صحت عامہ سے متعلقہ حکام کورونا وائرس کے خطرے کو کم کرنے کیلئے فوری طور پر وٹامن ڈی کی کورونا کے خلاف ممکنہ صلاحیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
وٹامن ڈی کا طبی جائزہ لینے کا فیصلہ اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات پر تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ جس میں 94 فیصد ڈاکٹروں کی اموات کورونا وائرس کے باعث ہونے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی جانب سے کئے گئے ریویو میں ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں بی اے ایم ای (BAME) لوگ کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جس میں تاریخی نسلی خصائص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جبکہ غذا اور وٹامن ڈی کے کردار کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی برائے نیوٹریشن نے اس کام کا آغاز گزشتہ ماہ میں شروع کر دیا تھا اور وہ عام آبادی میں وٹامن ڈی اور سانس کی نالی کے انفیکشن سے متعلق حالیہ شواہد پر غور کر رہے ہیں۔
ان شواہد کی بنیاد پر مخصوص آبادی والے گروپ پر غور کیا جائے گا جس میں مختلف عمر سے تعلق رکھنے والے گروپ اور بی اے ایم ای گروپ کے لوگ شامل ہوں گے۔ اس جائزہ کو آنے والے ہفتوں میں شائع کیا جائے گا۔
کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے سانس کی انفیکشن و قوت مدافعت کے پروفیسر ایڈریان مارٹینائو نے اس ریویو کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ این ایچ ایس میں سیاہ فام، ایشائی اور دیگر اقلیتی نسلوں سے تعلق رکھنے والے عملے کی اموات وٹامن ڈی کی کمی سے ہونے کے امکان کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وٹامن ڈی کو ڈیزائنر دوا کے طور پر استعمال کرانے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کیونکہ یہ جسم میں وائرل انفیکشن کو سنبھالنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ وائرس کو مارنے اور مزاحمت کرنے کے لیے انسانی خلیوں کی صلاحیت بڑھا دیتا ہے اور نقصان دہ سوزش کو بھی کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مارٹینائو کا مزید کہنا تھا کہ میرے علم کے مطابق دنیا میں کہیں بھی وٹامن ڈی پر کلینیکل ٹرائلز نہیں ہو رہے تاکہ مسلسل پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کو روکا جائے، سانس کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اس کے استعمال کے کلینیکل شواہد ملے جلے ہیں تاہم سٹڈیز یہ تجویز کرتی ہیں کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹ کا استعمال محفوظ ہے اور یہ سانس کی نالیوں میں ہونے والی انفیکشن سے حفاظت کرتا ہے۔