• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

by sohail
جون 19, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔

صدارتی ریفرنس کالعدم کرنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست سننے والے 10 رکنی فل کورٹ بینچ میں سے 7 جج صاحبان نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا جبکہ  تین ججز نے اس کی مخالفت کی۔ تین ججز میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف بی آر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کرے۔ عدالت نے مزید احکامات دیے ہیں کہ ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائش گاہ پر ارسال کیے جائیں جبکہ نوٹس میں جج کی اہلیہ اور بچے فریقین ہوں گے۔ 

اکثریت کے مختصر فیصلے میں احکامات دیے گئے ہیں کہ کمشنر ان لینڈ ریوینیو 30 روز میں کارروائی پر فیصلہ جاری کرے گا جس کے بعد چئیرمین ایف بی آر فیصلے پر مبنی رپورٹ 7 روز کے اندر سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کرے گا۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف بی آر حکام معاملے پر التواء بھی نہ دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہو تو جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہوگی۔

10 رکنی فل کورٹ بینچ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ درخواست 10 ماہ تک ملتوی رہی اور اس پر تقریباً 46 سماعتیں ہوئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ وکلاء کی تنظیموں نے بھی صدارتی ریفرنس چیلنج کر رکھا تھا۔

28  مئی کو وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جو کونسل کو 29 مئی کو موصول ہوا۔ 14 جون کو سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس ہوا جبکہ 18 جولائی کو کونسل نے قاضی فائز عیسیٰ کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے کل چار اجلاس منعقد ہوئے۔ 7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا اور 17 ستمبر کو کیس کی پہلی سماعت 7 رکنی لارجر بینچ نے کی اور اسی روز ہی جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود کی بینچ میں شمولیت کو چیلنج کیا، منیر اے ملک نے 21 سماعتوں میں اپنے دلائل مکمل کیے۔

 18 فروری کو سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے بینچ میں شامل ایک جج پر الزام عائد کیا جس کے بعد انہوں نے 20 فروری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، 24 فروری کو نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے حکومت کی نمائندگی کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کورونا کی وجہ سے کیس تین ماہ سے زائد وقفے کے بعد 2 جون کو سماعت کے لیے مقرر ہوا اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے وزارت سے استعفیٰ دے کر بغیر فیس حکومتی وکیل کے خدمات سرانجام دیںچ، انہوں نے 9 سماعتوں میں اپنے دلائل مکمل کیے۔

جمعرات 18 جون کو جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا بیان سپریم کورٹ میں ریکارڈ کرایا اور لندن میں جائیدادوں کے تمام دستاویزات آن لائن سکرین پر دکھا دیے جس پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا۔

آج صبح سماعت کے اختتام پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں، ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں، انشاء اللہ اپنا کام آئین اور قانون کے مطابق کرینگے، ہمیں مشاورت کے لیے وقت چاھیئے ہوگا، اگر ججز کا اتفاق ہوا تو آج چار بجے فیصلہ سنائیں گے۔

سماعت میں وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آر کے دستاویز سر بمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرائے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ کے وکیل منیر اے نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویز عدالت میں پیش کردیں۔

 تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لے گی اور نہ ہی اس پر کوئی آرڈر پاس کرے گی، معزز جج کی اہلیہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لا چکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کرائیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ کے وکیل منیر اے ملک نے جواب الجواب میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم کے مطابق ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے، برطانوی جج جسٹس جبرالٹر کی اہلیہ کے خط اور انکی برطرفی کا حوالہ دیا گیا، جسٹس جبرالٹر نے خود کو اہلیہ کی مہم کیساتھ منسلک کیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم کہتے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کر دی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہو گئے ہیں، حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آ گئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کالعدم قرار دے، سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افتخارچوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کے الزامات تھے، سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا، توقع ہے کہ مجھے جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنی پڑے گی۔

منیر اے ملک نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا، کہا گیا ہے کہ افتخار چوہدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں ہوا تھا، اول تو آرٹیکل 209 میں شوکاز نوٹس کا ذکر ہی نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل نے افتخار چوہدری کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل صدر کے کنڈکٹ اور بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل کا کام صرف حقائق کا تعین کرنا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ شوکاز نوٹس کے بعد جوڈیشل کونسل کے آئینی تحفظ کا سوال بہت اہم ہے۔

منیر اے ملک نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو کوئی نیا ادارہ یا ایجسنی بنانے کا اختیار نہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے رولز میں ترمیم ضروری تھی، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے ٹی او آرز قانون کیخلاف ہیں، باضابطہ قانون سازی کے بغیر اثاثہ جات ریکوری یونٹ جیسا ادارہ نہیں بنایا جاسکتا، جو ریلیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چاہیے وہ جوڈیشل کونسل نہیں دے سکتی۔

منیر اے ملک نے دلائل میں مزید کہا کہ الزام عائد کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جان بوجھ کر جائیدادیں چھپائیں، عدالتی کمیٹی کہتی ہے غیر ملکی اثاثے ظاھر کرنے سے متعلق قانون میں بھی ابہام ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا موقف تھا کہ ریفرنس سے پہلے جج کی اہلیہ سے دستاویز لی جائیں، کل کی سماعت کے بعد آپ کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ کیا ہم ایسا قانون چاھتے ہیں کہ ایک ادارہ دوسرے کی جاسوسی کرے؟

جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کہا کہ جج کے بنیادی حقوق زیادہ اہم ہیں یا ان کا لیا گیا حلف؟

منیر اے ملک نے کہا کہ کہ عدالت درخواست کو انفردی شخص کے حقوق کی پٹیشن کے طور پر نہ لے، لندن جائیدادوں کی تلاش کیلئے ایک ویب سائیٹ کو استعمال کیا گیا جس کے لیے ادائیگی کرنا پڑتی ہے، آن لائن ادائیگی کی رسید ویب سائٹ متعلقہ بندے کو ای میل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضیاء المصطفیٰ نے ہائی کمشن کی تصدیق شدہ جائیداد کی تین نقول حاصل کیں، جن سیاسی شخصیات کی سرچ کیں اس کی رسیدیں بھی ساتھ لگائی ہیں، حکومت رسیدیں دے تو سامنے آ جائے گا کہ جائیدادیں کس نے سرچ کیں، وحید ڈوگر نے ایک جائیداد کا بتایا تھا، اگر سرچ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کیں تو رسیدیں دے۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو نے بظاہر صرف سہولت کاری کا کام کیا ہے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ حکومت کہتی ہے دھرنا فیصلے پر ایکشن لینا ہوتا تو دونوں ججز کے خلاف لیتے، حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاھتی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے منی ٹریل سے متعلق دستاویز جمع کرا دیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کرا دیں۔ فیصلہ محفوظ ہونے سے قبل وکلاء بار تنظیموں کے نمائندوں نے بھی دلائل دیے۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

چین نے ایک لیفٹننٹ کرنل، دو میجرز سمیت 10 بھارتی فوجی رہا کر دیے

سونو نگم نے بھارت کی میوزک انڈسٹری میں جلد خودکشی کا امکان ظاہر کیوں کیا؟

جسٹس عیسیٰ کیس کا فیصلہ، تین جج صاحبان نے اختلافی نوٹ میں کیا لکھا؟

رواں سال کا سورج گرہن اتوار 21 جون کو ہو گا

کیا وٹامن ڈی کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In