ملک میں پیدا ہونے والے حالیہ پٹرول بحران کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں، رپورٹ میں 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گٹھ جوڑ کر کے یکم جون سے پٹرول کی سپلائی محدود کر دی حالانکہ ان کے اسٹوریج میں پٹرول موجود تھا۔
پٹرول کی قلت: کابینہ اجلاس میں اراکین عمر ایوب، ندیم بابر پر برس پڑے
ڈالر اوپر جانے سے پی ایس او کو 20 ارب روپے کا بڑا جھٹکا لگنے کا انکشاف
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق نجی کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے جو انفراسٹرکچر تعمیر کر رکھا ہے وہ ضوابط کے خلاف ہے اور اس میں حفاظتی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی کی سربراہی میں قائم ہونے والی 8 رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پٹرول بحران پیدا کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی جو اس پر احکامات جاری کریں گے۔
یاد رہے کہ یکم جون سے ملک کے مختلف علاقوں میں پٹرول کی شدید قلت کے باعث عوام کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا، زیادہ تر پٹرول پمپس بند تھے اور جہاں پٹرول میسر تھا وہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں کھڑی تھیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرپٹرولیم عمر ایوب خان سے رپورٹ طلب کی تھی جبکہ کابینہ کے اجلاس میں وزارت پٹرولیم پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
وزیراعظم کے ساتھ ساتھ شاہ محمودقریشی، بابراعوان، میاں محمدسومرو اور مراد سعید نے وزیر پٹرولیم عمرایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر سے سخت سولات کیے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کارروائی سے قبل پٹرول بحران کا معاملہ اٹھا دیا، انہوں نے کہا کہ ایجنڈا آئٹم پر جانے سے پہلےعمرایوب اور ندیم بابرکچھ سوالات کے حواب دیں۔
انہوں نے دریافت کیا کہ ایشیا میں سب سے سستا پٹرول میں نے کیا مگر اسے غائب کس نے کیا؟ بتایا جائے کہ ملک بھر میں پٹرول کا بحران کیوں پیدا ہوا؟
وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے دوران چیئرمین اوگرا کو بھی طلب کر لیا اور وارننگ دی کہ اگر وہ ذمہ دار نکلے تو رعایت نہیں ہو گی۔
مراد سعید نے کہا کہ اوگرا غفلت میں سوتا رہا، پٹرول پمپس کے باہر لمبی قطاریں ہیں، غلام سرور نے دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ملک میں صرف 7 دن کا اسٹاک رہ گیا ہے۔