• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ریفرنس کے پیچھے بدنیتی ثابت ہو گئی تو خطرناک آئینی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، سپریم کورٹ

by sohail
جون 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کرنے والے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے ریمارکس دیے ہیں کہ درخواست گزار کے خلاف تمام الزامات میں کرپشن اور بد دیانتی کی بات نہیں، جج احتساب سے بالاتر نہیں تو حکومت بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہے، ججز قابل احتساب ہیں تو حکومت بھی قابل احتساب ہے، عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ریفرنس ٹھیک نہیں بنا تو ہوسکتا ہے حکومت کا احتساب ہو، جج کی اہلیہ ایف بی آر کو مطمئن نہ کر پائیں تو اثاثے چھپانے کا کیس اہلیہ پر بنے گا۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں لیکن لگتا ہے کٹہرے میں حکومت کھڑی ہے۔

سماعت کا تفصیلی احوال

پیر کے روز سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے کیس کی دوبارہ سماعت کی، سماعت کے آغاز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے تحریری جواب بھی پیش کیا۔

اس کے بعد حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل کا سلسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے مس کنڈکٹ پر دلائل دوں گا، جج کے مس کنڈکٹ کو کسی قانون کی خلاف ورزی تک محدود نہیں کر سکتے، اہلیہ معزز جج کی فیملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معزز جج اور اہلیہ دونوں نے لندن کی جائیدادیں ظاہر نہیں کیں، آرٹیکل 63 میں اہلیہ کے زیر کفالت ہونے کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں رکھی گئی، برطانیہ میں اہلیہ کی جانب سے بار کو خط لکھنے پر جج کے خلاف کارروائی ہوئی، پاکستان کا آئین غیر جانبدار ہے۔

فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 209 میں اہلیہ کو زیر کفالت یا خود کفیل رکھنا بلا جواز ہے، کسی کا اپنے یا اہلیہ کے نام جائیداد ظاہر نہ کرنا قابل سزا جرم ہے، آرٹیکل 63 کے تحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سے محروم ہوجاتا ہے، جج بھی سروس آف پاکستان میں آتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ فروغ نسیم صاحب کیا آپکا یہی مقدمہ ہے، جو دلائل آپ دے رہے ہیں یہ آپکا مقدمہ نہیں ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپکی دلیل یہ تھی کہ ہمارا مقدمہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کا ہے، آپکا نقطہ یہ تھا کہ مواد کونسل کے سامنے آنے کے بعد باقی چیزوں کی اہمیت نہیں رہی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، افتخار چوہدری کیس کا اطلاق موجودہ مقدمے پر نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس آنیوالے مواد پر از خود کارروائی کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن نقائص پر مبنی درخواست پر کارروائی کر سکتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کونسل کے سامنے جج کیخلاف آمدن سے زائد ذرائع کا مواد کیا تھا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے 2008 میں بطور وکیل اپنی آمدن ظاہر کی۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کسی فورم پر یہ ثابت کریں کہ اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں ہمارا 15 سال کا عزت و احترام کا رشتہ ہے جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ احترام کا رشتہ برقرار رہے گا سب چاہتے ہیں کیس کا جلد فیصلہ ہو۔

فروغ نسیم نے کہا کہ وضاحت کسے دینی ہے کہ جائیداد کیسے خریدی گئی، آج کے دن تک اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اہلیہ زیر کفالت ہو۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اہلیہ کو اپنے والدین سے کچھ ملا ہو تو کیا وہ بتانا بھی خاوند کی ذمہ داری ہے؟

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ کسی عمارت کی بنیاد غلط ہو تو غلط ڈھانچے پر عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو اس کا تعین کس فورم پر ہوگا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ قانون کے تحت یہ جواب خاوند نے دینا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کا مقدمہ پراپرٹیز کی ملکیت سے متعلق ہے جبکہ کسی کے رہنے سہنے کے انداز کا مقدمہ آپ کا نہیں ہے، ریفرنس میں منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج کی منتقلی کی بات کی گئی ہے۔ تاہم جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صدارتی ریفرنس کے الزامات کا جائزہ جوڈیشل کونسل نے لینا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسا کونسا ریکارڈ ہے جس سے اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ لگتے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمارے ملک میں 1990 کے بعد ایسا میکانزم بنایا گیا جس کے تحت کوئی حساب نہیں ہے، الزام یہ ہے کہ لندن کی جائیدادیں کیسے خریدی گئی۔ انہوں نے حکومتی وکیل سے کہا کہ آرٹیکل 10 اے پر بھی مطمئن کریں، صدارتی ریفرنس میں تشویش جائیداد خریدنے کے ذرائع ہیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اگر تسلیم کر لیں تو پھر تمام ججز سے ٹیکس کا جوڈیشل کونسل پوچھے گی؟

وکیل فروغ نسیم نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کونسل جج کے ٹیکس گوشواروں کا جائزہ لے سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر ایف بی آر کہہ دیں کہ اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کی ہے تو پھر صورتحال کیا ہوگی؟

جسٹس مقبول باقر نے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کا مقدمہ ٹیکس قانون کے آرٹیکل 116 کے خلاف ورزی کا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا اس بات کا امکان ہے کہ ایف بی آر اہلیہ سے ذرائع پوچھ لے جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ایف بی آر پوچھے اور اہلیہ جواب دے دیں تو کیس ختم ہو جائے گا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے دوبارہ استفسار کیا کہ پھر اس بات پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ جواب قاضی فائز عیسیٰ ہی دیں جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جج کیخلاف ڈسپلنری کارروائی کونسل کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولز رائس گاڑی چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ کن وسائل سے یہ جائیدادیں خریدی گئی، آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی ایک چھوٹا سا نکتہ ہے۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو فروغ نسیم نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت میں 6 لاکھ کی وضاحت نہ کرنے پر جج کو گھر بھیج دیا گیا، اسی مقدمے کی بنیاد پر بھارت میں عدالتی تاریخ رقم ہوئی، بھارت میں جج کیخلاف فوجداری کارروائی کو الگ رکھا گیا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ بھارت میں جج کیخلاف کارروائی کے وقت مکمل مواد پیش کیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب ایف بی آر سے اپنی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ لے سکتے ہیں، اگر ایف بی آر راز داری کی وجہ سے جج صاحب کو اہلیہ کا ریکارڈ نہیں دے گا تو انضباطی کارروائی کا سامنا کیسے کرے گا، اگر ایف بی آر خاوند کو اہلیہ کے گوشوارے یا ٹیکس معلومات دینے سے انکار کر دے تو پھر راستہ کیا ہو گا؟

فروغ نسیم نے کہا کہ میں اس سوال کا تفصیلی جواب دوں گا تو جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہ ابھی سوال کا جواب دے دیں۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ مجھے متعلقہ قوانین کو دیکھنا ہو گا پھر جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں گا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے فروغ نسیم کو ہدایت کی کہ اس سوال کو نوٹ کر لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک جج پر سوال اٹھے تو پورے ادارے پر سوال اٹھتے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بڑا مقدس ہوتا ہے، مسلمانوں کے جج پر عوام کا اعتماد بڑا مقدس ہے، ہم امید کرتے ہیں ہمارے جج کا کوڈ آف کنڈکٹ بہت اعلیٰ ہے، جج کے پاس جوڈیشل اختیار اللہ کی امانت ہے، ہمارے معاشرے میں جج کی بڑی عزت و تکریم ہے، جج معاشرے میں بڑا بااختیار ہوتا ہے، عوام کا عدالت عظمیٰ کے جج پر اندھا اعتماد ہوتا ہے، عوام کا عدلیہ پر اعتماد مجروح نہیں ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی بڑی اہم ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ عدلیہ کی آزادی کا ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کا مقدمہ بھی ہے۔

منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت کونسل جج سے اہلیہ کی جائیداد بارے پوچھ سکتی ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ سب سوالوں کے جواب دوں گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایک جج کی نجی زندگی میں اہلیہ اور بچے کی زندگی بھی شامل ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کے سامنے انکم ٹیکس اور جوڈیشل کونسل کے متعین قوانین موجود ہیں، آپ ہمیں مختلف قوانین پڑھا رہے ہیں، آپ انکم ٹیکس اور جوڈیشل کونسل کے متعین قوانین کے تحت دلائل دیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 116 خاوند اہلیہ کے اثاثے بتانے کا پابند نہیں، شو کاز نوٹس بڑا اہم ہے، آپ اس پر انحصار کر رہے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جج احتساب سے بالاتر نہیں تو حکومت بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہے، ججز قابل احتساب ہیں تو حکومت بھی قابل احتساب ہے، عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ریفرنس ٹھیک نہیں بنا تو ہو سکتا ہے حکومت کا احتساب ہو۔

فروغ نسیم نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور وہ احتساب سے بالاتر نہیں، جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں لیکن لگتا ہے کٹہرے میں حکومت کھڑی ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ بدنیتی ثابت ہو گئی ہے تو اس کے خطرناک آئینی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ ٹیکس قانون کی شق 116 سے ہٹ گئے ہیں، اب آپ عوامی رائے اور جج کے عمومی تاثر کی بات کر رہے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اہلیہ ایف بی آر کو مطمئن نہ کر پائیں تو اثاثے چھپانے کا کیس اہلیہ پر بنے گا، جج پر سارا الزام کیسے آئے گا، قانون دکھا دیں کہ خود کفیل اہلیہ وسائل بتانے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر بوجھ جج پر آئے گا، انضباطی کارروائی کا قانون بدل نہیں سکتا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جائیداد کی خریداری کی وضاحت نہ آنا بڑا اہم ہے، یہاں پر جج کی اہلیہ اور بچوں کی لندن میں مہنگی جائیدادیں ہیں، یہ تاثر غلط ہوگا کہ جج صاحب اہلیہ کی جائیداد پر وضاحت نہیں دے رہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قانون کے مطابق اہلیہ اور بچوں سے پوچھ لیں جائیداد کیسے خریدی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ جج نے جائیداد کی خریداری کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار نہیں کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ دلائل مکمل کرنے میں کتنا وقت لیں گے، یہ بھی ذہن میں رکھیں کے عدالت کونسل کے اختیارات سے آگاہ ہے، ایک جج کو عمومی باتوں پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، آپ کا موقف ہے کہ اصل سوال جائیداد کی خریداری کے ذرائع کا ہے، آپ کے تمام الزامات میں کرپشن اور بد دیانتی کی بات نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار سمیت ملک کی تمام بارز جج کی دفاع میں آئی ہیں، بار کونسل کے مطابق جج پر بدنیتی اور کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے، جج بھی قابل احتساب ہیں، جج شیشے کے گھر میں رہتے ہیں، جج صاحب کہتے ہیں کہ جائیدادوں سے متعلق اہلیہ سے پوچھا جائے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ مجھے دلائل دینے میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ لگتا نہیں دو دن میں آپ دلائل مکمل کر پائیں گے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی جبکہ فروغ نسیم کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

فواد چوہدری نے عیدالاضحیٰ کی تاریخ بھی بتا دی

حکومت پنجاب کا کل رات سے لاہور کے کچھ علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ

ایف آئی اے نے ماسک اسمگلنگ الزام میں ڈاکٹر ظفر مرزا کو بے قصور قرار دے دیا

ماضی کے مزار

دل ڈھونڈتا ہے وہی زمانہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In