کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے ٹی وی اداکار رک کارڈیرو کے خون میں لوتھڑے (کلاٹس) جم گئے جس کے باعث ڈاکٹرز کو ان کی ٹانگ کاٹنا پڑی۔
اس وقت چین، یورپ اور امریکہ سے مسلسل ایسی رپورٹس آ رہی ہیں جن کے مطابق کورونا کے کئی مریضوں کے جسم میں خون جم کر چھوٹے چھوٹے لوتھڑوں کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں رہنے والے مریضوں میں خون جمنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کورونا مریضوں میں یہ شرح انتہائی زیادہ پائی گئی ہے۔
کورونا کو شکست دینے والی خاتون کی 9 اہم ہدایات جو آپ کے کام بھی آ سکتی ہیں
کورونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟
انتہائی نگہداشت وارڈ میں کام کرنے والی ایک ڈاکٹر شاری بروسناہن کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس چالیس سال کے عمر کے کئی مریض آئے ہیں جن کی انگلیوں میں خون کے لوتھڑے جم گئے تھے اور یوں لگتا تھا کہ انہیں کاٹنا پڑے گا۔
ان کے ایک مریض کے ہاتھوں اور پاؤں میں خون کی روانی رک گئی ہے اور ڈاکٹر شاری کا خیال ہے کہ اگر انہیں نہ کاٹا گیا تو خون کی رگوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خون کے لوتھڑے صرف باہری اعضاء کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ یہ پھیپھڑوں، دل یا دماغ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ہالینڈ کے ایک طبی جریدے تھرام باسس میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 184 مریضوں میں سے 31 کو یہی مسئلہ درپیش آیا ہے جو بہت ہی زیادہ بلند شرح ہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
نیویارک کے پریس بائیٹیرین اسپتال کے ڈاکٹر بہنود بکڈیلی نے اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی سطح کے ماہرین کو اکٹھا کیا، ان کی تحقیق امریکن کالج آف کارڈیالوجی نامی جریدے میں شائع ہوئیں۔
ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کورونا مریضوں کو اسقدر شدید خطرہ ہے کہ انہیں ٹیسٹ کرنے سے بھی قبل خون کو پتلا کرنے والی ادویات اور دیگر طبی اشیاء کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ابھی تک پورے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے لیکن کچھ ممکنہ وجوہات ماہرین نے پیش کی ہیں۔
ایک وجہ یہ ہے کہ آئی سی یو میں پہنچنے والے مریضوں کو پہلے ہی دل یا پھیپھڑوں کے عارضے لاحق ہوتے ہیں اور ان دونوں میں خون کے لوتھڑے جمنے کے امکانات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
کیا کورونا وائرس گرمیوں میں ختم ہو جائے گا؟ امریکی سائنسدانوں کی تحقیق نے امید جگا دی
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
دوسری وجہ یہ ہے کہ آئی سی یو میں پہنچنے والے مریضوں کو بہت طویل عرصہ کے لیے بستر تک محدود رہنا پڑتا ہے اور وہ خون کو متحرک رکھنے کے لیے چل پھر نہیں سکتے۔
یہ بات بھی اب واضح ہو چکی ہے کہ کورونا کا حملہ ہوتے ہی انسان کی قوت مدافعت ابنارمل انداز میں متحرک ہوتی ہے، بعض ریسرچرز کا خیال ہے کہ خون جمنے کی ایک یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
اس کی ایک وجہ وائرس خود ہو سکتا ہے کیونکہ دیگر وائرس سے پیدا ہونے والے مریضوں میں بھی اس کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
طبی جریدے دی لیسنٹ میں شائع ایک مضمون میں دکھایا گیا ہے کہ وائرس مختلف اعضاء کے اندرونی خلیوں اور خون کی رگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے، اسے اینڈوتھیلیم کہتے ہیں، یہ بھی ممکنہ طور پر خون جمنے کی وجہ ہوسکتی ہے۔
مائیکروکلاٹس کیا ہیں؟
بعض اوقات خون کے لوتھڑے اسقدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ خون پتلا کرنے والی ادویات کام نہیں کرتیں، ڈاکٹر شاری کا کہنا ہے کہ یہ اتنے باریک ہوتے ہیں کہ ہمیں یقین سے معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ کس جگہ موجود ہیں۔
بعض مریضوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے پھیپھڑوں میں سینکڑوں چھوٹے چھوٹے لوتھڑے بنے ہوئے تھے۔
مین ہٹن کے ملٹری ویٹرنز اسپتال کی ڈاکٹر سیسیلیا میرانٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ خون کے ان چھوٹے لوتھڑوں کی موجودگی سے یہ گتھی سلجھ جاتی ہے کہ بہت سے مریضوں پر وینٹی لیٹرز بھی کام کیوں نہیں کرتے۔
وینٹی لیٹرز پر موجود مریضوں کا پھیپھڑوں میں پانی ہونے کے نکتہ نظر سے علاج کیا جاتا تھا لیکن بعض مریضوں پر یہ کارآمد نہیں ہوتا تھا کیونکہ ان کے پھیپھڑوں میں موجود خون کے چھوٹے لوتھڑے آکسیجن کی مطلوبہ مقدار پیدا نہیں ہونے دیتے تھے۔
ڈاکٹر شاری کا کہنا ہے کہ وائرس عموماً عجیب و غریب طریقوں سے کام کرتے ہیں، جب ہم انہیں سمجھ جائیں گے تو اس مسئلے کا حل بھی خودبخود مل جائے گا۔