دنیا بھر میں کورونا وائرس لاکھوں زندگیاں نگل گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلکہ اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔ اس وائرس نے ویسے تو کسی نسلی امتیاز اور امیر غریب کا فرق ملحوظ نہیں رکھا تاہم جان لینے کے معاملے میں اس نے کہیں نہ کہیں نسلی تعصب کا اظہار کیا ہے اور سفید فام لوگوں کی نسبت سیاہ فام اور ایشیائی عوام پر موت کا قہر بن کر ٹوٹا۔
برطانیہ میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی ہلاکتوں کی وجوہات پر کی گئی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی ایشیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد میں اسپتال داخل ہونے کے بعد مرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔
اکٹھے آئے ہیں، اکٹھے جائیں گے، کورونا سے مرنیوالی جڑواں بہنوں کی کہانی
کورونا وبا: دنیا نے مصافحہ کے بجائے کئی متبادل طریقے اختیار کر لیے
6 فروری سے 8 مئی کے درمیان انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے اسپتالوں میں داخل کورونا میں مبتلا 40 فیصد لوگوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جنوبی ایشائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسپتال میں شرح اموات سفید فام لوگوں کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے۔ اسی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر نسلوں میں یہ خطرہ سفید فام کی نسبت زیادہ نہیں تھا۔
تحقیق کے مطابق برطانوی میں مقیم جنوب ایشیائی آبادی میں ذیابطیس کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث ان کی اموات کی شرح میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر، کنسلٹنٹ اور اس تحقیق کے سرکردہ مصنف ایوین ہیریسن کا کہنا ہے کہ بقیہ 82 فیصد امکانات میں پیشہ، محرومی اور بائیولوجیکل عوامل کا عمل دخل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایک ملک ہونے کی حیثیت سے ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم موجودہ یا دستیاب شدہ علاج کو کس طرح سے تقسیم کریں کیونکہ اس تحقیق نے ایک بار پھر نسلی امتیاز کو کوڈ 19 کے بڑھتے ہوئے خطرے کے متعلق بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔
پروفیسر کالوم سیمپل نے کہا کہ ہم صحت کی دیکھ بھال، فراہمی اور عوامی شعبے میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں میں ایشائی لوگوں کی خدمات کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے مثال دی کہ صحت عامہ، کیئر ہومز، ناک، کان گلے کے سرجنز اور ماہر معالجین تک ایشائی برادری کا نمایاں کردار اور ان کی بھرپور خدمات ہیں۔