جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران جب سلائی مشین کے کاروبار کا ذکر ہوا تو سب کا ذہن وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی طرف گیا جن پر اپوزیشن کی طرف سے سلائی مشینوں کے ذریعے بیرون ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
تاہم سپریم کورٹ کے سینئر وکلا کا خیال ہے کہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے منی ٹریل کے متعلق سلائی مشینوں کے کاروبار کا حوالہ مثال کے طور پر دیا جو محض ایک اتفاق ہے اور اسکا وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ کے سلائی مشینوں والے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب وکلاء کی آدھی سے زیادہ تعداد ریفرنس کے خلاف ہے جو اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہیں. وہ یہ کہتے ہیں عمران خان نے اپنے اثاثوں کی کبھی ٹھوس منی ٹریل نہیں دی۔
سپریم کورٹ میں کیس کے سماعت کا تفصیلی احوال
آج سماعت کے دوران منی ٹریل کے حوالے سے فروغ نسیم کے دلائل تھے کہ سپریم جوڈیشل کونسل فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ کونسل کو اتنا اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی گواہ کو طلب کر کے پوچھ سکتا ہے۔
اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کونسل جج صاحب کی اہلیہ کو بھی طلب کر سکتی ہے اور اہلیہ پیش ہو کر یہ موقف اختیار کر سکتی ہیں کہ میری سلائی مشینوں کا کام تھا، اس سے دکان کھولی اور نفع کما کر بیرون ملک جائیدادیں خریدیں۔
یہ بات اس وقت کی گئی کہ عدالت میں منی ٹریل ثابت کرنے پر بحث ہو رہی تھی، اس مثال پر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ بالکل درست بات ہے، اہلیہ کونسل میں پیش ہوجائیں اور کہیں کہ دن رات ایک کر کے محنت کرتی رہی ہوں، بچوں کو پڑھاتی بھی رہی ہوں، اس سے پیسے کمائے اور پراپرٹی خریدی۔
ابھی یہ بحث چل ہی رہی تھی کہ جسٹس امین نے فروغ نسیم کی بات کو کاٹ کر کہا کہ بس بہت ہوگیا، آپ کسی اور واقعے کی تشبیہ دے کر ایک جج اور انکے اہلخانہ کے بارے میں بات نہ کریں، اس پر بہت بات ہو چکی ہے۔