وادی گالوان میں خونریز جھڑپ کے تین دن بعد چین نے قید کیے گئے 10 بھارتی فوجی رہا کر دیے ہیں، رہائی پانے والوں میں ایک لیفٹننٹ کرنل اور دو میجر شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تمام قیدیوں کو میجر جنرل کی سطح کے مذاکرات کے بعد شام 5 بجے رہا کیا گیا، قیدیوں میں کوئی زخمی نہیں تھا۔
بھارتی فوجیوں کے پاس اسلحہ تھا’
بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر نے انکشاف کیا ہے جن بھارتی فوجیوں پر چینی فوج نے حملہ کیا تھا، ان تمام کے پاس اسلحہ موجود تھا۔
چین اپنے جدید ترین ٹائپ 15 ٹینک بھارت کی سرحد پر لے آیا
چین اور بھارت کی فوجوں میں لڑائی، ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک
انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ سرحد پر اپنے فرائض انجام دینے والے سپاہیوں کے پاس اسلحہ ہوتا ہے، خصوصاً جب وہ پوسٹ سے جا رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 15 جون کو وادی گالوان میں ہونے والے واقعہ کے وقت بھی بھارتی فوجیوں کے پاس اسلحہ موجود تھا، 1996 اور 2005 کے معاہدوں کے مطابق لڑائی کے دوران اسلحہ کا استعمال ممنوع ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی شق 6 میں لکھا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ 15 جون کو ہمالیہ کی پہاڑیوں پر وادی گالوان میں جاری کشیدہ صورتحال جھڑپوں میں بدل گئی تھی جس میں بھارت کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
چین نے بھارت پر سرحد عبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوجوں نے چین کے زیرقبضہ علاقے میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔