وعدے پورے نہ ہونے پر بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر مینگل نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سرکاری طور پر پی ٹی آئی کے ساتھ اپنے اتحاد کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں، ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مختلف معاملات پر بات کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کے وقت اور بعدازاں پی ٹی آئی نے ہماری جماعت کے ساتھ دو معاہدے کیے تھے لیکن ان کے ایک بھی نکتے پر عمل نہیں کیا گیا۔
اخترمینگل کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے مطالبات غیرقانونی اور غیرآئینی تھے تو ہم موت کی سزا کے لیے بھی تیار ہیں لیکن جنہوں نے ان معاہدوں پر اپنے دستخط کیے تھے انہیں بھی اس کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے اور دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتان کی سرحد سے زائرین کو انتظامات کیے بغیر ملک میں لانے کے باعث کورونا وائرس پھیلا ہے، جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیئے۔
اختر مینگل نے کہا کہ پارلیمنٹ ہائیڈ پارک کو منظر پیش کر رہی ہے جہاں ہر کوئی اپنا غم و غصہ نکال دیتا ہے لیکن اسے کوئی سننے کا تیار نہیں ہے۔