عالمی ادارہ صحت نے ایک غیرمعمولی قدم لیتے ہوئے پاکستان کو لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا ہے، ادارے نے تجویز دی ہے کہ دو ہفتے لاک ڈاؤن کیا جائے اور اگلے دو ہفتے اسے نرم کر دیا جائے۔
پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کو لکھے گئے خط میں ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں ٹیسٹ کی شرح کم ہے لیکن ٹیسٹ کے نتیجے میں ہر چار میں سے ایک کورونا کا مریض نکلتا ہے۔
پاکستان میں جولائی کے آخرتک کورونا کیسزعروج پر ہوں گے، عمران خان
پاکستان اب کورونا سے بچے گا اور نہ ہی معاشی بحران سے، بلاول
وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں، ان کا خیال ہے کہ اس سے غریبوں کا روزگار چھن جائے گا جبکہ صوبے اپنی اپنی مرضی پر ادھوری اور نیم دلانہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔
پاکستان میں اب تک کورونا کے باعث ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں، 22 سو سے زیادہ مریض اس وائرس سے انتقال کر چکے ہیں۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر ایک گھنٹے میں چار افراد کورونا کے باعث انتقال کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر عالمی ادارہ صحت نے ایک ہی دن میں سب سے زیادہ مریض رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے جس کا مطلب ہے کہ کورونا کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔