چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں میں زیادہ تر ہاتھا پائی ہوئی ہے لیکن دونوں ممالک کے میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بھرپور جنگ شروع ہو گئی ہے۔
چین اور بھارت دونوں ہی ہمالیہ کی بلندیوں پر موجود علاقوں کی ملکیت کے دعویدار ہیں اور اسی وجہ سے حالیہ جھڑپیں ہوئی ہیں جن کے بعد دونوں ممالک نے علاقے میں اپنی اپنی فوجی قوت میں اضافہ کیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ہفتے کے روز اطراف کے فوجی کمانڈرز نے سرحد پر ملاقات کی ہے جس میں سرحدی علاقوں کی صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کی گئی ہے تاہم ابھی بھی تناؤ برقرار ہے۔
لداخ کے قریب چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
کیا پاکستان، چین اور روس ایشیاء سے امریکی ڈالر کی حکمرانی ختم کرنا چاہتے ہیں؟
چینی ہیکرز کورونا سے متعلق امریکی تحقیق چرا سکتے ہیں، امریکی حکام نے خبردار کر دیا
اس ملاقات سے پہلے چینی میڈیا نے علاقے میں پیپلزلبریشن آرمی کی نقل و حرکت کی ایک فوٹیج بھرپور طریقے سے دکھائی ہے جس میں جنگی جہاز اور فوجیوں سے بھرے ٹرک حرکت کر رہے تھے۔
چینی میڈیا کے مطابق اس فوٹیج کا مقصد ضرورت کے وقت فوری طور پر فوجی قوت سرحدوں پر پہنچانے کی صلاحیت دکھانا تھا، اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھگڑے کی غیرمصدقہ ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں تجزیہ کار ششیر گپتا نے لکھا ہے کہ چینی میڈیا کی طرف سے فوجی نقل و حرکت کی فوٹیج دکھانے کا مقصد ڈس انفارمیشن پھیلانا ہے تاکہ بھارتیوں کا حوصلہ پست کیا جا سکے اور ان میں خوف پیدا کر کے ان کی مذاکرات کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
جنگی بیان بازی
سی این این کے مطابق چینی صدر جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی قوم پرستانہ عزائم اور مستقبل کی عظمت کے دعویدار ہیں، اس کی وجہ سے جنگی جنون اور جارحانہ بیان بازی سامنے آتی رہتی ہے جس کا مقصد اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہوتا ہے۔
پیر کے روز بھارتی حکومت کی نمایاں ترین شخصیات نے جارحانہ لہجہ اختیار کیا ہے، وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھارتیا جنتا پارٹی کے ایک جلسے میں گھن گرج کے ساتھ کہا کہ بھارتی سرحدوں میں داخل ہونے والوں کو بھرپور سزا دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ کہتے ہیں امریکہ اور اسرائیل دو ایسے ممالک ہیں جو اپنے فوجیوں کے لہو کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیتے ہیں، مودی نے اب بھارت کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع رجناتھ سنگھ بھی اس موقع پر پیچھے نہیں رہے اور کہا کہ میں ہر کسی کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بھارتی قیادت کسی کو ہماری عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے اور وہ یہ کہ ہم کسی بھی ملک کی سالمیت اور وقار کو نقصان نہیں پہنچائیں گے اور نہ ہی کسی کو بھارت کی سالمیت اور وقار کو نقصان پہنچانے دیں گے۔
طویل المدت جھگڑا
چینی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اخبار گلوبل ٹائمز میں فوجی تجزیہ کاروں نے ایک تحریر میں پیش گوئی کی کہ موجودہ کشمکش فوری طور پر ختم نہیں ہو گی، ٹھوس مسائل کو پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔
اس تجزیے کو پیپلزلبریشن آرمی کی سرکاری ویب سائیٹ پر دوبارہ شائع کیا گیا۔
بھارتی اخبار دی ہندو نے اپنے اداریے میں لکھا کہ اسٹیس کو کے لیے ضروری ہے کہ چینی فوجی وہ علاقہ خالی کر دیں جہاں انہوں نے کئی ہفتوں سے اپنے کیمپ قائم کیے گئے ہیں، چینی فوجوں کی مکمل واپسی کے بغیر بھارت کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ سرحدوں پر بات چیت اور سفارتکاروں کی سرگرمیوں سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ بیجنگ سے پیپلزلبریشن آرمی کو ایسا کرنے کی ہدایت کی جائے، دوسری صورت میں بھارت کو طویل عرصے کی کشمکش کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔
گزشتہ ہفتے بھارت اور آسٹریلیا نے دوطرفہ فوجی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، بھارت اس وقت امریکہ کے ساتھ بھی فوجی تعاون میں اضافہ کر رہا ہے جس میں جاپان سمیت تینوں ممالک مالابار کی مشترکہ بحری جنگی مشقیں شامل ہیں۔
بیجنگ نے بھی اس سرگرمی کا نوٹس لیا ہے، چینی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اخبار چائنا ڈیلی نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ چین اور بھارت کے ہوش مندانہ رویے کے برعکس چند پرجوش امریکی سیاست دان دو بڑے ہمسایوں کے درمیان عناد کو بڑھاوا دینے کے خواہشمند ہیں۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مدد کی پیشکش سے ممکن ہے کہ کچھ بھارتیوں کو چین کے خلاف سخت رویہ اختیار کر کے اپنے قومی تفاخر کے دفاع کا حوصلہ ملا ہو۔
گزشتہ ماہ ایک چینی تجزیہ کار لانگ ژنگ چن نے دلی کو وارننگ دی کہ وہ اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھے تاکہ امریکی اسے ایندھن کی طرح استعمال نہ کر سکیں۔
ابھی تک بھرپور جارحیت کے مظاہرے میڈیا تک محدود ہیں لیکن تناؤ پوری طرح برقرار ہے اور مسئلہ ابھی ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔