• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوگر ملز مالکان کو مشروط حکم امتناع دے دیا

by sohail
جون 11, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف شوگر ملز مالکان کی درخواست کی سماعت کی اور درخواست گزار کو مشروط حکم امتناع جاری کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی ہے، معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیتے ہیں کہ عام آدمی چینی کی بڑھتی قیمتوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کی قیمت پر چینی بیچیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو یہ شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے بھی روک دیتے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیشن عام صارف کے لیے چینی کی قیمت بڑھنے کے متعلق کیا بتایا؟ مخدوم علی خان نے جواب میں کہا کہ کمیشن نے 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کیں ہیں۔

اس موقع پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمیشن نے عام آدمی اور کمرشل استعمال کی چینی کی قیمت کو الگ الگ نہیں کیا، اس پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پھر کیا کیا؟ حکومت کی توجہ کا مرکز کمرشل ایریا نہیں بلکہ عوام ہونے چاہئیں۔

چیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ دو سال پہلے چینی کی قیمت کیا تھی، انہوں نے جواب میں بتایا کہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روہے تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو سال میں چینی کی قیمت 85 روپے ہو گئی، اس چیز پر کمیشن کو بات کرنی چاہیئے تھی،  چینی ایک غریب آدمی کی ضرورت ہے، وہ ایسے فیصلوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے؟

انہوں نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی، گزشتہ رات بھی معاون خصوصی نے پٹیشن کے باوجود پریس کانفرنس کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لیکن چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور حکومت کوکا کولا پر اسبسڈی دے رہی ہے، عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کو بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہئیں، یہ عام آدمی کا بنیادی حق ہے، 30 فیصد چینی عوام کے لیے ہوتی ہے۔

Tags: اسلام آباد ہائیکورٹچیف جسٹس اطہر من اللہشوگر انکوائری کمیشن
sohail

sohail

Next Post

احتساب عدالت نے شہبازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

سپریم کورٹ کے تین ججز کی کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگئی

پیرس کلب کے بعد چین اور سعودی عرب بھی پاکستان کے قرضے موخر کرنے پر رضامند

یاد رہے کہ ججز کی جاسوسی پر ایک منتخب حکومت تحلیل کر دی گئی تھی، سپریم کورٹ

اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں آمریت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In