ہمالیہ کی بلندیوں پر چین اور بھارت کے درمیان موجود لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، یہ عارضی اور متنازعہ سرحد 1962 کی جنگ کے بعد ہونے والے مذاکرات کے بعد تشکیل دی گئی تھی اور اس پر تنازعہ اب تک موجود ہے۔
دونوں فوجوں کے درمیان حالیہ جھڑپ میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے جس کے بعد اگرچہ دونوں ممالک کی قیادت نے نرم بیانات دیے تاہم زمین پر صورتحال مختلف ہے، چین کی پیپلزلبریشن آرمی (پی ایل اے) نے تبت کے نزدیک بلند پہاڑوں پر فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔
چین اور بھارت کی فوجوں میں لڑائی، ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک
لداخ کے قریب چین اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟
گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے پی ایل اے تبت ملٹری ریجن کے اعلامیے کے مطابق تبت کے علاقے میں انفنٹری اور ٹینک ڈویژن نے 4700 میٹرز کی بلندی پر مشترکہ مشقیں شروع کر دی ہیں جس کا مقصد فوجی دستوں کے درمیان ٹیم ورک اور فوری ردعمل دینے کی صلاحیت کا جامع جائزہ لینا ہے۔
اس مشق میں چین کے جدید ترین ٹائپ 15 ٹینک بھی حصہ لے رہے ہیں، یہ کم وزن والے ٹینک پہاڑی علاقوں میں تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں اور مغربی دنیا میں انہیں رشک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
ٹائپ 15 ٹینکوں کی چادر پتلی ہوتی ہے اور اس میں چھوٹی 105 ملی میٹر کی گن نصب ہوتی ہے، کم وزن کی بدولت یہ ایل اے سی پر بلند پہاڑوں میں آسانی سے متحرک ہو سکتے ہیں۔
اس کا وزن 33 ٹن ہے جو عام ٹینک کی نسبت آدھا ہے جس کی وجہ سے یہ ایسے علاقوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں جہاں بلندی کے باعث آکسیجن کی کمی ہوتی ہے، اس کے برعکس بھاری ٹینکوں کے انجن کو کام کرنے کے لیے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹائپ 15 ٹینک کا انجن 1000 ہارس پاور کا ہوتا ہے، یہ ٹینک جنگ کی صورت میں تیزی سے میدان میں آمدورفت کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی 105 ملی میٹر کی گن نہ صرف گولے برسا سکتی ہے بلکہ گائیڈڈ میزائل بھی فائر کر سکتی ہے۔
اسی طرح چین کا ٹائپ 99 ٹینک بھی رواں ماہ کے آغاز میں ایک اور جنگی مشق میں حصہ لے چکا ہے، یہ ٹائپ 15 سے بھاری ہوتا ہے لیکن اس کی گولہ برسانے کی صلاحیت اور موٹی چادر کے باعث زیادہ تحفظ اسے ایک خطرناک جنگی ہتھیار بنا دیتا ہے، اپنے بھاری وزن کے باوجود یہ بلند پہاڑیوں میں متحرک رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین کی جانب سے ٹینکوں کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کو بھی ہمالیہ کی پہاڑیوں میں پہنچا دیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امن کی کوششوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے لیے بھی تیاری جاری ہے۔