بھارت کی یونین ٹیرٹری اندامن ،نکوبار جزیرہ میں کورونا وباء سے متعلقہ سوال پوچھنے کے الزام میں پولیس نے صحافی کو گرفتار کر لیا۔ زبیر احمد نے سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ٹویٹرکے ایک ٹویٹ میں پوچھا تھا کہ کورونا کے ایک مریض سے فون پر بات کرنے پر ایک خاندان کو قرنطینہ میں کیوں رکھا گیا۔
زبیر احمد نے اخبار میں آنیوالی ایک رپورٹ سے متعلق ٹویٹ کیا تھا جس میں بتایا گیا کہ اندامن کے ایک قصبہ ہدو میں ایک خاندان کے چار افراد کو گھر میں قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی جس میں سے ایک نے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنیوالے ایک رشتہ دار سے فون پر اس کا حال احوال پوچھا تھا۔
مودی حکومت نے بھارت میں آزادی صحافت کا خاتمہ کیسے کیا؟
مودی حکومت کی آمریت، کشمیری فوٹو گرافر مسرت زہرہ پر قید کے سائے منڈلانے لگے
یہ رپورٹ اندامن کورونیکل میں 26اپریل کو شائع ہوئی جس کا ذکر 27 اپریل کو زبیر احمد نے اپنے ٹویٹ میں کیا تھا اور اسی شام انہیں مقامی پولیس کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا۔
ایک اور ٹویٹ میں زبیر احمد نے کہا کہ ’درخواست ہے کورونا کی وجہ سے قرنطینہ کیے گئے افراد کو فو ن نہ کریں، لوگوں کو فون کالز کے ذریعے ٹریس کر کے قرنطینہ کیا جارہا ہے‘۔
اندامن کورونیکل کے ایڈ یٹر انچیف ڈینس جائلز نے ’دی نیو ز منٹس‘ کو بتایا کہ چار پولیس اہلکار زبیر کے گھر آئے اور انہیں بتایا کہ ابردین پولیس اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے انہیں ٹویٹس سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔
زبیر احمد پہلے اندامن کورونیکل سے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر وابستہ رہے اور اب فری لانس جرنلسٹ کے طور پرکام کر رہے ہیں، انہوں نے سابقہ ایڈیٹر کو کال کی اور بتایا کہ انہیں پولیس نے اٹھالیا ہے۔
اندامن کورونیکل کے ایڈ یٹر نے بتیا کہ زبیر احمد کو پولیس اسٹیشن لے جانے کیلئے اسپیشل فیری کا انتظام کیا گیا (کورونا وباء کی وجہ سے جزیرہ پر فیری بند کر دی گئی تھیں)۔
انہوں نے کہا کہ مجھے شک ہوا کہ پولیس نے انہیں کس بات پر اٹھایا ہے، اس دوران زبیر احمد کسی دوسرے شخص سے بات کررہے تھے لیکن اس کے بعد میرا ان سے رابطہ نہ ہوسکا، ایک گھنٹہ بعد ہ میں معلوم ہوا کہ پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔
زبیر احمد کو کورونا وباء سے متعلق عوام میں خوف پھیلانے کے الزام میں سیکشن 51 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ڈینس جائلز نے سوال کیا کہ کس طرح ایک سوال پوچھنے پر ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے؟
اندامن میں معلومات تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں کیونکہ چیف سیکرٹری چیتن سنگھی کے ٹویٹس کے علاوہ میڈیا کیلئے کوئی پریس بریفنگ کا اہتمام نہیں تو ہم کہاں سے معلومات حاصل کریں؟
بھارت میں لاک ڈاؤن کے نتائج، بھوک نے انسان اور جانور ایک برابر کر دیے
دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا
بعد میں اندامن کے ڈی جی پی دیپندرا پاٹھک نے زبیر احمد کی گرفتار ی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پیغامات عوام میں عدم اعتماد کو ہوا دیتے ہیں، قانونی کارروائی اس لیے ضروری تھی کہ علاقہ کے عوام خوف میں کوئی غلط بیانی نہ کریں اور لوگ احتجاج کیلئے جمع ہوکر بڑے پیمانے پر زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈال دیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ زبیر احمد کیخلاف کارروائی بالکل غیر جانبدارانہ انداز میں عمل میں لائی گئی ہے، یہاں تک کہ سرکاری افسران، ان کے شریک حیات اور بچوں تک کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مقامی عدالت نے صحافی زبیر احمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔