کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اس موسم بہار میں دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر جاری حفاظتی ٹیکوں سے متعلق کی گئی کوششوں کو روک دیا گیا، تاہم اس کے خطرناک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
جہاں اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک کورونا وائرس کو شکست دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں تاہم بہت سے غریب ممالک میں ایسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جنہیں ایک بار ویکسین کی مدد سے روکا جا چکا ہے۔
حال ہی میں 29 ممالک نے کورونا وبا کے باعث خسرہ بچاؤ مہم کو منسوخ کر دیا تھا جس کے باعث 18 ممالک میں اس کے دوبارہ پھیلاؤ کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ میزلز اینڈ روبیلا انیشیٹو کے مطابق 17 کروڑ 80 لاکھ افراد خسرہ کی ویکسینیشن کی عدم دستیابی کے باعث خطرے کا شکار ہیں۔
مغربی اور وسطی افریقہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے صدر چیبوشو اوکنٹا کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ جلد ہی کچھ ماہ میں ایک ایسی وبا کی صورت اختیار کر لے گا جو بچوں کے لیے کورونا وائرس سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو گی۔
اس موسم بہار میں عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے خبردار کیا کہ ایسی جگہوں پر کورونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے جہاں پر بچے حفاظتی ٹیکوں کے لیے اکھٹے ہوں گے۔
اس ناگہانی صورتحال میں متعدد ممالک نے اپنے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو منسوخ کر دیا۔ ان میں ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو اس پروگرام کو جاری رکھنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے تھے۔
اسی طرح ویکسین لے جانے والی کارگو فلائٹس کو منسوخ کر دیا گیا جبکہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے افراد اور ڈاکٹرز کی ساری توجہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی طرف ہو گئی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ خناق کی بیماری پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں پھیل رہی ہے جبکہ ہیضہ جنوبی سوڈان، کیمرون، موزمبیق، یمن اور بنگلہ دیش میں پنجے گاڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ 30 سے زائد ممالک میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور خسرہ کئی ممالک میں پھیل رہا ہے جن میں بنگلہ دیش، برازیل، کمبوڈیا، وسطی افریقن ریپبلک، عراق، قازقستان، نیپال اور نائجیریا وغیرہ شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر بین الاقوامی پبلک ہیلتھ گروپس اب ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کورونا وائرس سے جاری جنگ کے ساتھ ساتھ احتیاط سے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کریں۔
2019 میں پبلک ہیلتھ اسکالرز کی جانب سے کی جانے والی ویکسین ایمپکیٹ ماڈلنگ کنسورشیم اسڈی کے مطابق 20 سالہ تعاون کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے جس نے 98 ممالک میں 3 کروڑ 50 لاکھ اموات کو ویکسین کے ذریعے بچایا۔ اور بچوں کی اموات میں 44 فیصد کمی ہوئی۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کی صحت عامہ کی تاریخ میں ایک بنیادی حثیت ہے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے طاقتور آلات میں سے ایک ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں خسرہ سے 5 سال سے درمیان بچوں کی اموات کی شرح 3 سے 6 فیصد ہے جبکہ غذائی قلت اور ریفیوجی کیمپس میں ناکافی سہولیات اور بھیڑ کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بچوں میں نمونیا اور شدید ڈائریا کی شکایات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر کوچی جو 40 سے زیادہ ممالک کو ٹیکنیکل اور پروگرام سپورٹ فراہم کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں بہت فکرمند ہیں جہاں اس سال 60 سے زیادہ پولیو ٹائپ 1 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، اسی طرح چاڈ، گھانا، ایتھوپیا اور پاکستان کے لیے بھی وہ فکر مند ہیں جہاں پولیو ٹائپ 2 کے کیسز سامنے آئے ہیں۔