کورونا وبا کی شدت ابھی تک برقرار ہے، عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دنیا کے 81 ممالک میں کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے جبکہ صرف 36 ممالک ایسے ہیں جہاں مریضوں کی روزانہ تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
افریقہ میں وبا کے ابتدائی مرحلے میں 100 دنوں میں ایک لاکھ متاثرین رپورٹ ہوئے جبکہ اگلے 50 دنوں میں یہ تعداد دگنی ہو گئی۔
کورونا وبا خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، عالمی ادارہ صحت کی وارننگ
برطانیہ میں کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش اسی ہفتے شروع ہو گی
کیا وٹامن ڈی کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟
برازیل کی صورتحال
برازیل اس وقت امریکہ کے بعد کورونا کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ 50 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
برازیل میں کورونا کا پہلا مریض 26 فروری کو سامنے آیا تھا اور صرف چار ماہ کے دوران کیسز کی تعداد 10 لاکھ 32 ہزار 913 ہو گئی ہے جس سے نہ صرف سیاسی بحران جنم لے رہا ہے بلکہ معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
برازیل میں جمعہ کے روز کورونا کے 54 ہزار 771 مریض سامنے آئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی وبا کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کی صورتحال
امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کی خبروں نے میڈیا میں نمایاں جگہ حاصل کر لی جس کی وجہ سے کورونا وبا کی صورتحال دب گئی تھی لیکن اب کئی ریاستوں میں ایک ہی دن میں کورونا کے ریکارڈ مریض سامنے آنے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ ابھی وبا کی شدت برقرار ہے۔
ملک بھر میں اب تک 22 لاکھ 20 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اموات کی تعداد ایک لاکھ 19 ہزار 112 تک جا پہنچی ہے۔
ایروزونا کے اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر مرتضیٰ اختر کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں واضح طور پر اضافہ ہو رہا ہے، اب یہ صرف ٹیسٹ کرنے کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ اگلے ایک دو ہفتوں میں کیا ہونے جا رہا ہے۔
نیوزی لینڈ کی صورتحال
نیوزی لینڈ کی حکومت نے کورونا پر مکمل فتح کا اعلان کر دیا تھا لیکن اس کے بعد وبا نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز بھارت سے واپس لوٹنے والے ایک جوڑے میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔
ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ایشلے بلوم فیلڈ نے بتایا کہ جوڑے میں کورونا کی علامات موجود نہیں تھیں اور روٹین کے ٹیسٹ میں ان کے متاثر ہونے کا علم ہوا۔
نیوزی لینڈ میں بیرون ملک سے آنے والے تمام افراد کو 14 روز کے لیے قرنطینہ کر دیا جاتا ہے اور ان کا تیسرے اور 12 ویں روز کورونا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔
وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے 8 جون کو اعلان کیا تھا کہ نیوزی لینڈ اب کورونا فری ملک بن گیا ہے لیکن 16 جون سے وائرس سے متاثرہ افراد پھر سے سامنے آنا شروع ہو گئے۔
بلوم فیلڈ نے وضاحت کی ہے کہ وزیراعظم کو علم تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے کورونا وائرس اپنے ساتھ لا سکتے ہیں کیونکہ دنیا میں وبا پوری شدت کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔
آسٹریلیا کی صورتحال
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے وزیراعظم ڈینیل اینڈیوز نے 24 گھنٹوں کے دوران 25 نئے کورونا کیس سامنے آنے کے بعد دوبارہ سے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ان پابندیوں کے تحت 12 جولائی تک ایک گھر میں 5 سے زیادہ مہمان اکٹھے نہیں ہو سکتے جبکہ ریستوران اور شراب خانوں میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 20 افراد موجود رہ سکتے ہیں۔
اینڈریوز نے کہا کہ وہ یہ رپورٹس دیکھ کر بہت مایوس ہوئے ہیں کہ الگ تھلگ رہنے کے احکامات کے باوجود لوگ اپنے گھروں میں تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی صورتحال
جنوبی کوریا نے بھی کورونا پر قابو پا لیا تھا لیکن اس کے بعد 67 نئے کیس سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی تعداد 12 ہزار 373 ہو گئی ہے، اب تک وبا کے ہاتھوں 280 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 67 میں سے 31 افراد وہ ہیں جو بیرون ملک سے واپس لوٹے ہیں جبکہ 36 مقامی طور پر وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
میکسیکو کی صورتحال
میکسیکو بھی کورونا سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جمعہ کے روز ملک بھرمیں 647 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 485 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 20 ہزار 394 ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا مریضوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔