امریکہ میں مین ہٹن کے ایک اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کورونا مریضوں کا علاج کرنیوالی ڈاکٹر لورنا برین نے گزشتہ اتوار خود کشی کر لی۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور اس کے والد کی جانب سے ڈاکٹر لورنا برین کی خودکشی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
نیویارک کے ایلن اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر لورنا ایم برین چارلوٹسویلے میں مردہ پائی گئیں جہاں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ رہائش پذیر تھیں، اس بات کی تصدیق ان کے والد نے ایک انٹرویو میں کی ہے۔
کورونا وائرس کا علاج کرنے والے برطانوی ڈاکٹر کی درد بھری داستان
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستانی ڈاکٹر امریکہ کا ہیرو بن گیا
چارلوٹسویلے پولیس کی ترجمان ٹیلر ہان نے بتایا کہ ان کے ادارہ کو اتوار کے روز ایک طبی معاونت میں مدد کے لیے کال کی گئی، ہان نے بتایا کہ زخمی ہونیوالی ڈاکٹر کو یو وی اے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔
ڈاکٹر برین کے والد ڈاکٹر فلپ سی برین نے بتایا کہ اس کی بیٹی نے مریضوں پر کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات سے متعلق بات کی تھی۔ ان کہنا ہے کہ میری بیٹی نے اپنے فرض کی ادائیگی کی کوشش کی لیکن اس نے اسے مار ڈالا۔
بزرگ ڈاکٹر برین نے بتایا کہ ان کی بیٹی کورونا وائرس کا شکار ہوئیں لیکن وہ تقریباً ڈیڑھ ہفتہ گھر پر آرام کے بعد صحت یاب ہوکر کام پر چلی گئیں تاہم اسپتال نے انہیں دوبارہ گھر بھیج دیا، اس سے پہلے کہ ہم اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہمیں اسے اسپتال داخل کرانا پڑا۔
ڈاکٹر برین کے والد کے مطابق ان کی بیٹی کو کوئی ذہنی عارضہ لاحق نہیں تھا، لیکن انہوں نے بتایا کہ جب اس نے آخری مرتبہ اس سے بات کی تھی وہ الجھن کا شکار دکھائی دیں اور محسوس ہوتا تھا کہ کچھ غلط ہورہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری بیٹی ان مریضوں سے متعلق بات کرتی تھی جو ایمبولینس سے نکلنے سے پہلے ہی دم توڑ رہے تھے، وہ واقعتا کورونا وباء کیخلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والوں میں سے تھی۔
کورونا وبا کے خلاف جنگ میں اٹلی کے 100 سے زائد ڈاکٹرز جان کی بازی ہار گئے
ماں ! مجھے گلے سے لگا لو پلیز، 61 سالہ ڈاکٹر ماں جو بیٹی کی خواہش پوری نہ کرسکی
ایمرجنسی میڈیکل سروسز نیویارک کی سربراہ ڈاکٹر اینجلا ملز کی جانب سے اسپتال سٹاف کے نام بھیجی گئی ای میل میں ڈاکٹر برین کی موت کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
ای میل میں لکھا گیا کہ’موت ہمیں بہت سارے سوالات پیش کرتی ہے جن کا ہم جواب نہیں دے پاتے ‘۔
کام کے علاوہ ڈاکٹر برین کے مشاغل کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کو دوستوں نے بتایا کہ وہ نیو یارک سکی کلب کی ممبر تھیں اور وہ سکی اور سنو بورڈ کے لیے باقاعدگی سے جاتی تھیں۔
دوستوں کے مطابق وہ گہری مذہبی عیسائی تھیں جو ہفتہ میں ایک بار بڑی عمر کے لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے رضا کارانہ طور پر جاتی تھیں، وہ اپنی بہنوں اور والدہ کے بہت قریب تھیں جو ورجینیا میں رہتے ہیں۔
بروکلین اسپتال کوالٹی کیئرکی وائس چیئر ڈاکٹر لارنس کے مطابق ڈاکٹر لورنا برین کوبطور ڈاکٹر نیویارک میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا، انہوں نے بتایا کہ لورنا جس پوزیشن پر کام کررہی تھیں وہ آپ بغیر قابلیت کے حاصل نہیں کرسکتے۔
ڈاکٹر ملنیکر کے مطابق کورونا وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے نیو یارک میں ایمرجنسی شعبہ میں کام کرنیوالے فزیشنز کو شدید ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اُن کے مطابق ڈاکٹر لورنا اپنے ساتھ کام کرنیوالے ڈاکٹرز کیلئے حفاظتی لباس کی فراہمی کے لیے فکرمند ہوتی تھیں، حتیٰ کہ جب وہ کورونا وائرس کا شکار ہوکر گھر پر آرام کررہی تھیں اس دوران بھی وہ اپنے ساتھی ڈاکٹرز کو میسج کر کے پوچھتی تھیں کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کس طرح کام کیا جا رہا ہے۔