روس اور برازیل دو ایسے ممالک ہیں جن کے متعلق کورونا کا نئے مرکز بننے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
برازیل
برازیل کے صدر جیئر بولسونیرو نے وبا کے آغاز میں ہی اسے صرف فلو کی ایک قسم بتا کر رد کر دیا تھا اور وہ حزب اختلاف اور میڈیا کی تنقید کے باوجود اپنی بات پر قائم ہے۔
اس ضد کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس ملک کے اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش ختم ہو گئی ہے اور اندازہ ہے کہ لوگ گھروں پر مر رہے ہیں۔
برازیل کے صدر نے کورونا وائرس کے مسئلے کو میڈیا کی چال قرار دے دیا
کورونا وائرس برازیل کے مقامی باشندوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے
اب تک برازیل میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 67 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ ساڑھے چار ہزار افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
میڈیا کے مطابق مریضوں اور ہلاکتوں کی حقیقی تعداد اسے سے کہیں زیادہ ہے، کچھ سائنسدانوں کے خیال میں 10 لاکھ شہریوں کے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔
21 کروڑ کی آبادی تک مشتمل کے اس ملک میں سردیوں کا آغاز ہو رہا ہے جس کے باعث سانس کے مسائل میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
روس
روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 4 سو 11 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 93 ہزار 5 سو ہو گئی ہے۔
مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے روس اس وقت دنیا میں 8 ویں نمبر پر آ گیا ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا سے 8 سو 67 اموات واقع ہو چکی ہیں، مریضوں کی تقریباً آدھی تعداد کا تعلق ماسکو سے ہے۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے کام نہ کرنے کی مدت میں 11 مئی تک توسیع کر دی ہے، جبکہ لاک ڈاؤن کو بھی 13 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔