونوں کے خلاف جنرل ضیا کی مارشل اتھارٹیز نے کیس درج کیا تھا۔ بتاتے تھے ستر برس کے جے اے رحیم اور ان کے بیٹے کو وہ کیسے لال مرچوں کا enema دیتے تھے، سب بتاتے تھے۔

ہمیں ہدایات تھیں کہ ان کو پنڈی کے راجہ کنکشن کی بنیاد پر بحال تو کر دیا گیا ہے مگر انہیں بے توقیر رکھنا ہے۔ دونوں آنسوؤں سے روتے تھے۔ راجہ سکندر زماں دیکھنے سے ہی ایک خبیث، بے رحم، بے اصول پولیس والا لگتا تھا۔ ہمارے لیے کہتا تھا کہ ‘میمنوں میں بھی ہلاکو اور حجاج بن یوسف ہو سکتے ہیں۔ یہ دیوان صاحب کو دیکھ کر یقین آتا ہے۔’ اس کا یہ گلہ سن کر ہمارا اسسٹنٹ علی محمد سموں کہا کرتا تھا۔ اڑے گھوڑا رے گھوڑ االلہ پناہ۔ ایسا ظالم ہے کہ تیرے بھیجے میں گولی مار کر بوہریوں کی ہاتھ کی بنی پستہ آئس کریم کھانے لگ جائے گا۔ اس کی میمنوں میں کوئی عزت نہیں جبھی تو فورتھ کامن میں آیا ہے ورنہ اچھا آدمی ہوتا تو اس کی جوڑیا بازار میں کپڑے کی دکان ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب جن کی ڈاکٹر طارق صدیقی اور ان کے خاندانی دوست اور بیچ میٹ ڈاکٹر شعیب سلطان سے بہت ہی گہری نیاز مندی تھی، تقریباً روز کا ملنا تھا۔ انہوں نے بعد میں ہماری معلومات میں وقفے وقفے سے کئی اضافے کیے۔

پہلا تو یہ کہ اسکپر  کی بات نہ مانی گئی تو انہوں نے وزارت کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ یوں بھٹو کو اور بھی آگ لگی کہ ایک تو بھری محفل میں ایک بیوروکریٹ کو ان پر ترجیح دی گئی۔ دوسرے سرکار کی پالیسی کو بودی اور فضول ثابت کرنے کے لیے عبدالحفیظ کاردار نے سرکار کو لات مار کر ایک طرف کر دیا۔ طے ہوا کہ اس بات کا سبق سکھانا ہے۔

 اپنے ساتھیوں کو  Fix -Up کرنا ان کے مزاج کا حصہ تھا۔ جے اے رحیم، معراج محمد خان، مختار اعوان اور ایم این سیالکوٹ کے ملک سلیمان کو وہ ان کی مخالفت کا مزہ چکھا چکے تھے اور کئی دوسروں کو بشمول نواب محمد خان قصوری کو مبینہ طور پر مروا چکے تھے۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی چھ ستمبر  1977 کی اشاعت میں اس کا تفصیلی احوال درج کیا۔ اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک نیچے گر سکتے تھے۔ اس بات کا کاردار صاحب کو بخوبی علم تھا۔ ایسے میں اسکپر کو کسی نے اندرون شہر اطلاع دی کہ لاہور کی ہیرا منڈی کا ایم پی اے، کنجروں کا سرتاج اور صوبائی وزیر جیل خانہ جات جیل سے افتخار تاری کچھ قیدی غنڈے نکال کر آج رات کسی وقت ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرے گا۔ ڈاکٹرظفر الطاف ان دنوں پنجاب فلور ملز کے ڈائرکٹر فنانس تھے۔ انہیں علم ہوا تو سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے اپنے چند دوستوں کو جمع کیا اور کاردار صاحب کے اہل خانہ کو محفوظ مقامات پر شفٹ کیا اور پھر یہ تمام دوست اسلحہ لے کر کاردار صاحب سمیت مختلف کھڑکیوں میں بیٹھ گئے۔ شاید چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی راڑی بدمعاش کے عزائم کی بھنک مل گئی تھی۔ کسی پولیس افسر کے ذریعے ہیرا منڈی کے چیف آپریٹنگ افسر مامے مودے کو پیغام بھیجا گیا کہ اس سے کہو بندے دا پتر بن جائے۔ یوں یہ حملہ روک دیا گیا۔ کسی بات پر جب سرکار افتخار تاری سے ناراض ہوئی تو انہیں بدنام زمانہ دلائی کیمپ منتقل کردیا گیا جہاں انہیں دریائے نیلم میں سخت سردی میں ننگا لٹکایا جاتا تھا۔ افسروں کے غصے، کاردار صاحب پر حملے اور تاری کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک کو سامنے رکھیں تو سمجھ میں آ جائے گا کہ بیوروکریسی اور خراب عورت اپنے ساتھ کیے گئے سلوک کو کبھی نہیں بھولتی۔

ڈاکٹر صاحب تا دم مرگ ڈاکٹر طارق صدیقی کے مداح رہے، کہا کرتے تھے کمال کا ڈکشن اور لاجک ہوتی تھی۔ انگریزی ایسے کے پیپر میں ڈاکٹر صاحب کا مضمون اتنا اچھا تھا کہ انہیں پورے ایک سو پچاس نمبر ملے۔

ڈاکٹر طارق کے والد بھی کانپور میں انکم ٹیکس کمشنر تھے۔USAID  افسروں کو پی ایچ ڈی کی دو عدد اسکالرشپ دیا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے اسکالر شپ تین کرنی پڑیں۔ وہ دوران تربیت جب آکسفورڈ میں تھے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کئی مرتبہ اسرائیل بھی گئے۔ برطانیہ میں زیر تعلیم ایک یوگوسلاوین جنرل کی بیٹی ان پر مرمٹی تھی، شادی بھی ہوئی مگر جمائما خان کی طرح اس بے چاری کو پاکستان کا موسم پسند نہ آیا۔

ہم نے پوچھا اصل قصہ وہی تھا جو اسکپر نے ان کے نوکری سے فارغ ہونے کا بیان کیا تھا۔ وہ کہنے لگے دو باتوں پر دھیان رکھو۔ یہ اردو اسپیکنگ سی ایس پی افسر قابل تو یقینا بہت تھے مگر ایمانداری اور اصول پرستی کی وجہ سے ان میں ایک Haughtiness  (تکبر کا اظہار) بھی بہت ہوتا تھا۔ Isolationist بھی بہت تھے۔ بھٹو اول آخر سندھی تھا۔ مہاجروں سے نفرت کوٹ کوٹ کر دل میں سمائی ہوئی تھی۔ ان کی قابلیت اور سندھ میں خوش حالی اس کے دل میں کانٹا بن کر کھٹکتی تھی۔ ممکن ہے اس کا رویہ مسرور حسن خان، ہاشم رضا، اکبر عادل، عباس خلیلی، جعفری برداران کی وجہ سے بھی ہو جو اسے برملا فیک، مکار اور بے اصولا سمجھتے تھے۔ سندھ میں بھٹو کا واسطہ ان ظالموں سے پڑتا ہوگا تو اسے اپنے وڈیرے پن میں تحقیر محسوس ہوتی ہو گی۔

شعیب سلطان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طارق صدیقی کو اصل نقصان سی ایس پی دشمن قادیانی اور مسعود محمود کے رشتہ دار اکاؤنٹس گروپ کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ وقار احمد نے پہنچایا۔ وہ بہت کڑوا انسان تھا۔ ہوا یوں تھا کہ پنجاب میں ڈائرکٹر تعلیمات کی ایک میٹنگ میں ایک ڈائرکٹر صاحب نے ضد پکڑ لی کہ وزیراعظم کے احکامات کچھ اور ہیں اور سیکرٹری صاحب کی ہدایات کچھ مختلف۔ جس پر ڈاکٹر طارق صدیقی نے کہا ”صاحب کو گولی مارو“۔ کچھ کیس انسانی ہمدردری کی بنیاد پر دیکھنے ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور محکمے میں ملازم میاں بیوی کی ایک ہی شہر میں پوسٹنگ ہونی چاہیے۔ یہ بات نمک مرچ لگا کر بیان کی گئی اور وقار احمد نے انہیں نوکری سے فارغ کر دیا۔

کچھ دنوں بعد دونوں اور ساتھیوں شیعب سلطان اور ظفر اقبال کی بھی چھٹی ہو گئی۔ شعیب سلطان رورل اکیڈیمی پشاور اور ظفر اقبال روٹی پلانٹ کے افسر تھے۔ ان دنوں ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کا لال کارپٹ والا سیکرٹریٹ پنڈی میں ہوتا تھا۔ ہم ڈاکٹر صاحب کے ماتحت تھے۔ اعجاز نائیک سیکرٹری کیبنیٹ کمال کے افسر تھے۔ دوسرے بھائی نیاز نائیک پاکستان کے سیکرٹری خارجہ تھے۔ دونوں غیر شادی شدہ اور پکے ایماندار کلاسیکل آئی سی ایس افسر۔

اعجاز نائیک صاحب نے ظفر اقبال اور شعیب سلطان کو تو نوکری میں بحال کر دیا کہ آئی ایس آئی نے بھی جنرل فیض علی چشتی کو ان کے بارے میں اچھی رپورٹ دی تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جیلانی جو بعد میں پنجاب کے گورنر بنے اور دنیا میں سب سے برا کام نواز شریف کو سیاست میں لانے کا کیا۔ ان کے دل میں ان تینوں افسروں کا بہت احترام تھا۔ ظفر اقبال اور شیعب سلطان تو بحال ہو گئے مگر چونکہ ڈاکٹر طارق صدیقی نے بحالی کی کوئی درخواست نہ دی تھی لہذا یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا رہا۔ وہ کہتے تھے سرکاری طور پر میرا جواب موجود ہے۔ جب ایک پوری حکومت ہی اپنے ہر عمل میں غلط تھی تو میرے معاملے میں بھی اسے غلط مانا جائے۔ میں کوئی درخواست نہیں دوں گا۔ درخواست کی ضد نور الحسن جعفری کی تھی جنہیں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن لگایا گیا تھا۔ اکاؤنٹس گروپ کے بزدل ترین اور بہت ہی فضول افسر تھے اپنا نام  y N.H. Jaffer لکھتے تھے مگر ان کی تنگ دلی اور فائلوں کو خوار کرنے کی وجہ سے افسروں کا ٹولہ انہیں  Never Helpful Never Happy Never Healthy, جعفری پکارتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے معاملات اب براہ راست جنرل چشتی دیکھا کرتے تھے اور اعجاز نائیک سے بنتی نہ تھی۔ مشکل آن پڑی کہ معاملہ کیسے حل ہو، بالآخر شعیب سلطان، بریگیڈئر فضل الرحیم، بریگیڈئر ریاض، طارق سعید ہارون سب کے سب ڈاکٹر ظفر الطاف کی رفاقت میں جنرل چشتی سے ملے انہیں سمجھایا کہ جنرل تو پاکستان میں نائب اللہ فی الارض ہیں۔ اتنا ایماندار، بے باک، قابل خاندانی افسر وہ بھی گریڈ بیس کا۔ اس کیس میں سو موٹو کا پاور استعمال کریں۔ جس طرح چینی کھانوں کی جان اجینو موٹو ہے ایسی ہی جنرلوں کی شان ان کی کاندھے پر ستاروں تلواروں کی صورت میں آویزاں طاقت ہے۔ اسی وقت فائل منگا کر جنرل صاحب نے انہیں بحال کردیا جس پر ڈاکٹر ظفر الطاف نے کہا ہیرے کی قدر جوہری اور سویلین افسر کی قدر حاضر سروس جنرل جانتا ہے۔ طارق صدیقی صاحب مختلف عہدوں پر دیانت اور قابلیت کے جوہر بکھیرتے ہوئے بالآخر قائد اعظم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔

sohail

sohail

Next Post

ہزاروں ارب کے مبینہ گھپلے، آئی پی پیز کے خلاف مزید تحقیقات متوقع

کورونا مریضوں کا علاج کرنیوالی امریکی خاتون ڈاکٹر نے خود کشی کیوں کی؟

کورونا مریض کو فون کرنے والا بھی قرنطینہ میں؟ سوال پوچھنے پر صحافی گرفتار

کورونا مریضوں میں خون کے پراسرار لوتھڑوں کی موجودگی کا انکشاف

سعودی عرب میں پابندیوں کا خاتمہ اور ملازمت کی تلاش میں نکلی خواتین کا سیلاب

Comments 1

  1. KHALID SHOUQ says:
    6 سال ago

    ڈاکٹر ظفر الطاف نے کہا ہیرے کی قدر جوہری اور سویلین افسر کی قدر حاضر سروس جنرل جانتا ہے۔

    جواب دیں

KHALID SHOUQ کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In