• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ایف آئی اے نے ماسک اسمگلنگ الزام میں ڈاکٹر ظفر مرزا کو بے قصور قرار دے دیا

by sohail
جون 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایف آئی اے نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ماسک اسمگلنگ کیس میں بے قصور قرار دے دیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی اور سی ای او ڈریپ عاصم رؤف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی کہ انہوں نے ملی بھگت سے 2 کروڑ ماسک پاکستان سے اسمگل کرائے۔

شکایت کنندہ پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ملزمان نے 6 پرمٹ جاری کیے اور ہر پرمٹ پر 6 کروڑ روپے کی رشوت لی۔

ایف آئی نے انکوائری کے بعد کہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کا معاملے میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق سامنے نہیں آیا جبکہ رشوت کے ثبوت بھی نہیں ملے۔

اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے این او سی مختلف نان فارما چائنیز کمپنیوں کو عطیات کی صورت میں جاری کیے گئے۔

ایف آئی اے اسلام آباد زون نے عدم ثبوت کی بنا پر انکوائری بند کرنے کی سفارش کی ہے۔

ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا  پر اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد کئے تھے۔

فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزانیٹ ورک آف کنزیومر پروٹیکشن کے نام سے ایک این جی او چلا رہے ہیں، وہ کئی سال تک مصر میں عالمی ادارہ صحت سے مِڈ لیول پر منسلک رہے لیکن اس کے کنٹری ہیڈ کبھی بھی نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عامر کیانی کو کرپشن الزامات پر ہٹا کر ظفر مرزا کو لگایا گیا جنہوں نے وزیر اعظم کے 72 گھنٹوں میں ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے حکم کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا۔

فرقان ابراہیم کے الزامات کی فہرست میں ایک یہ بھی تھا کہ ظفر مرزا کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کی منظوری اور ٹیسٹ کے بغیر 3 ارب ٹائیفائڈ ویکسین بھارت سے درآمد کی گئی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ظفر مرزا کی جانب سے کرپشن میں ملوث اختر حسین اور پھر عاصم روف کو ڈریپ کا سی ای او لگایا گیا اور ان کی کرپشن سے پردہ اٹھانے پر ڈاکٹر عبید کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ معاون خصوصی برائے صحت نے جونئیر ڈاکٹرز کو وفاقی اسپتالوں میں سربراہان کے عہدوں سے نوازا اور اپنے دوست اظہر حسین کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر ممبر ڈرگ کورٹ اسلام آباد تعینات کیا ہے۔

sohail

sohail

Next Post

ماضی کے مزار

دل ڈھونڈتا ہے وہی زمانہ

پاکستان کے 20 شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

چند ماہ میں خسرہ بچوں کیلئے کورونا سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے، ڈاکٹرز کا انتباہ

کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، اسد عمر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In