جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے پر تیار نہیں ہوئے جبکہ حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت اس پر راضی ہے، ایف بی آر دو ماہ میں فیصلہ سنا دے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ انکے مقدمہ کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے، انکی اہلیہ وڈیو لنک کے ذریعے موقف دینے کے لیے تیار ہیں۔
فل کورٹ بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایگزیکٹو کو شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ سکتے، ایگزیکٹو کے اختیارات کا جائزہ لینے کیلئے عدالتی فیصلے میں کچھ چیزوں کا تعین کیا گیا ہے، اس طرح تو آزادی عدلیہ کا معاملہ ہی ختم ہوجائے گا۔
جسٹس عیسیٰ وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں سامنے لے آئے
انہوں نے کہا کہ یہ ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے، اس ملک کی تاریخ اچھی نہیں رہی، انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت ہوتی رہی ہے، ہم اپنی کوشش نہیں کریں گے تو تاریخ میں تباہ ہو جائیں گے، سوال چیزوں کو سمجھنے کیلئے کرتے ہیں، کسی شخص یا ادارے کیخلاف نہیں ہیں۔
سماعت کا تفصیلی احوال
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل کے ابتدائی مراحل میں درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دلائل دینے کے لیے خود سپریم کورٹ پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف میرا مقدمہ نہیں بلکہ ہم سب کا مقدمہ ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومتی وکیل فروغ نسیم کے دلائل کے دوران بات کرنے کی اجازت طلب کی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں تشریف رکھنے کا کہا اور فروغ نسیم کی بات مکمل کرنے کے بعد بولنے کی اجازت دی۔
انہوں نے عدالت میں اپنی اہلیہ کا موقف پیش کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں اپنی بات کہنا چاہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر اپنا موقف بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے اور میرے خاندان کے ساتھ ہوا، میں اس میں نہیں جانا چاہتا لیکن میرے اوپر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ساتھی ججز نے مجھے بچانا چاہتے ہیں۔
جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سابق اٹارنی جنرل کے مطابق دیگر ججز نے درخواست تیار کرنے میں میری مدد کی، میری عدالت سے استدعا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ ریفرنس سے پہلے ہی میرے خلاف خبریں چلنا شروع ہوئیں، مئی کے آخر میں ان باتوں کا آغاز ہوا اور مجھے ریفرنس کی کاپی بھی مہیا نہیں کی گئی۔
عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر غور کرنے کے لیے 5 منٹ کا وقفہ کیا اور اس دوران بنچ میں موجود ججز نے آپس میں مشاورت کی۔
وقفے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج صاحب کی اہلیہ کا بیان بہت اہم ہو گا تاہم ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تحریری جواب داخل کریں، ان کا جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کی اہلیہ وکیل نہیں ہیں، انہیں خوف ہے کہ اگر وہ اکاؤنٹ نمبر بتاتی ہیں تو حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ شروع کر دے۔
انہوں نے کہا کہ میرٰ اہلیہ تحریری جواب جمع نہیں کرا سکتیں، ان کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیئے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نے آپ کی اہلیہ کا پیغام سن لیا ہے، ہم ان کی زبانی موقف پیش کرنے کی درخواست پر غور کریں گے۔
حکومتی وکیل فروغ نسیم نے اس دوران جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر بھیجنے کے حوالے سے حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو معاملہ ایف بی آر بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں، ایف بی آر دو ماہ میں فیصلہ کر دے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے وزیراعظم کی لندن میں جائیدادوں کی بات کی گئی ہے، اس پر وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان میں سے اگر ایک بھی جائیداد میری ثابت ہو گئی تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ لندن میں میری کوئی بھی جائیداد ہو اسے ضبط کر لیا جائے اور پیسہ قومی خزانے میں جمع کرا دیا جائے، شہزاد اکبر اور فردوس عاشق اعوان کی بھی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جج صاحب نے یہ نہیں کہا کہ یہ جائیدادیں وزیراعظم کی ہیں، انہوں نے اپنے جواب میں ایک ویب سائیٹ کی بات کی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس کل کوئی درخواست نہیں آئی، یہ افسوس کی بات ہے کہ دونوں فریق عدالت پر میڈیا کو ترجیح دیتے رہے ہیں، ہم نے اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔
وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو فروغ نسیم نے دلائل کا دوبارہ آغاز کیا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عوام سے کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے کے بغیر ریفرنس بھیج سکتا ہے، صدر مملکت کو ریفرنس کونسل کو بھیجنے سے پہلے اپنی رائےکا تعین کرنا ہوگا، کونسل کو ریفرنس بھیجنے سے قبل صدر مملکت کو رائے بنانی ہو گی کہ ان کہ نظر میں مس کنڈکٹ ہوا ہے، جج کے مس کنڈکٹ کا آئین میں تعین نہیں، صدر مملکت کہہ دے کہ میری نظر میں جج کا مس کنڈکٹ ہے تو یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
جسٹس یحییٰ افریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صدر کے سامنے رائے سے قبل مواد کیا تھا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس غیر ملکی جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کے ذرائع کا ہے، عدالت کونسل کی کارروائی میں نہیں جا سکتی، لگتا ہے کونسل نے بڑا محتاط رویہ اختیار کیا، ہر جج قابل احتساب ہے، منیر ملک نے رضا مندی دے دی تو ٹهیک، ہم ججز اپنی نجی اور پبلک لائف پر جواب دہ ہیں، عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے، بنیادی سوال مالی امور کا ہے، اس سوال کا جواب لیا جائے گا۔
فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ شوکاز میں جن الزامات کا ذکر ہے وہی ریفرنس میں درج ہیں، ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو وہ چیلنج نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 211 کے تحت کونسل کی کارروائی چیلنج نہیں ہو سکتی، درخواست گزار نے کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا نہیں کی۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کونسل کی کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن آپ شو کاز نوٹس پر انحصارکیوں کر رہے ہیں، اس صورت میں ریفرنس کی ساکھ کیا ہو گی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت کونسل کے پاس مواد آنے پر ازخود کارروائی کا اختیار بھی ہے، جوڈیشل کونسل مواد ملنے پر جج کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کونسل کے پاس ازخود کارروائی کا اختیار ہے تو کیا افتخار چوہدری کیس کا فیصلہ ختم ھو گیا، یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل کی ستائش کرتے ہیں، مناسب ہوگا کہ کہ بدنیتی پر بھی ساتھ میں دلائل دیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ بدنیتی پر دلائل بھی دوں گا اور معروضات بھی پیش کروں گا، کونسل کے پاس جج کے خلاف کارروائی کے تین طریقہ کار ہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ مجھے معروضات پیش کرنے کا موقعہ دیا جائے، عدالت پر زور نہیں ڈال رہا کہ میری بات کو مانا جائے، افتخار چوہدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا، ارمی جنرل نے افتخار چوہدری کو بلا کر بٹھایا اور تذلیل کی، افتخار چوہدری کیس میں بد نیتی عیاں تھی، اس مقدمے میں بد نیتی کہاں ہے۔؟
جسٹس منیب اختر نے فروغ نسیم کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ افتخار چوہدری کو بھی کونسل نے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا، کیا اپکا مقدمہ یہی ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد آ رٹیکل 211 کی رکاوٹ آ جاتی ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آپ آئین اور قانون کے ساتھ ہیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو ہماری نیت پر کوئی شک ہے، شوکاز نوٹس کے بعد ایگزیکٹو کے اختیارات ضم ہو جاتے ہیں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ افتخار چوہدری کے ریفرنس میں کونسل کی بات بھی کی گئی ہے، جوڈیشل کونسل کی تشکیل مکمل نہ تھی، ججز کو جہازوں پر لایا گیا تھا۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ افتخار چوہدری کے کیس میں کچھ چیزیں سنگین تھی، اس مقدمے میں بھی کچھ چیزیں سنگین ہیں، اس مقدمے میں کچھ طے ہونا ہے، اس میں ہماری قربانی ہو جاتی ہے تو کوئی بات نہیں۔
سماعت میں فروغ نسیم نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ فروغ نسیم غیر جمہوری آدمی ہے، اگر میں غیر جمہوری ہوتا تو پاکستان بار کونسل کا وائس چیئرمین منتخب نہ ہوتا، ان ساری باتوں سے بدنیتی کا کیس نہیں بنتا، آرٹیکل 184/3 کے تحت مواد سامنے آ جائے تو کارروائی ہوتی ہے، شارخ جتوئی کیس میں تھرڈ پارٹی کی درخواست پر کارروائی کی گئی، ریفرنس غلط تھا یا درست اس پر کونسل ایکشن لے چکی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اپ کہتے ہیں ریفرنس چلا بھی جائے تو شوکاز نوٹس اپنی جگہ رہے گا؟
جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں۔ ؟
فروغ نسیم نے کہا کہ آرمی چیف کیس میں درخواست گزار کی استدعا کی درخواست کے باوجود مقدمہ واپس نہیں لینے دیا گیا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کیس میں عدالت نے درخواست واپس نہ ہونے کا فیصلہ دیا، جوڈیشل کونسل نے ریفرنس واپس ہونے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت ریفرنس دائر ہونے کے بعد واپس نہیں لے سکتے۔
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ شوکاز نوٹس ریفرنس میں لکھے حقائق پر جاری کیا جاتا ہے، کونسل کا فیصلہ جج کے حق اور خلاف میں بھی ہو سکتا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریفرنس بنانے میں بدنیتی ہے، وکیل درخواست گزار کہتے ہیں کہ بد نیتی کا جائزہ کونسل نہیں لے سکتی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ درخواست گزار نے موقع گنوا دیا ہے، شوکاز نوٹس سے پہلے کارروائی کو چیلنج کرنا چاہئے تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئین صدارتی ریفرنس اور عمومی ریفرنس میں امتیاز کرتا ہے، کیا کونسل کہہ سکتی کہ وہ صدر مملکت کی بات نہیں مانتی، کیا کونسل صدارتی ریفرنس کو بغیر انکوائری ختم کر سکتی ہے۔
تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی، کونسل آئینی ادارہ ہے اور کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے، کونسل صدر مملکت سے جج کیخلاف کارروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔
جب فروغ نسیم نے کہا کہ اپنے خیالات بھول جاتا ہوں ایک ہی سوال بار بار پوچھا جا رہا ہے تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ معروضات پیش کرنا آپ کا اور سوال کرنا ہمارا حق ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ خیالات کو دوبارہ اکٹھا کر کے دلائل دیں جبکہ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ میری کمنٹمنٹ ہو گئی میں آپ سے سوال نہں پوچهوں گا، اگر فیئر بات کر دیں تو سوال پوچهنے کی ضروت نہیں ہو گی، ہم بهی تهک چکے ہیں، معاملے کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس مقبول باقر کی بات کی تائید کی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل کے پاس مواد آ جائے تو کسی امتیاز کے بغیر جوڈیشل کارروائی کرنے کی مجاز ہے، صدر مملکت اور عام ریفرنس میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، جج کے خلاف عام شکایت کا جائزہ کونسل کا ممبر لیتا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے حکومت کے وکیل کو یاد دہانی کرائی کہ صدارتی ریفرنس بهی جائزے کے لیے سنگل جج کو بهیجا گیا۔
فروغ نسیم نے نفی کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس جائزے کے لیے کونسل کے ممبر کے پاس نہیں گیا۔
سماعت میں فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل عدالتی فورم نہیں ہے جو ڈیکلیئریشن دے، جب کونسل جج کیخلاف سفارشات دے تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ حکومت اتفاق نہ کرے، جوڈیشل کونسل کی سفارشات قیمتی نوعیت کی ہوتی ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا جوڈیشل کونسل بدنیتی کے حوالے سے آبزرویشنز دے سکتی ہے، انہوں نے خود ہی کہا کہ جوڈیشل کونسل کسی قسم کی بھی آبزرویشن دے سکتی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کونسل ایسے معاملات میں صدر مملکت کو سنے بغیر کیسے آبزرویشن دے سکتی ہے؟
فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل صدر مملکت کو بھی سمن کر سکتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر کسی چیز کی بنیاد غلط ہو تو کوئی ڈھانچہ کیسے برقرار رہ سکتا ہے، اس سوال پر آپکا موقف کیا ہے؟
فروغ نسیم نے کہا کہ ڈسپلنری باڈی صدر مملکت نہیں بلکہ جوڈیشل کونسل ہے تو جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس دلیل کے مطابق ریفرنس تصویر سے ہی ختم ہوگیا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کارروائی کونسل کا اختیار ہے، کونسل کی کارروائی تین جھرنوں سے شروع ہو کر ایک جھرنے پر پہنچتی ہے، وہ آخری جھرنا شوکاز نوٹس ہے، جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک مواد آ گیا ہے، شوکاز نوٹس کے بعد یہ باتیں پیچھے رہ گئیں کہ مواد کیسے اکٹھا ہوا، صدر مملکت جوڈیشل کونسل کو صرف معلومات فراہم کرتا ہے، صدارتی ریفرنس بھی کونسل کی رائے کیلئے معلومات پر مبنی ہوتا ہے، کونسل اپنی بصیرت کے مطابق جائزہ لیکر کارروائی کرتی ہے۔
جب جسٹس منصور علی شاہ نے بد نیتی کا جائزہ لینے کے کونسل کے اختیار پر استفسار کیا تو فروغ نسیم نے کہا کہ بدنیتی کے الزام کا جوڈیشل کونسل نے مکمل جائزہ لیا، بدنیتی کا جائزہ لینے کیلئے کونسل کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کونسل نے بدنیتی کا جائزہ لیکر کیا آبزرویشن دی۔ فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل نے جج کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا جس پر جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کے اقدام میں کوئی غلطی ہے تو اسکا جائزہ کون لے گا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل فیکٹ فائنڈنگ فورم ہے، کونسل فیکٹس پر فائنڈنگ دے سکتی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کونسل کہہ سکتی کہ جج کی انکوائری بعد میں کریں گے، پہلے جس نے ریفرنس بھیجا ہے اس کی انکوائری کریں۔
سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے پیش ہو کر معاملہ ایف بی آر بھیجنے پر غیررضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میرٹ پر مقدمہ کا فیصلہ کرے، ہم نے یہ مقدمہ اس لیے نہیں لیا تھا کہ یہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ ہے، میں نے عدلیہ کی آزادی کے لیے یہ مقدمہ لیا، میرے موکل نے ہدایت دی ہے کہ عدالت میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ کرے، جس قسم کی مہم میرے موکل کیخلاف ہوئی اسکے بعد وہ میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے تھے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ تحریری جواب کے ساتھ دستاویزات دے دیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر بیان دینے کا موقع دینا یا نہیں فیصلہ کل ہوگا، منیر اے ملک اپنے موکل سے پوچھ کر بتا دیں گے بیگم صاحبہ کے ویڈیو بیان کا دورانیہ کتنا ہوگا۔
کیس کی سماعت کل تک ملتوی ہوگئی۔