سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا ہے، صدارتی ریفرنس کالعدم کرنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا تاہم 10 رکنی فل کورٹ بینچ میں سے 7 جج صاحبان نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا جبکہ تین ججز نے اس کی مخالفت کی۔
اختلاف کرنے والے تین ججز میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔
مختصر اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین میں عدلیہ کی خودمختاری کو مکمل تحفظ حاصل ہے، آئین پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مساوی برتاؤ کی بات کرتا ہے۔
انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ آئین پاکستان میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ یا کوئی جج یا کوئی انفرادی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں، کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم کونسل کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، جج کو بھی آئین پاکستان کے تحت حقوق دیئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف بی آر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کرے۔ عدالت نے مزید احکامات دیے ہیں کہ ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائش گاہ پر ارسال کیے جائیں جبکہ نوٹس میں جج کی اہلیہ اور بچے فریقین ہوں گے۔
اکثریت کے مختصر فیصلے میں احکامات دیے گئے ہیں کہ کمشنر ان لینڈ ریوینیو 30 روز میں کارروائی پر فیصلہ جاری کرے گا جس کے بعد چئیرمین ایف بی آر فیصلے پر مبنی رپورٹ 7 روز کے اندر سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کرے گا۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف بی آر حکام معاملے پر التواء بھی نہ دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہو تو جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہوگی۔
