جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے، اس پر بھی لکھیں گے، ہماری نفسیات بن چکی ہے کہ ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے، اپنا کام کرنے کی بھی آزادی نہیں دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ کے روبرو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران فروغ نسیم نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کونسل فوجداری اور دیوانی حقوق کا فیصلہ نہیں کرتا، جوڈیشل کونسل فیکٹ فائنڈنگ فورم ہے جو اپنی سفارشات دیتا ہے، بدنیتی پر فائینڈنگ دینے پر کونسل کے سامنے کوئی چیز مانع نہیں، جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے اور اس کے سامنے تمام فریقین ایک جیسے ہوتے ہیں۔
منی ٹریل پر بحث کے دوران سپریم کورٹ میں سلائی مشین کے کاروبار کی گونج
جسٹس عیسیٰ وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں سامنے لے آئے
حکومت تیار لیکن جسٹس عیسیٰ اپنی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کے مخالف
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ پر چیک موجود ہے، کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااختیار ہے، عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت اور کونسل کے بدنیتی کے تعین کے نتائج ایک جیسے ہوں گے۔
فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل بدنیتی پر ابزرویشن دے سکتی ہے، عدالت کو بدنیتی پر فائینڈنگ دینے کا اختیار ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا کونسل صدر مملکت کے کنڈکٹ کا جائزہ لے سکتی ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل کسی کے کنڈکٹ کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، کونسل کے پاس ہر اتھارٹی ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت عظمی کے بدنیتی کے معاملے کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت عظمی کے راستے میں بدنیتی کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ شو کاز نوٹس میں 3 نقطے جوڈیشل کونسل نے شامل کیے، جوڈیشل کونسل نے ریفرنس کا جائزہ لیکر الزام کے تین نقاط نکالے عدلیہ کو شوکاز نوٹس کے مواد کو بھی دیکھنا ہوتا ہے، آرمی چیف کا مقدمہ درخواست واپس لینے کی استدعا کے باوجود بھی چلا۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ آرڈر 23 کا اصول ہے درخواست عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں لی جا سکتی، کیا ریفرنس کالعدم ہو جائے تو پھر بھی اپنی جگہ زندہ رہے گا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ میرے خیال میں ریفرنس کے بعد بھی شو کاز نوٹس ختم نہیں ہوتا، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا حکم پاس نہیں کیا لیکن آرمی چیف کا مقدمہ چلا، جوڈیشل کونسل تمام 28 سوالات پر آبزرویشن دینے کی مجاز ہے، جج نے تحریری جواب دیکر جوڈیشل کونسل کے سامنے سرنڈر کردیا، صدر مملکت کی رائے کا کونسل جائزہ لے سکتی ہے، صدر مملکت کی رائے کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوتی۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ اعتراض یہ ہے کہ ریفرنس میں قانونی نقائص اور بدنیتی ہے۔
جب فروغ نسیم نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ کم معیار کے ساتھ بھی کام چلایا جا سکتا ہے تو جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ کے مطابق عدالت عظمیٰ کے جج کے ساتھ کم معیار کے ساتھ کام چلایا جائے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 209 میں شاہد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کو ہٹانے کی کارروائی میں شواہد کا معیار دیوانی مقدمات جیسا نہیں ہونا چاہیے، جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کے لئے ٹھوس شواہد ہونے چاہیے، پلیز مثال دیتے ہوے احتیاط کریں، عدالت یہاں آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ کونسل نے بھی اپنا مائینڈ اپلائی کرکے شوکاز نوٹس کیا، ریفرنس کے معاملے پر صدر کے بعد جوڈیشل کونسل اپنا ذہن استعمال کرتی ہے، کونسل شوکاز نوٹس کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ریفرنس کا جائزہ لیتی ہے، جج کیخلاف کارروائی کے لیے شواہد کا معیار کیا ہو یہ کونسل پر چھوڑ دینا چاہیے۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ ریفرنس میں محض دستاویزات لف نہیں ہونی چاہیے، ریفرنس کے ساتھ الزام ثابت کرنے کے ٹھوس شواہد بھی ہوں۔ اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ شواہد اگر تسلیم شدہ ہوں تو حقائق کا ایشو نہیں ہوتا، کسی مقدمے میں شواہد تسلیم نہ کیے جائیں تو بات اور ہے، کسی دباؤ کے تحت کوئی مواد لیا جائے تو عدالت قبول نہیں کرتی، تشدد کے بغیر حاصل مواد قابل قبول دستاویز ہیں، امریکہ میں چوتھی ترمیم کے مطابق شواہد کی تلاش قانونی ہیں، پاکستان اور بھارت میں امریکہ کی چوتھی ترمیم جیسی مثال نہیں ہے، برطانیہ میں جاسوسی اور چھپ کر تصویر بنانے کو قابل قبول شواہد قرار دیا گیا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے دوبارہ استفسار کیا کہ اس مقدمے کا مواد، دستاویزات کیسے اکٹھی ہوئی، آئین آزادانہ نقل و حرکت، وقار، ذاتی عزت و تکریم کا تحفظ فراہم کرتا ہے، ہمارے ملک میں ایف بی آر، نادرا، ایف آئی اے جیسے دیگر ادارے موجود ہیں، آپ کہہ رہے ہیں میری جاسوسی ہو سکتی ہے، میں گالف کلب جاتا ہوں میری تصاویر لی جاتی ہیں، یہ تو ایسے ہی ہو گا جمہوریت سے فاشزم کی طرف بڑھا جائے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ میں فاشزم کی بات نہیں کر رہا، یہاں بات شواہد کے اکٹھا کرنے کی ہو رہی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس سے غرض نہیں کہ پبلک ڈومین میں جائیدادیں پڑی ہیں یا نہیں، ان جائیدادوں کو ڈھونڈنے کے اختیارات کہاں سے لیے گئے، سوال یہ ہے کہ کس طرح سے پتہ چلا کہ لندن میں جائیدادیں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ آؤ جائیدادیں ڈھونڈیں، آؤ جائیدادیں ڈھونڈیں کا اختیار کہاں سے حاصل کیا گیا؟
فروغ نسیم نے جواب دیا کہ صحافی کی طرف سے معلومات آ گئیں تو اسکی حقیقت کا پتہ چلایا گیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحافی نے کوئی آرٹیکل نہیں لکھا جس کا وہ سورس چھپائے، صحافی آرٹیکل یا خبر دیں تو سورس نہیں پوچھ سکتے، میری تشویش یہ ہے کہ شواہد کی تلاش کیسے کی گئی، یہ کوئی نہیں کہتا کہ جج جوابدہ نہیں ہے، جج چاہتا ہے کہ میری پرائیویسی بھی ہو اور میری عزت کا خیال بھی رکھا جائے، میں تو کہتا ہوں جو کرنا ہے قانون کے مطابق کریں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ پرائیویسی کا حق محدود ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں قانون ترقی کرتا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے آبزرویشن دی کہ ضیا المصطفی نامی شخص کے پاس اختیار نہیں تھا کہ نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرے، شکایت کنندہ کی درخواست میں صرف ایک جائیداد کا ذکر تھا، صدر ملک کی منظوری کے بغیر کسی جج کے خلاف مواد اکٹھا نہیں ہو سکتا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ انجینرنگ کے الزامات لگتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ہو سکتا کہ اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں، ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے، احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کے پاس نئی وزارت بنانے کا اختیار ہے، نئی ایجنسی بنانے کا اختیار کدھر ہے۔ فروغ نسیم نے دفاع میں دلیل دی کہ وزیراعظم کو کوئی بھی چیز کابینہ کو بھیجنے کا اختیار حاصل ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اے آر یو وفاقی حکومت کیسے ہو گئی، اے آر یو نے ایف بی آر سے ٹیکس سے متعلق سوال کیسے کیا؟
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اے آر یو کسی شہری کو قانون کے بغیر کیسے چھو سکتا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وزیراعظم کے اختیارات کسی قانون کے مطابق ہوں گے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ عوامی معلومات پر پرائیویسی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتا دیں کہ آپ نے بیرون کی اس ایجنسی کی خدمات کیسے حاصل کیں جس نے قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کی جاسوسی کی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ جائیدادوں کی معلومات حاصل کرنا پرائیویسی کے زمرے میں نہیں آتا، لندن کے قانون کے مطابق جائیدادیں اوپن سورس ہیں اور کوئی بھی ان کی معلومات لے سکتا یے، لیکن ہم یہاں کیسے کہہ سکتے ہیں جائیداد کی معلومات خفیہ ہیں؟ صرف ذاتی معلومات پرائیویسی میں آتی ہیں جائیدادیں نہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ پراپرٹی کی رجسٹریشن پوری دنیا کے لیے اوپن ہے لیکن جج صاحب کے اہل خانہ کی جائیدادوں کی معلومات کے لیے جاسوسی کیسے کی گئی؟
فروغ نسیم نے کہا کہ پبلک ڈومین میں آنے والی کسی چیز کی پرائیویسی نہیں، مولاعلی نے مالک اشتر کو لکھے خط میں قاضیوں کی جاسوسی کے لیے مربوط نظام کا کہا، اسلامی ریاستوں میں کسی کی بیوی کے پاس بھی کچھ ہوتا تھا تو ان سے پوچھ گچھ ہوتی تھی، مالی معاملات پر متعدد قاضیوں اور گورنروں کو معزول کیا گیا، حضرت عمر فاروق خلیفہ تھے تو ان سے کرتے پر بھی سوالات ہوئے، حضرت علی اور حضرت عمر سے بڑا کوئی نہیں ہو سکتا، اب آپشن دیا گیا کہ ایف بی آر چلے جائیں لیکن انکار کر دیا گیا، سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی ابھی تک منی ٹریل نہیں دی گئی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ الزام تراشی موت سے بھی بدتر ہے، جج کے خلاف معلومات لے کر اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، عوامی عہدوں پر تعینات کتنے افراد کے خلاف بھی ضابطے کی کارروائی کی گئی، ضلعی سطح سے لے کر ہر جگہ ایسی مثالیں موجود ہیں لیکن کسی کا کوئی احتساب نہیں کیا گیا۔
جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ جج کا احتساب کرنے کے لیے وحید ڈوگر کو استعمال کیا گیا، احتساب کے نام پر اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت نے کیسے ایک درخواست پر یہ سب کر دیا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ درخواست گزار کہتے ہیں کہ دھرنا فیصلے کیوجہ سے کچھ حلقے خوش نہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ دھرنا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نظر ثانی کے مقدمے میں دونوں ججز کا ذکر نہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ الزام ہے کہ نظر ثانی مقدمے میں جج کو ہٹانے کی بات کی گئی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کیا دھرنا فیصلے سے آسمان گر پڑا، اگر نظرثانی خارج ہوتی ہے تو کیا آسمان گر پڑے گا۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہماری نفسیات یہ بن چکی ہے ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے، اپنا کام کرنے کی بھی آزادی نہیں دی گئی ہے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، مجھ پر اور انور منصور پر لگائے جانیوالے الزامات غلط ہیں، ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا درست نہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بدنیتی میں پس پردہ مقصد ہونا چاہیے، پس پردہ ایسا مقصد جو قانون سے باہر ہو، قانون میں کچھ اقدام ہیں جو بدنیتی پر انحصار کرتے ہیں، بدنیتی میں آسانی سے نہ الزام لگ سکتا ہے نہ ثابت ہو سکتا ہے، حکومت کی بدنیتی نظر آئے گی جب قانون سے باہر کام ہو گا، لگتا ہے کچھ الماری میں پڑا تھا جس کے استعمال کرنے کا انتظار تھا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ وحید ڈوگر کی شکایت میں تین ججز کے خلاف الزام تھا، یہ دلیل درست نہیں کہ ریفرنس کی منظوری کابینہ سے لینا ضروری تھی، آرٹیکل 209 میں وفاقی حکومت کا ذکر نہیں ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کی دلیل ہے کہ جج کو ہٹانے کا معاملہ بڑا سیریس ایشو ہے ، دلیل دی گئی کہ یہ معاملہ کابینہ میں جانا چاہیے تھا۔ اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جج کی تقرری کا جائزہ کابینہ نہیں لیتی اور جسٹس عمر عطا بندیال نے بھی کہا کہ جج کی تقرری کا طریقہ ہی مختلف ہے۔
جب فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کے پابند ہیں تو جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ دلیل تسلیم کر لیں تو صدر مملکت کے اعتراض پر دوسری مرتبہ ایڈوائس کی کیا ضرورت ہے، ریفرنس کی سمری پر رائے صدر مملکت نے آزادانہ طور پر طے کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ہے، صدر مملکت صرف اپنا ذہن اپلائی کرتے ہیں ، صدر مملکت کے سامنے کوئی مواد نہیں تھا، الزامات پر مبنی دستاویزات تھیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کی ایڈوائس سے صدر مملکت اختلاف کر سکتے ہیں جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے واپس بھیج سکتے ہیں، صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس سے اختلاف نہیں کر سکتے، بے نظیر بھٹو کے مقدمے میں فون ریکارڈ ہو رہا تھا، یہاں تو کسی جج کی جاسوسی نہیں کی گئی، نہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جاسوسی ہوئی نہ ہی کسی اور جج کی، ریفرنس اور شوکاز نوٹس میں اینٹی منی لانڈرنگ قانون کی بات نہیں کی گئی۔
جسٹس مقبول باقر نے آبزرویشن دی کہ ہمارے سامنے کوئی بینک ٹرانزکشن نہیں جس پر الزام دے سکیں اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اس لیے تو کہہ رہے کہ انکوائری ہو جائے، 20 مئی سے 28 مئی تک میڈیا پر ریفرنس کی کوئی خبر نہیں تھی، سابق چیف جسٹس کہہ چکے ہیں انہوں نے ریفرنس جج صاحب کو پڑھنے کے لیے دیا، میرے حساب سے جج صاحب صاف ہاتھوں سے عدالت نہیں آئے، جج صاحب نے صدر مملکت کو خط لکھے، اپنا خط بھی خود لیک کیا گیا، ریفرنس کی خبر میڈیا کو حکومت نے لیک نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے ریفرنس پڑھنے کے لیے جج صاحب کو دیا، جج صاحب نے ریفرنس پڑھا اور نوٹس بھی لیے، جج صاحب نے ریفرنس پڑھنے کے باوجود خط میں لکھا مجھے تو ریفرنس کا معلوم ہی نہیں، انکم ٹیکس قانون کے مطابق جائیداد خریداری کے ذرائع بھی بتانے لازم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریری گزارشات کے لیے چار پانچ دن لگیں گے۔
دلائل کے بعد صدر، وزیر اعظم، دیگر فریقین کے وکلاء نے فروغ نسیم کے دلائل اختیار کر لیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کل جواب الجواب دیں گے۔
