• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جسٹس عیسیٰ وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں سامنے لے آئے

by sohail
جون 17, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان اور زلفی بخاری سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کئی راہنماؤں کی لندن میں موجود جائیدادوں کی تفصیل سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے۔  

تفصیلات کے مطابق صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست میں جسٹس عیسیٰ نے اضافی جواب جمع کرایا ہے جسکے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب کی برطانیہ میں پانچ جائیدادیں ہیں جبکہ وزیر اعظم کی اپنی 6 جائیدادیں ہیں۔

تحریری جواب کے مطابق زلفی بخاری کی بھی برطانیہ میں سات جائیدادیں ہیں جبکہ عثمان ڈار کے نام پر تین اثاثے ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق سابق وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان اور جہانگیر ترین کے نام ایک ایک جائیداد ہے جبکہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی بھی برطانیہ میں دو جائیدادیں ہیں۔

سپریم کورٹ کا 10 رکنی فل کورٹ بنچ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے جہاں حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل جاری ہیں۔

جسٹس عیسیٰ نے وضاحت کی ہے کہ وہ یہ الزام نہیں لگا رہے کہ یہ اثاثے انکم ٹیکس قوانین، یا فارن ایکسچینج سمیت منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کو ان رہنماؤں کا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کتنی آمدن ظاہر کی اور کتنا ٹیکس دیا اور یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا انکی آمدنی ان ذرائع سے ہوئی ہے جو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ کیا یہ پیسہ غیر قانونی طریقے سے تو باہر نہیں گیا۔

اپنے تحریری جواب میں جسٹس عیسیٰ نے موقف اختیار کیا کہ تمام تحقیقات میں ان افراد کو وضاحت کا موقع ملنا چاہیے اور بغیر وضاحت اور ثبوت کے یہ الزام نہیں لگنا چاہیے کہ ان افراد کی اہلیہ کے ناموں پر یہ اثاثے ہیں۔

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر تنخواہ نہیں لے رہے تو وہ اپنے اخراجات کیسے برداشت کر رہے ہیں۔

اے آر یو کے حوالے سے جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ شہزاداکبر کی تقرری کے حکمنانے میں ان کی خدمات کی نوعیت کا کہیں ذکر نہیں جبکہ اے آر یو کسی کو جوابدہ نہیں کیونکہ اسکا سربراہ شہزاد اکبر خود ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مہذب ممالک میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی، درحقیقت اے آر یو کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور منتخب نمائندوں کو اس معاملے میں بائی پاس کیا گیا جس سے آئین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

Tags: بیرون ملک جائیدادیںجسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستانوزیراعظم عمران خان
sohail

sohail

Next Post

حکومت تیار لیکن جسٹس عیسیٰ اپنی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کے مخالف

بی این پی مینگل نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

خدا حافظ طارق عزیز

چین اپنے جدید ترین ٹائپ 15 ٹینک بھارت کی سرحد پر لے آیا

پٹرول بحران کی تحقیقات مکمل، 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ذمہ دار قرار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In