کورونا ویکسین پر کام کرنے والے برطانوی سائنسدانوں کو اسے رواں ہفتے انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔
یہ ویکسین ایک نئی ٹیکنالوجی کے تحت بنائی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر آسانی سے تیار کیا جا سکے گا اور اس کی قیمت بھی کم ہو گی، سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے 3.76 ڈالر میں فروخت کیا جا سکے گا۔
ویکسین پر ریسرچ اور اس کی آزمائش پر برطانوی حکومت نے ایک کروڑ 85 لاکھ ملین یورو کے فنڈز فراہم کیے ہیں جبکہ پرائیویٹ اداروں کی جانب سے بھی اس کے لیے 50 لاکھ یورو کے عطیات موصول ہو چکے ہیں۔
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
امریکی کمپنی اکتوبر میں کورونا ویکسین کی لاکھوں خوراکیں مہیا کرنے کے لیے پرامید
کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟
امپیریل کالج آف لندن کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس ویکسین کے ذریعے جسم میں کورونا کے آر این اے کا ایک گرام کا لاکھواں حصہ داخل کیا جاتا ہے تاکہ یہ خود سے بڑھنا شروع کر دے۔
اس آر این اے کی موجودگی کے باعث انسانی خلیے ایک ایسی پروٹین خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں جو کورونا کے خلیوں پر پائی جاتی ہے، اس کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس سے قوت مدافعت کو وائرس کی پروٹین کو پہچاننے اور ختم کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعد میں اگر وائرس کا حملہ ہوتو یہ صلاحیت اسے روک دیتی ہے۔
ٹیم کے لیڈر پروفیسر رابن شیٹوک نے کہا کہ ایک لٹر ویکسین دو کروڑ انسانوں کو لگانے کے لیے کافی ہو گی، اتنی تھوڑی مقدار حفاظتی نکتہ سے بھی اچھی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جا سکتا ہے۔
اب تک اس ویکسین کے چوہوں پر کیے گئے تجربات کامیاب ہو گئے ہیں، ٹیم کو امید ہے کہ منظوری ملنے کے 48 گھنٹوں بعد انسانوں پر اس کی آزمائش شروع ہو جائے گی۔
پہلے مرحلے پر 120 افراد پر ویکسین کو ٹیسٹ کیا جائے گا، اس کے نتائج سامنے آنے کے بعد 6 ہزار افراد پر اس کی آزمائش کی جائے گی۔
پروفیسر رابن شیٹوک کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی گئی رقم سے وہ کسی بھی وقت 50 لاکھ خوراکیں پیدا کر سکتے ہیں اور مزید ویکسین بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
اگر ویکسین کورونا وائرس کے خلاف کامیاب ثابت ہوتی ہے تو اسے سوشل انٹرپرائزر کمپنی ویک ایکیوٹی گلوبل ہیلتھ کے ذریعے پوری دنیا میں تقسیم کیا جائے گا۔