• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

برطانیہ میں جنوب ایشیائی باشندوں کی کورونا سے زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟ نئی تحقیق

by sohail
جون 20, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

دنیا بھر میں کورونا وائرس لاکھوں زندگیاں نگل گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلکہ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ اس وائرس نے ویسے تو کسی نسلی امتیاز اور امیر غریب کا فرق ملحوظ نہیں رکھا تاہم جان لینے کے معاملے میں اس نے کہیں نہ کہیں نسلی تعصب کا اظہار کیا ہے اور سفید فام لوگوں کی  نسبت سیاہ فام اور ایشیائی عوام پر موت کا قہر بن کر ٹوٹا۔

برطانیہ میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی ہلاکتوں کی وجوہات پر کی گئی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی ایشیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد میں اسپتال داخل ہونے کے بعد مرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

اکٹھے آئے ہیں، اکٹھے جائیں گے، کورونا سے مرنیوالی جڑواں بہنوں کی کہانی

کورونا وبا: دنیا نے مصافحہ کے بجائے کئی متبادل طریقے اختیار کر لیے

6 فروری سے 8 مئی کے درمیان انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے اسپتالوں میں داخل کورونا میں مبتلا 40 فیصد لوگوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جنوبی ایشائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسپتال میں شرح اموات سفید فام لوگوں کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے۔ اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر نسلوں میں یہ خطرہ سفید فام کی نسبت زیادہ نہیں تھا۔ 

تحقیق کے مطابق برطانوی میں مقیم جنوب ایشیائی آبادی میں ذیابطیس کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث ان کی اموات کی شرح میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر، کنسلٹنٹ اور اس تحقیق کے سرکردہ مصنف ایوین ہیریسن کا کہنا ہے کہ بقیہ 82 فیصد امکانات میں پیشہ، محرومی اور بائیولوجیکل عوامل کا عمل دخل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک ملک ہونے کی حیثیت سے ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم موجودہ یا دستیاب شدہ علاج کو کس طرح سے تقسیم کریں کیونکہ اس تحقیق نے ایک بار پھر نسلی امتیاز کو کوڈ 19 کے بڑھتے ہوئے خطرے کے متعلق بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔

پروفیسر کالوم سیمپل نے کہا کہ ہم صحت کی دیکھ بھال، فراہمی اور عوامی شعبے میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں میں ایشائی لوگوں کی خدمات کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے مثال دی کہ صحت عامہ، کیئر ہومز، ناک، کان گلے کے سرجنز اور ماہر معالجین تک ایشائی برادری کا نمایاں کردار اور ان کی بھرپور خدمات ہیں۔

Tags: برطانیہ میں کورونا سے ایشیایوں کی امواتبرطانیہ میں‌ کورونا وائرسکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

وادی گالوان میں فوجی جھڑپ، چین نے واقعات کی مکمل تفصیل بتا دی

حادثات سے تحفظ کے چند موثر اقدام

کورونا کی بڑھتی شرح کے حوالے سے پاکستان پہلے تین ممالک میں شامل، ظفر مرزا

پاکستان میں 4855 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر، 48 جاں بحق

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب بھی کورونا کا شکار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In