برونڈی کے صدر پیرے کورُنزیزا اچانک انتقال کر گئے ہیں اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی موت کورونا کے باعث واقع ہوئی ہے۔
سرکاری اعلامیے میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا گیا ہے، 55 سالہ پیرے کورُنزیزا گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اگست کو اپنا عہدہ چھوڑ رہے تھے۔
براعظم افریقہ میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اسقدر کم کیوں ہے؟
افریقی ملک کانگو میں کورونا کے ساتھ ساتھ ایبولا وبا پھیلنے لگی، 5 افراد ہلاک
سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کھیلوں کے شائق صدر نے ہفتے کے روز ایک والی بال میچ میں شرکت کی، اسی رات وہ بیمار پڑے جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
اتوار کے روز ان کی حالت میں بہتری آئی لیکن حیرت انگیز طور پر پیر کی صبح ان کی حالت خراب ہوئی اور انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔
سرکاری اعلامیے میں لوگوں کو پرسکون رہنے کی تلقین کرتے ہوئے 7 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
پیرے کورُنزیزا نے اس چھوٹے سے افریقی ملک میں کورونا پھیلاؤ کے بعد پابندیاں لگانے سے انکار کر دیا تھا اور کھیلوں کے انعقاد اور سیاسی جلسے جلوسوں کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا۔
غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق 10 روز قبل کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کی اہلیہ کو نیروبی لے جایا گیا، اسی باعث صدر کے کورونا سے انتقال کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
اس وقت افریقہ میں ایک لاکھ 97 ہزار کورونا کے مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد اس وبا کے باعث موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
برونڈی کی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی تھی کیونکہ اس نے جان بوجھ کر کورونا کے خطرے کو کم کر کے بتایا تھا۔
ایک کروڑ 10 لاکھ کی آبادی پر مشتمل برونڈی نے کورونا کے 83 کیس رپورٹ کیے، حکومت نے اتنی کم تعداد کو خدائی حفاظت قرار دیا تھا اور عوام سے کہا تھا کہ وہ بلاخوف و خطر اپنے معمولات جاری رکھیں۔
برونڈی نے دیگر افریقی ممالک کے برعکس لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کورونا کے خلاف کام کرنے والی عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو ملک سے نکال دیا تھا۔
پیرے کورُنزیزا 15 برس ملک پر حکمرانی کرتے رہے تاہم اب اپوزیشن کے دباؤ کے بعد وہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے تھے تاہم سپریم گائیڈ کے طور پر انہیں وسیع اختیارات دیے جانے تھے۔
برونڈی نے 2017 میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی رکنیت چھوڑ دی تھی اور گزشتہ برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفاتر زبردستی بند کرا دیے تھے۔