ایف آئی اے نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو ماسک اسمگلنگ کیس میں بے قصور قرار دے دیا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی اور سی ای او ڈریپ عاصم رؤف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی کہ انہوں نے ملی بھگت سے 2 کروڑ ماسک پاکستان سے اسمگل کرائے۔
شکایت کنندہ پاکستان ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ملزمان نے 6 پرمٹ جاری کیے اور ہر پرمٹ پر 6 کروڑ روپے کی رشوت لی۔
ایف آئی نے انکوائری کے بعد کہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کا معاملے میں براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق سامنے نہیں آیا جبکہ رشوت کے ثبوت بھی نہیں ملے۔
اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے این او سی مختلف نان فارما چائنیز کمپنیوں کو عطیات کی صورت میں جاری کیے گئے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون نے عدم ثبوت کی بنا پر انکوائری بند کرنے کی سفارش کی ہے۔
ینگ فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا پر اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد کئے تھے۔
فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزانیٹ ورک آف کنزیومر پروٹیکشن کے نام سے ایک این جی او چلا رہے ہیں، وہ کئی سال تک مصر میں عالمی ادارہ صحت سے مِڈ لیول پر منسلک رہے لیکن اس کے کنٹری ہیڈ کبھی بھی نہیں رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عامر کیانی کو کرپشن الزامات پر ہٹا کر ظفر مرزا کو لگایا گیا جنہوں نے وزیر اعظم کے 72 گھنٹوں میں ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے حکم کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا۔
فرقان ابراہیم کے الزامات کی فہرست میں ایک یہ بھی تھا کہ ظفر مرزا کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کی منظوری اور ٹیسٹ کے بغیر 3 ارب ٹائیفائڈ ویکسین بھارت سے درآمد کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ظفر مرزا کی جانب سے کرپشن میں ملوث اختر حسین اور پھر عاصم روف کو ڈریپ کا سی ای او لگایا گیا اور ان کی کرپشن سے پردہ اٹھانے پر ڈاکٹر عبید کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
فرقان ابراہیم نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ معاون خصوصی برائے صحت نے جونئیر ڈاکٹرز کو وفاقی اسپتالوں میں سربراہان کے عہدوں سے نوازا اور اپنے دوست اظہر حسین کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر ممبر ڈرگ کورٹ اسلام آباد تعینات کیا ہے۔