چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زاو لیجیان نے چین اور بھارت کی فوجوں کے درمیان وادی گالوان میں ہونے والی جھڑپ کی تمام تفصیلات بتا دی ہیں۔
ٹویٹر پر ایک تھریڈ کے ذریعے انہوں نے واقعات کی مکمل ٹائم لائن کچھ یوں بیان کی ہے۔
1۔ وادی گالوان کیا ہے؟
وادی گالوان چین بھارت سرحد کے مغربی سیکشن میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی جانب واقع ہے۔ کئی برسوں سے چین کے سرحدی دستے یہاں گشت کرتے رہتے ہیں اور اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
2۔ بھارت کا کردار
اپریل سے بھارت کے سرحدی دستوں نے یکطرفہ طور پر ایک تسلسل کے ساتھ اس وادی میں سڑکیں، پلیں اور دیگر کام شروع کر دیے۔ چین نے بار بار اس پر احتجاج کیا لیکن بھارت نے ایل اے سی کو عبور کرنا اور اشتعال انگیزی جاری رکھی۔
3۔ 6 مئی کو کیا ہوا؟
چھ مئی کو بھارت کی سرحدی فوج نے ایل اے سی کو عبور کیا اور چینی علاقے میں گھس آئے، یہاں انہوں نے دفاعی تعمیرات اور مورچے تعمیر کرنے شروع کر دیے جن کی وجہ سے چینی دستوں کے گشت میں رکاوٹ پیدا ہونا شروع ہو گئی۔
بھارتی فوجیوں نے جان بوجھ کر ایل اے سی پر موجود اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لیے اشتعال انگیزی شروع کر دی۔
4۔ چینی فوجیوں کا ردعمل
چینی فوجی ضروری اقدامات کرنے پر مجبور ہو گئے تاکہ وہ زمین پر موجود صورتحال پر اپنا ردعمل پیش کر سکیں اور سرحدی علاقوں میں اپنا کنٹرول اور انتظام مضبوط کر سکیں۔ اس دوران کشیدگی میں کمی کے لیے چین اور بھارت فوجی و سفارتی ذرائع سے آپس میں قریبی رابطے میں رہے۔
5۔ آخرکار بھارت مان گیا
چین کی طرف سے سخت مطالبے کے بعد بھارت نے ان فوجیوں کو واپس بلانے پر آمادگی ظاہر کر دی جنہوں نے ایل اے سی عبور کی تھی۔
اسی طرح بھارت نے دفاعی تنصیبات مسمار کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کر دی، انہوں نے اس پر عمل بھی کیا۔
6۔ کمانڈروں کی ملاقات
6 جون کو سرحدی فوجوں نے کمانڈروں کی سطح پر ایک میٹنگ کی جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوا، بھارت نے وعدہ کیا کہ تنصیبات یا گشت کے لیے دریائے گالوان کا دہانہ عبور نہیں کرے گا۔
یہ طے کیا گیا کہ موقع پر موجود افسران اپنے فوجیوں کی مرحلہ وار واپسی پر بات کریں گے اور اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
7۔ بھارت کی عہد شکنی
15 جون کی شام کو بھارت کے خط اول کے فوجیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو عبور کیا اور اس وقت جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کی جبکہ صورتحال معمول پر آ رہی تھی۔
8۔ بھارتی فوجیوں کا حملہ
اسی شام بھارت کے خط اول کے فوجیوں نے ان چینی افسروں اور فوجیوں پر پرتشدد حملہ کیا جو وہاں گفت و شنید کے لیے گئے تھے، اس کی وجہ سے شدید لڑائی شروع ہوئی جس میں جانیں ضائع ہوئیں۔
زاو لیجیان نے بتایا کہ یہ وادی گالوان میں ہونے والی جھڑپ کا پس منظر تھا تاہم انہوں نے جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔