جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے بیرون ملک اثاثوں کی وڈیو لنک پر رسیدیں دکھا دی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں 2020 میں تیسرا ویزہ جاری کرنے کے وقت پریشان کیا گیا، ایف بی آر نے انہیں ہراساں کیا جبکہ ان کے بیٹے کو لندن میں ہراساں کیا گیا۔
عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے 2018 کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سیل لفافے میں طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایف بی آر کی بہت شکایت کی ہے جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر نے زیادتی کی تو براہ راست شکایت وزیراعظم کے پاس جائے گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے موقف سننے کا موقع دینے کے لیے عدالت کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ اپنے خاوند سے کہا مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے تو خاوند نے مجھے کہا ریفرنس میرے متعلق نہیں ہے، میرے لیے یہ بڑا مشکل وقت تھا، میرے والد قریب المرگ ہیں۔
انہوں نے اپنا برتھ سرٹیفکیٹ اور پرانا شناختی کارڈ بھی دکھایا اور بتایا کہ میرا نام سرینا ہے، میری شادی 25 دسمبر 1980 کو ہوئی، میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 میں بنا، اسوقت میرے خاوند جج نہیں تھے، پہلا کارڈ زائد المیاد ہونے پر دوسرا کارڈ بنوایا، میرا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسیٰ ہے، میری والدہ سپینش ہیں، میرے پاس سپینش پاسپورٹ ہیں۔
جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کے مطابق ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا، انہوں نے کہا کہ جب میرا خاوند وکیل تها تو مجهے پاکستان کا پانچ سال کا ویزا جاری ہوا، ویزا اس وقت ملا جب میرا خاوند جج نہیں تهے، میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا، دوسرا ویزا جب جاری ہوا تو خاوند سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے، جنوری 2020 میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا، یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے ہراساں کیا گیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا، اپنوں نے ایسا کیس بنایا جیسے میں ماسٹر مائنڈ کریمنل ہوں، پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی، برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا ، کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی، ریحان نقوی میرے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے، گوشوارے کرانے پر حکومت نے مجھے ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا۔
قاضی عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا، کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد خریدی ، کلفٹن کی کی پراپرٹی فروخت کر کے شاہ لطیف میں خریدی گئی پراپرٹی بھی فروخت کر دی گئی، میری زرعی زمین میرے اپنے نام پر ہے، زرعی زمین کا خاوند سے تعلق نہیں ہے ، زرعی زمین والد سے ملی ہے اور ڈسٹرکٹ جیکب آباد سندھ میں ہے، ریحان نقوی نے مشورہ دیا کہ زرعی آمدن قابل ٹیکس نہیں، ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیسہ بینک اکاؤنٹ سے لندن بهیجا گیا، میرے نام سے پیسہ باہر گیا، جس اکاؤنٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے، ایک پراپرٹی 2,36,000 پاؤنڈ میں خریدی گئی، سٹینڈر چارٹر بنک کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکه پاؤنڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی، یہ تمام دستاویزات اصلی ہیں، میرا لندن اکاونٹ بهی صرف میرے نام پر ہے، برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا 2016 سے ابتک کا ریکارڈ دکھایا ، وہاں زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا ، میں ایف بی آر گئی تو مجھے کئی گھنٹے انتظار کرایا گیا، ایک بندے سے دوسرے بندے کے پاس بھیجا گیا ، میں نے پوچھا میرا آر ٹی او کراچی سے اسلام آباد کیوں تبدیل ہوا ، میں نے ایف بی آر کو دو خط بھی لکھے، 27 جنوری 2020 کو ایف بی آر جا کر پہلا خط حوالے کیا۔۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے لیکن ہمارے لیے مسئلہ یہ ہے میرٹ کا جائزہ نہیں لے سکتے، آپ کے پاس دو فورم ہیں، فریقین سے پوچھ کر معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے، آپ وہاں پر موقف دے سکتی ہیں، آپ کے پاس سوالات کے مضبوط جواب ہیں، متعلقہ اتھارٹیز کو ان دستاویزات سے مطمئن کریں، آپ کے حوصلے کی داد دیتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ 13 ماہ میں نے انتظار کیا، میرے بیٹے کو انگلینڈ میں ہراساں کیا گیا، میں کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتی، مجھ سے عام شہری کی طرح سلوک کیا جائے، میں لندن کی جائیدادیں 2018 کے گوشواروں میں جمع کرا چکی ہوں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہت بہادر اور حوصلہ مند خاتون ہیں، اچھے ذہن کے ساتھ آپ کو موقع دیا، ہمارے پاس مقدمہ میرٹ پر سننے کا حق نہیں، ہم آپ کے حوالے سے مطمئن ہے، خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہیں، اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس تمام معلومات موجود تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آدھا گھنٹہ سن کر محسوس ہوا کہ آپ کے پاس اپنا موقف پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
