اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف شوگر ملز مالکان کی درخواست کی سماعت کی اور درخواست گزار کو مشروط حکم امتناع جاری کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔
شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی ہے، معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیتے ہیں کہ عام آدمی چینی کی بڑھتی قیمتوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کی قیمت پر چینی بیچیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو یہ شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے بھی روک دیتے ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیشن عام صارف کے لیے چینی کی قیمت بڑھنے کے متعلق کیا بتایا؟ مخدوم علی خان نے جواب میں کہا کہ کمیشن نے 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کیں ہیں۔
اس موقع پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمیشن نے عام آدمی اور کمرشل استعمال کی چینی کی قیمت کو الگ الگ نہیں کیا، اس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پھر کیا کیا؟ حکومت کی توجہ کا مرکز کمرشل ایریا نہیں بلکہ عوام ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی، انہوں نے جواب میں بتایا کہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سال میں چینی کی قیمت 85 روپے ہو گئی، اس چیز پر کمیشن کو بات کرنی چاہیئے تھی، چینی ایک غریب آدمی کی ضرورت ہے، وہ ایسے فیصلوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے؟
انہوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، گزشتہ رات بھی معاون خصوصی نے پٹیشن کے باوجود پریس کانفرنس کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لیکن چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور حکومت کوکا کولا پر اسبسڈی دے رہی ہے، عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کو بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیں، یہ عام آدمی کا بنیادی حق ہے، 30 فیصد چینی عوام کے لیے ہوتی ہے۔
