ایک برطانوی سائنسدان کا کہنا ہے کہ معاشرے کو اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ ویکسین کی عدم موجودگی میں کون سی عمر میں کورونا کم خطرناک ہے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر کارل ہینیگن نے کہا کہ کورونا وائرس ایک عام فلو کی طرح کام کر رہا ہے لیکن بڑی عمر کے افراد کو یہ بہت زیادہ متاثر کر رہا ہے۔
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
6 ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟
کورونا کس طرح انسانی جسم کو تباہ کرتا ہے؟ ایک برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات
سائنس میڈیا سنٹر کی ایک بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس موضوع پر ایک عقلی بحث شروع کرنی چاہیئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر نوجوان اس وائرس سے متاثر ہو جائیں تو وہ جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسا ہے جیسے نوجوانی میں چکن پاکس ہو جائے تو اس کے خلاف ہمیشہ کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔
کارل ہینیگن کا کہنا تھا کہ ویکسین کا خیال اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو کورونا ایک پھیلتی ہوئی وبا بن جاتی ہے اور ہم اس بات پر بحث شروع کر سکتے ہیں کہ کس عمر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونا بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ڈیٹا کو دیکھا جائے تو 45 سال سے نیچے کی عمر اس کے لیے مناسب ہے، اگر آپ کی عمر اس سے بڑھ جاتی ہے تو یہ بیماری آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن جگہوں پر سب سے زیادہ خطرے میں ہیں وہاں اس وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے متعلق گفتگو ہونی چاہیئے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق 80 سال سے اوپر کی عمر کے افراد میں 40 برس سے کم عمر کے لوگوں کی نسبت کورونا سے مرنے کا امکان 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے ایک شعبے کے سربراہ سر ڈیوڈ سپیگل ہالٹر کا کہنا ہے کہ بچپن میں خسرے کی ویکسین دریافت ہونے سے پہلے ہمیں ان بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھیجا جاتا تھا جنہیں خسرہ اور چکن پاکس ہوتا تھا۔
انہوں نے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میں عوام کی صحت کے حوالے سے یہ تجویز پیش نہیں کر رہا لیکن اگر ویکسین نہیں بن پاتی تو ہمیں اس طریقے کے متعلق سوچنا پڑے گا۔