• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ہمیں جان بوجھ کر کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے متعلق سوچنا چاہیئے، برطانوی سائنسدان

by sohail
جون 10, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایک برطانوی سائنسدان کا کہنا ہے کہ معاشرے کو اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ ویکسین کی عدم موجودگی میں کون سی عمر میں کورونا کم خطرناک ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر کارل ہینیگن نے کہا کہ کورونا وائرس ایک عام فلو کی طرح کام کر رہا ہے لیکن بڑی عمر کے افراد کو یہ بہت زیادہ متاثر کر رہا ہے۔

سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ

6 ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟

کورونا کس طرح انسانی جسم کو تباہ کرتا ہے؟ ایک برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات

سائنس میڈیا سنٹر کی ایک بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس موضوع پر ایک عقلی بحث شروع کرنی چاہیئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر نوجوان اس وائرس سے متاثر ہو جائیں تو وہ جلد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسا ہے جیسے نوجوانی میں چکن پاکس ہو جائے تو اس کے خلاف ہمیشہ کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔

کارل ہینیگن کا کہنا تھا کہ ویکسین کا خیال اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو کورونا ایک پھیلتی ہوئی وبا بن جاتی ہے اور ہم اس بات پر بحث شروع کر سکتے ہیں کہ کس عمر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیٹا کو دیکھا جائے تو 45 سال سے نیچے کی عمر اس کے لیے مناسب ہے، اگر آپ کی عمر اس سے بڑھ جاتی ہے تو یہ بیماری آپ کے لیے بہت خطرناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن جگہوں پر سب سے زیادہ خطرے میں ہیں وہاں اس وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے متعلق گفتگو ہونی چاہیئے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق 80 سال سے اوپر کی عمر کے افراد میں 40 برس سے کم عمر کے لوگوں کی نسبت کورونا سے مرنے کا امکان 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے ایک شعبے کے سربراہ سر ڈیوڈ سپیگل ہالٹر کا کہنا ہے کہ بچپن میں خسرے کی ویکسین دریافت ہونے سے پہلے ہمیں ان بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھیجا جاتا تھا جنہیں خسرہ اور چکن پاکس ہوتا تھا۔

انہوں نے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میں عوام کی صحت کے حوالے سے یہ تجویز پیش نہیں کر رہا لیکن اگر ویکسین نہیں بن پاتی تو ہمیں اس طریقے کے متعلق سوچنا پڑے گا۔

Tags: کورونا وائرسکورونا وائرس کی ویکسینکورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت
sohail

sohail

Next Post

پاکستان کے 6 کھلاڑی مجھے مارنے آئے تھے، شعیب اختر کا انکشاف

چینی اسکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

او بلڈ گروپ والے افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے، نئی تحقیق

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی کورونا کا شکار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوگر ملز مالکان کو مشروط حکم امتناع دے دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In