سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان کے عروج کے بعد سماجی اورمعاشی سطح پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ سعودی عرب میں اب خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دیدی گئی ہے، سینماؤں کو کھولا گیا ہے اور مردو خواتین کو کنسرٹس اور عوامی مقامات پر اکٹھے ہونے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔
ان سعودی اصلاحات کے حوالے سے تنقید کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔
خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے بعض کارکنوں کو، جو ڈرائیونگ پابندی ختم کرنے کی مہم میں نمایاں تھے، حراست میں لے کر مبینہ طور پر تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
سعودی عرب کا قیدیوں کے لیے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
سعودی عرب میں نمایاں ہونیوالی ان تبدیلیوں نے کئی عشروں سے امتیازی سلوک اور پسماندگی دور کرنے کیلئے سعودی خواتین کی حوصلہ افزائی کی ہے، ان میں ایسی گریجوایٹس خواتین بھی شامل ہیں جو یورپ اور امریکہ سے اپنے ملک میں ملازمت کیلئے واپس آ رہی ہیں۔
سعودی عرب میں اصلاحات کے بعد ہزاروں خواتین ملازمت کی تلاش میں جاب مارکیٹ میں داخل ہوگئی ہیں جسے لیبر مارکیٹ میں خواتین کے سیلاب اُمڈ آنے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔
25 سالہ رو الموسیٰ ہزاروں دیگر خواتین کے ساتھ سعودی مارکیٹ میں ملازمت تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
قدامت پسند سعودی رویوں کی پابند اور کالج ڈگری سے لیس 25 سالہ موسیٰ کسی مناسب ملازمت ملنے سے پہلے برسوں انتظار کی توقع کر رہی تھیں لیکن تبدیلیوں کے دوران انہیں ریاض کے حکومتی ادارہ میں شام کی شفٹ میں ایک استقبالیہ کی ملازمت مل گئی ہے جہاں 10 کے گروپ میں 4 خواتین جبکہ 6 مرد شامل ہیں۔
موسیٰ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی تعلیم کے دوران پوری کوشش کررہی تھی کہ تعلیم کے مکمل ہونے کے بعد اکیڈمیا میں نوکری مل جائے کیونکہ ان کے لیے یہی بہترین آپشن تھا لیکن پچھلے چار سالوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اب میری تقریبا تمام دوست لڑکیاں کام کررہی ہیں اور اگر ان میں سے کسی کو نوکری نہیں ملتی تو یہ عجیب لگتا ہے۔
پچھلے کئی عشروں سے سعودی عرب میں خواتین کو ملازمتوں کے محدود مواقع مہیا کیے گئے تھے اور صحت و تعلیم کے شعبہ میں انہیں کام کرنے کی اجازت تھی۔
گارڈین شپ کے سسٹم کی وجہ سے مرد رشتہ دار خواتین کے ملازمت کی راہ میں حائل تھے۔ تاہم 2016ء کے وسط میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی معاشی ماڈل میں تیل پر انحصار کم کرنے اور وژن 2030ء کے اعلان کے بعد سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
سعودی عرب میں ٹورازم اور انٹرٹینمنٹ سیکٹر کو پروموٹ کیا جا رہا ہے، خواتین سے ملازمتوں کی پابندیوں کے خاتمہ کے بعد لاکھوں خواتین کیلئے ملازمتوں کے دروازے کھل گئے ہیں۔
سعودی شہری فاطمہ الداخل کو کئی ماہ کی کوششوں کے بعد سعودی عرب کے شہر خوبر میں فرانسیسی کمپنی میں سیلز منیجر کی ملازمت مل گئی ہے، سعودی عرب میں کورونا وباء کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دخل کی طرح دیگر ہزاروں خواتین کو بھی گھر سے کام کرنا پڑ رہا ہے تاہم وہ پر امید ہیں کہ ان حالات کے بعد بھی خواتین اپنا کیرئر جاری رکھیں گی۔
23 سالہ سارہ الدوساری، دیگر تین خواتین کے ہمراہ ریاض مرکز کے پنوراما مال کے اندر کپڑوں کے اسٹور میں ملازمت کرتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کام کرنیوالی خواتین کے بارے میں لوگوں کا نقطہ نظر خراب تھا، لیکن اب یہ رویہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور کسٹمرز کا کہنا ہے کہ وہ اب ہم پر فخر کرتے ہیں۔
بھارت کا اپنے شہریوں کو لے جانے سے انکار یو اے ای سے تعلقات خراب کر سکتا ہے
یو اے ای کی شہزادی جس کی دھمکی کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا
2019ء کی تیسری سہ ماہی میں سعودی عرب میں کام کرنیوالی خواتین کی تعداد دس لاکھ سے اوپر پہنچ گئی ہے جبکہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2015ء تک 8 لاکھ 16 ہزار خواتین ملازمت کر رہی تھیں۔
سعودی عرب میں ایک کاروباری شخص نے حال ہی میں 19 خواتین کو ملازمت پر رکھا ہے، ان کا کہنا تھا کہ گاہک خاص طور پر خواتین، سٹورز پر خواتین معاونین کے ساتھ بہتر محسوس کرتی ہیں جس سے فروخت اور منافع میں اضافہ ہوا ہے۔
سامبا فنانشل گروپ میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ٹاپ پوزیشن پر کام کرنیوالی پہلی سعودی خاتون رانیا نشر کا کہنا ہے کہ سعودی خواتین کو با اختیار بنانے کامطلب سعودی خاندان کو با اختیار بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی خواتین اپنے ملک کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہشمند اور پرجوش ہیں۔