لداخ کے علاقے میں چین اور بھارت کی فوجوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدہ صورتحال آخرکار جھڑپوں میں بدل گئی، عالمی میڈیا کے مطابق لڑائی میں بھارت کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
چین نے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی لیکن بھارت پر سرحد عبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے ان کی فوجوں میں چین کے زیرقبضہ علاقے میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔
لداخ کے قریب چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
فوجیوں کے درمیان لڑائی کے بعد چینی اور بھارتی میڈیا کے درمیان لفظی جنگ شروع
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لاو جیان ژاو نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پیر کو دو مرتبہ سرحد عبور کی جس کی وجہ سے دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
ایک بھارتی فوجی افسر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک افسر اور 19 فوجی جوان شامل ہیں جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
بھارت کا کہنا ہے کہ سرحد پر کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی، مقامی میڈیا کے مطابق بھارتی فوجیوں کو بری طرح مارا پیٹا گیا جس سے وہ ہلاک ہو گئے لیکن اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
بھارت کا الزام ہے چین نے ہزاروں فوجی لداخ کی وادی گالوان میں بھیج دیے ہیں، اس کا کہنا ہے کہ چین نے 38 ہزار مربع میل کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
1962 میں چین بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) طے ہوئی تھی جو ایک عارضی سرحدی انتظام تھا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مشرقی لداخ کے علاقے پر ایل اے سی میں دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں، گزشتہ دنوں مشرقی لداخ میں پینگونگ سوجھیل پر دو بار فوجیوں میں لڑائی ہوئی جس میں مکوں، لاتوں، لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا۔
چین نے بھارت فوجیوں کا ایک دستہ بھی قیدی بنا لیا تھا جسے باہمی گفت و شنید کے بعد رہا کر دیا گیا لیکن ابھی تک صورتحال کشیدہ ہے۔
فوجی ذرائع سے شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اس جھگڑے کے بعد چینی فوجیوں نے جھیل کے مشرقی کنارے پر مزید گشتی کشتیاں اتار دی ہیں، یہ علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے۔
بھارت کچھ عرصہ سے اپنی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے جو اس سال مکمل ہونے کا امکان ہے، چینی حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے۔
جھیل پر ہونے والے جھگڑے کے بعد لداخ سے 2 ہزار کلومیٹر دور ریاست سکم میں بھی چین بھارت سرحد پر ناکولا کے خطے میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ایسا ہی جھگڑا پیش آیا۔