• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

فوجیوں کے درمیان لڑائی کے بعد چینی اور بھارتی میڈیا کے درمیان لفظی جنگ شروع

by sohail
جون 9, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں میں زیادہ تر ہاتھا پائی ہوئی ہے لیکن دونوں ممالک کے میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بھرپور جنگ شروع ہو گئی ہے۔

چین اور بھارت دونوں ہی ہمالیہ کی بلندیوں پر موجود علاقوں کی ملکیت کے دعویدار ہیں اور اسی وجہ سے حالیہ جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے بعد دونوں ممالک نے علاقے میں اپنی اپنی فوجی قوت میں اضافہ کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ہفتے کے روز اطراف کے فوجی کمانڈرز نے سرحد پر ملاقات کی ہے جس میں سرحدی علاقوں کی صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کی گئی ہے تاہم ابھی بھی تناؤ برقرار ہے۔

لداخ کے قریب چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

کیا پاکستان، چین اور روس ایشیاء سے امریکی ڈالر کی حکمرانی ختم کرنا چاہتے ہیں؟

چینی ہیکرز کورونا سے متعلق امریکی تحقیق چرا سکتے ہیں، امریکی حکام نے خبردار کر دیا

اس ملاقات سے پہلے چینی میڈیا نے علاقے میں پیپلزلبریشن آرمی کی نقل و حرکت کی ایک فوٹیج بھرپور طریقے سے دکھائی ہے جس میں جنگی جہاز اور فوجیوں سے بھرے ٹرک حرکت کر رہے تھے۔

Several thousand soldiers with a Chinese PLA Air Force airborne brigade took just a few hours to maneuver from Central China’s Hubei Province to northwestern, high-altitude region amid China-India border tensions. https://t.co/dRuaTAMIt0 pic.twitter.com/CtRJRk13IO

— Global Times (@globaltimesnews) June 7, 2020

چینی میڈیا کے مطابق اس فوٹیج کا مقصد ضرورت کے وقت فوری طور پر فوجی قوت سرحدوں پر پہنچانے کی صلاحیت دکھانا تھا، اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھگڑے کی غیرمصدقہ ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں تجزیہ کار ششیر گپتا نے لکھا ہے کہ چینی میڈیا کی طرف سے فوجی نقل و حرکت کی فوٹیج دکھانے کا مقصد ڈس انفارمیشن پھیلانا ہے تاکہ بھارتیوں کا حوصلہ پست کیا جا سکے اور ان میں خوف پیدا کر کے ان کی مذاکرات کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

جنگی بیان بازی

سی این این کے مطابق چینی صدر جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی قوم پرستانہ عزائم اور مستقبل کی عظمت کے دعویدار ہیں، اس کی وجہ سے جنگی جنون اور جارحانہ بیان بازی سامنے آتی رہتی ہے جس کا مقصد اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔

پیر کے روز بھارتی حکومت کی نمایاں ترین شخصیات نے جارحانہ لہجہ اختیار کیا ہے، وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھارتیا جنتا پارٹی کے ایک جلسے میں گھن گرج کے ساتھ کہا کہ بھارتی سرحدوں میں داخل ہونے والوں کو بھرپور سزا دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ کہتے ہیں امریکہ اور اسرائیل دو ایسے ممالک ہیں جو اپنے فوجیوں کے لہو کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیتے ہیں، مودی نے اب بھارت کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ بھی اس موقع پر پیچھے نہیں رہے اور کہا کہ میں ہر کسی کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بھارتی قیادت کسی کو ہماری عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے اور وہ یہ کہ ہم کسی بھی ملک کی سالمیت اور وقار کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور نہ ہی کسی کو بھارت کی سالمیت اور وقار کو نقصان پہنچانے دیں گے۔

طویل المدت جھگڑا

چینی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اخبار گلوبل ٹائمز میں فوجی تجزیہ کاروں نے ایک تحریر میں پیش گوئی کی کہ موجودہ کشمکش فوری طور پر ختم نہیں ہو گی، ٹھوس مسائل کو پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔

اس تجزیے کو پیپلزلبریشن آرمی کی سرکاری ویب سائیٹ پر دوبارہ شائع کیا گیا۔

بھارتی اخبار دی ہندو نے اپنے اداریے میں لکھا کہ اسٹیس کو کے لیے ضروری ہے کہ چینی فوجی وہ علاقہ خالی کر دیں جہاں انہوں نے کئی ہفتوں سے اپنے کیمپ قائم کیے گئے ہیں، چینی فوجوں کی مکمل واپسی کے بغیر بھارت کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔

اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ سرحدوں پر بات چیت اور سفارتکاروں کی سرگرمیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ بیجنگ سے پیپلزلبریشن آرمی کو ایسا کرنے کی ہدایت کی جائے، دوسری صورت میں بھارت کو طویل عرصے کی کشمکش کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

گزشتہ ہفتے بھارت اور آسٹریلیا نے دوطرفہ فوجی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، بھارت اس وقت امریکہ کے ساتھ بھی فوجی تعاون میں اضافہ کر رہا ہے جس میں جاپان سمیت تینوں ممالک مالابار کی مشترکہ بحری جنگی مشقیں شامل ہیں۔

بیجنگ نے بھی اس سرگرمی کا نوٹس لیا ہے، چینی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اخبار چائنا ڈیلی نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ چین اور بھارت کے ہوش مندانہ رویے کے برعکس چند پرجوش امریکی سیاست دان دو بڑے ہمسایوں کے درمیان عناد کو بڑھاوا دینے کے خواہشمند ہیں۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مدد کی پیشکش سے ممکن ہے کہ کچھ بھارتیوں کو چین کے خلاف سخت رویہ اختیار کر کے اپنے قومی تفاخر کے دفاع کا حوصلہ ملا ہو۔

گزشتہ ماہ ایک چینی تجزیہ کار لانگ ژنگ چن نے دلی کو وارننگ دی کہ وہ اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھے تاکہ امریکی اسے ایندھن کی طرح استعمال نہ کر سکیں۔

ابھی تک بھرپور جارحیت کے مظاہرے میڈیا تک محدود ہیں لیکن تناؤ پوری طرح برقرار ہے اور مسئلہ ابھی ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔

Tags: بھارت چین سرحدی جھڑپیںبھارت چین کشیدگی
sohail

sohail

Next Post

غیرملکی میڈیا نے بھارت کی کورونا کے خلاف حکمت عملی بری طرح ناکام قرار دے دی

کیا برونڈی کے صدر کا انتقال کورونا سے ہوا ہے؟

کورونا کی پھیلتی وبا: عالمی ادارہ صحت کا پاکستان کو لاک ڈاؤن کا مشورہ

سرکاری گھروں پر قبضے، سپریم کورٹ نے وزارت ہاؤسنگ کو آخری مہلت دے دی

ہمیں جان بوجھ کر کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے متعلق سوچنا چاہیئے، برطانوی سائنسدان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In