• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ریفرنس کے بجائے پہلے ٹیکس قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ کی تجویز

by sohail
جون 16, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست میں سماعت کے دوران فل کورٹ بینچ نے حکومتی وکیل کو تجویز کی کہ ریفرنس کے بجائے ایف بی آر میں کارروائی کی جائے اور اور اگر ایف بی آر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے تو حکومت اس کی بنیاد پر دوبارہ سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ دائر صدارتی ریفرنس میں خامیاں ہیں۔ اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ وہ حکومت سے مشاورت کر کے کل عدالت کو آگاہ کریں گے۔

سماعت کی تفصیل

صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت میں حکومت کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے پانچ روز سے زائد ہو چکے ہیں مگر وفاقی حکومت نے عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے بنیادی سوالات کے جوابات ابھی تک نہیں دیے گئے۔ عدالت نے فروغ نسیم کو دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت دے دی۔

بنیادی سوالات شواہد اکھٹے کرنے کے لیے اپنایا گیا طریقہ کار، بیرون ملک اثاثوں کی کھوج لگانے کے لیے اپنایا گیا طریقہ کار، ریفرنس کے پیچھے مبینہ بدنیتی، جج اور انکے اہلخانہ کی جاسوسی اور جج کے خلاف سنگین مہم سے متعلق ہیں۔

منگل کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ کے روبرو سماعت میں سلائی مشینوں کے کاروبار کا تذکرہ بھی ہوا۔

سماعت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم ججز کے احتساب سے متفق ہیں، درخواست گزار نے بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے شواہد اکٹھے کرنے کا الزام لگایا ہے، ریفرنس میں قانونی نقائص موجود ہیں، عمومی مقدمات میں ایسی غلطی پر کیس خارج ہو جاتا ہے، اگر ریفرنس میں بدنیتی ثابت ہوئی تو کیس خارج ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک ریفرنس میں کئی خامیاں موجود ہیں، لندن کی جائیدادوں کی ملکیت تسلیم شدہ ہے، مقدمے میں سوال جائیداد کی خریداری کا ہے، درخواست گزار نے جائیدادوں کے وسائل خریداری بتانے سے بھی انکار نہیں کیا جبکہ درخواست گزار چاہتا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، ایف بی آر نے 116 اور 114 کے تحت نوٹس جاری کئے، معاملہ جوڈیشل کونسل کے پاس بھی چلا جائے، اگر بدنیتی نہیں ہے تو کونسل کارروائی کر سکتی ہے۔

انہوں نے فروغ نسیم سے کہا کہ آج بدنیتی اور شواہد اکٹھے کرنے پر دلائل دیں، ہم اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں، یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے ایف بی آر کو معاملے پر فیصلہ کرنے دیا جائے، وہاں پر فیصلہ اہلیہ کے خلاف آتا ہے تو پھر جوڈیشل کونسل میں جایا جائے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کسی جج کے خلاف کونسل کے سوا کوئی ایکشن نہیں لے سکتا جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ایف بی آر میں جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع بتائے جائیں تو کونسل میں دوبارہ واپس آ جائیں،  قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ فروغ نسیم صاحب ایف بی آر میں کارروائی کے معاملے پر سوچ لیں، وقفے کے بعد بتا دیں کیا کرنا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت کی نظر میں یہ ایک بہتر راستہ ہو سکتا ہے، جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف ضابطے کی کارروائی ہوتی ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ضابطے کی کارروائی کا انحصار کسی دوسری کارروائی پر ہوگا، ایسی صورت میں آزادانہ کارروائی کیسے ہوگی، اس صورتحال میں ضابطے کی کارروائی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔

فروغ نسیم نے اصرار کیا کہ جوڈیشل کونسل کی کارروائی کا انحصار کسی فورم کی کارروائی پر نہیں ہے، ضابطے کی کارروائی میں نہیں کہہ سکتے کہ میری اہلیہ خودکفیل ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق قانون کی سہولت عام شہری کو دسیتاب ہے اور ججز کو قانون کے مطابق یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ سروس آف پاکستان کے تحت اہلیہ خاوند سے الگ نہیں ہے، ایف بی آر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا بھی جائے تو ٹائم فریم کیا ہو گا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہو سکتا ہے کہ انکم ٹیکس کہہ دے کہ ذرائع درست ہیں، ہو سکتا ہے ٹیکس اتھارٹی کے فیصلے سے جوڈیشل کونسل اتفاق کرے نہ کرے، دیکھنا تو یہ ہے جائیداد کی خریداری حلال ہے یا دوسرے طریقے سے، ہمیں جوڈیشل کونسل پر مکمل اعتماد ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ مجھے وزیراعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کے لیے وقت دیں تو جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ چلیں ابھی آپ اپنے دلائل دیں۔

فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سروس آف پاکستان کے تحت کوئی اہلیہ کی پراپرٹیز کا جواب دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اگر سرکاری ملازم اپنی اہلیہ سے معلومات لینے سے قاصر ہو تو پھر ایسی صورت میں کیا ہوگا۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ سرکاری ملازم اگر اہلیہ کا بہانہ بنائے تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا، جج نے نہیں کہا میری اہلیہ مجھے معلومات فراہم نہیں کر رہی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ خاوند اگر ایف بی آر سے ریکارڈ نہیں لے سکتا تو پھر تو اسکے ہاتھ باندھ دیئے گئے۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ انکم ٹیکس کی مشینری کا استعمال کیا گیا، جو قانونی طریقہ کار ہے اسکو چلنے دیں۔

فروغ نسیم نے موقف اپنایا کہ پبلک سرونٹ سے اثاثوں کی تفصیل مانگی جائے تو وہ انکم ٹیکس کا عذر پیش نہیں کر سکتا، پبلک سرونٹ کے پوچھنے پر اہلیہ سے پوچھ۔ کر انضباطی کارروائی کا جواب دینا ہوگا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ حکومت نے نہیں مانگا، ایف بی آر سے ٹیکس کا ریکارڈ جوڈیشل کونسل نے منگوایا جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ فاضل وکیل صاحب ایسا نہ کریں، ایف بی آر کو پہلے خط حکومت کی جانب سے لکھا گیا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ میں اگر بطور رکن پارلیمنٹ اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیل نہ بتاوں تو نااہل ہو جاؤں گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے نے کہا کہ لمبی بات نہ کریں وقت تھوڑا ہے،  آپ انکم ٹیکس قانون کا سیکشن 216 پڑھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا خاوند ایف بی آر سے براہ راست اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ مانگ سکتا ہے۔ فروغ نیسم نے کہا کہ میرے خیال سے خاوند ریکارڈ مانگ سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ خیال نہیں ہے آپ قانون سے بتائیں،  اہلیہ معلومات دینے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں خاوند ٹیکس ریکارڈ کیسے حاصل کرے گا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ریفرنس آنے سے قبل ایف بی آر اور اے آر یو نے کیسے معلومات حاصل کر لی۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو یونٹ ٹیکس کا معاملہ ایف بی آر کو بجھوا سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اے آر یو یونٹ کیسے بنایا گیا، وزیراعظم صرف وزارت بنا سکتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اے آر یو یونٹ کیا ہے معلومات کیسے حاصل کی گئی، آپ پہلے ایف بی آر کے معاملے پر ہدایات وزیراعظم یا صدر سے لے لیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر پر معاملہ چھوڑ دیا جائے تو ٹیکس اتھارٹی کو کتنا وقت دیا جائے گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ چھٹیاں شروع ہو چکی ہیں، ایف بی آر کو کہہ دیں گے کہ چھٹیوں میں معاملے پر فیصلہ کردیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ  ہمارے ریفرنس میں خامیاں نہیں ہیں تو جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ ہدایات لے لیں اگر ہدایات منفی میں آتی ہیں تو دلائل دیں۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ کیا جج اہلیہ کی جائیدادوں پر جواب دہ ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ سوال نہیں آرٹیکل 209 بڑی سنجیدہ کارروائی ہے، وحید ڈوگر کی شکایت اٹھا کر کونسل کو نہیں بھیج سکتے تھے، وزیراعظم اور صدر نے وحید ڈوگر کی معلومات کی تصدیق کرائی۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ اس کارروائی میں صدر کیخلاف بدنیتی کا الزام نہیں ہے، صدر مملکت کے پاس بھی انکوائری کا اختیار نہیں ہے، ریفرنس میں کرپشن کا کوئی مواد نہیں ہے، صدر مملکت کا اپنی رائے بنانا آئینی رائے ہے، افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس کا سارا کام ایک دن میں ہوا تھا، افتخار چوہدری کیخلاف ایک دن میں ریفرنس بنا اور کونسل بھی بن گئی۔

فروغ نسیم نے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ  ہمارے پاس یہ معلومات آئیں کہ جائیدادوں کی خریداری کے ذرائع نہیں ہیں، حکومت نے وہ معلومات جوڈیشل کونسل کو بھج دی، یہ درست نہیں ہے کہ صدر مملکت کے سامنے کوئی ریکارڈ نہیں تھا، ریفرنس کا جائزہ لیکر کونسل نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے آبزرویشن دی کہ شوکاز نوٹس کی عدالت پابند نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ اہلیہ سے پوچھے بغیر جج سے ذرائع پوچھ لیے گئے، قانون دکھا دیں کہ جج اہلیہ کے اثاثوں پر جواب دینے کے پابند ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ ایسا مقدمہ ہے جس میں ہم نے آگے کیلیے سوچنا ہے، کل میں نہیں ہوگا اور ججز بھی نہیں ہونگے۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا صدر مملکت کا اختیار ہے کہ جج کے کنڈیکٹ کا جائزہ لیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ  صدر مملکت آرٹیکل 209 کے تحت ایگزیکٹو کا کردار ادا کرتا ہے تاہم جسٹس منصور علی شاہ نے آبزرویشن دی کہ صدر مملکت کی رائے کی اہمیت ہے، اگر صدر مملکت ایگزیکٹو کی توسیع ہے تو صدر کو ریفرنس پر رائے بنانے کی کیا ضرورت ہے۔

فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ  میں انتہائی احترام سے کہتا ہوں آپ کے سوال سے متفق نہیں، اس سوال پر مجھے بھی سن لیں، اگر آپ کے سوال کو درست مان لیں تو آرٹیکل 48 کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 48 ون کے تحت صدر مملکت کو ربڑسٹمپ نہیں بنایا،  صدر مملکت اپنا ذہن استعمال کر سکتے ہیں، فیصلے میں یہ بات لکھیں گے، ہمارے پاس وقت کی قلت ہے، جمعرات تک آپ دلائل دیں۔

فروغ نسیم نے ریفرنس کے معاملے پر مشاورت کے لیے کل تک کا وقت مانگتے ہوئے کہا کہ مجھے آج آپ دلائل دینے دیں، جو عدالت نے آپشن دیا اس پر کل جواب دوں گا۔

 وقفے نے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو فروغ نسیم نے دلائل سے پہلے وضاحت کی کہ حکومت کے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔ انہوں نے عدالت کی معاونت کرتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کے معاملے پر فیصلے کی ضرورت نہیں ہے، کسی سے اثاثے چھپانے پر وضاحت مانگی جاتی ہے، جوڈیشل کونسل کے سامنے کوئی پٹیشن نہیں ہے، پانامہ اور خواجہ آصف کے مقدمات میں اثاثے چھپانے پر رٹ پٹیشن دائر ہوئی تھی۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ یہی سوال ہے کہ کونسل کس قانون کے تحت جج سے اہلیہ کی جائیداد پوچھ سکتی۔

سماعت کے دوران  فروغ نسیم نے کہا کہ منفی مہم چاہے ہمارے خلاف ہو یا درخواست گزار کیخلاف وہ قابل مذمت ہے، پراپرٹی جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہل خانہ کی ہے ٹرائل پر ہم ہیں، ہم پریس میں جا کر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی نفی بھی نہیں کر سکتے، میں بتا نہیں سکتا کس صورتحال سے گزر رہا ہوں۔

اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وکیل صاحب ایسی بات نہ کریں، اسی طرح اندازہ کریں جج کس عذاب سے گزر رہے ہوں گے۔ صدارتی ریفرنس دائر کرنے سے قبل پریس کانفرنسوں میں جو کہا جاتا رہا ہمیں سب معلوم ہے، اگر ہم اس طرف گئے تو ملک میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کوئی بات نہیں کہی لیکن انہوں نے مجھے ٹاؤٹ کہا، یہ سپریم کورٹ کے جج صاحب (جسٹس قاضی فائز عیسی) کے میرے بارے بارے میں الفاظ ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ادلے کا بدلہ والی بات نہ کریں۔ انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیکر صبر کرنے کی تلقین کی۔

سماعت میں فروغ نسیم نے کہا کہ اگر میں جج ہوتا تو مجھے اپنے بیوی بچوں کے مالی معاملات کا پتا ہوتا، جج کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ اسے اپنے اہل خانہ کے مالی معاملات کا علم ہو۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کہاں پر لکھا ہے  کہ یہ جج کی قانونی ذمہ داری ہے؟ ابھی تک تو آپ ہمیں متعلقہ قانون ہی نہیں بتا سکے، جو میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ آپ سمجھنے کی کوشش کریں، ابھی تک تو ہم یہی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جو جج اپنے اور خاندان کے اثاثے نہیں بتا سکتا وہ عوام کے اعتماد پر کیسے پورا اتر سکتا ہے، ایسے شخص کو اپنے عہدے پر نہیں رہنا چاہیے، پوری دنیا میں پبلک سرونٹ اپنے اور اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کا پابند ہے، ریکارڈ بلکل خاموش ہے کہ جج صاحب کی اہلیہ نے جائیدادیں کیسے بنائیں، جج اپنی عدالت کے اندر اور عدالت سے باہر ضابطہ اخلاق کا پابند ہوتا ہے، ہم انگریزوں سے پیچھے نہیں ہیں ہمارے ہاں بھی بہت سی نظیریں موجود ہیں، ارسلان افتخار کا کیس آپ کے سامنے ہے، انگریزوں نے بھی اپنی خود بیوی کو اتنی آزادی نہیں دی، ورنہ پورا نظام منہدم ہو جائے گا، کیا پبلک سرونٹ کی بیوی کو خود کفیل ظاہر کر کے مال بنانے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

سماعت کے دوران سلائی مشینوں کے کاروبار کا بھی تذکرہ ہوا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل کے پوچھنے پر جج کے جواب دینے سے عدلیہ کا اعتماد بڑھے گا، خود کفیل اہلیہ پر سول سرونٹ جوابدہ نہیں اس لیے قانون میں تفریق پیدا کرنی پڑے گی، باقی سول ملازمین تو اہلیہ کی جائیداد کی وضاحت دیں، ایک سول سرونٹ کہتا ہے میں اہلیہ کی جائیداد پر جواب نہیں دوں گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا کونسل جج کی اہلیہ کو بلا کر پوچھ سکتی ہے، جج کی اہلیہ بتا دے کہ سلائی مشین کی آمدن سے دکان خریدی ہے۔

فروغ نسیم نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کونسل اہلیہ کو بلا کر پوچھ سکتی ہے، اہلیہ آ کر بتا دیں پیسہ کہاں سے آیا، پیسہ باہر کیسے گیا۔ اس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فروغ نسیم کافی ہوگیا، میں تقاضا کروں گا ایسی مثالیں نہ دیں جو توہین آمیز ہوں، جج کی اہلیہ کو کسی اور واقعہ سے تشبیہ دینے سے گریز کریں۔

 جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ آپ کی دلیل افسانوی معلوم ہوتی ہے کہ جج کی اہلیہ، بچوں کی جائیداد کو جج کی جائیداد تصور کیا جائے۔

قوانین کے حوالہ پر جسٹس منصور علی شاہ نے حکومت کے وکیل سے کہا کہ جو کارپوریٹ باڈیز کے قوانین آپ پڑھ رہے ہیں یہ تو بہت پرانے ہیں جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نئے قوانین بھی پڑھوں گا لیکن جو گزارش کرنا چاہ رہا ہوں اسے سمجھیں، جب کوئی شخص پبلک سرونٹ ہو تو رُول آف پراکسیمیٹی کے تحت وہ اپنے قریبی لوگوں کا ذمہ دار ہوتا ہے، عدالت اس کو جج کے ضابطہ اخلاق کے ساتھ جوڑ کر دیکھے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کوڈ آف کنڈکٹ 1967 میں آیا اور کارپوریٹ قوانین 1930 کے ہیں، اگر مطابقت نہ ہو تو کیا ہم سمجھ لیں کہ ہمارا کوڈ آف کنڈکٹ ناقص ہے؟ فروغ نسیم نے کہا کہ میں 2009 کے ضابطہ اخلاق کی بات کر رہا ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ نیا نہیں بلکہ وہی پرانا ہے صرف دوبارہ چھاپ دیا گیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کارپوریٹ باڈی کے ضابطہ اخلاق کا ہمارے کوڈ آف کنڈکٹ سے کیا تعلق؟

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا ہمارے ساتھ زیادتی نہ کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کی دلیل مان بھی لی جائے کہ سپریم کورٹ کارپوریٹ باڈی ہے تو کہاں لکھا ہے اس کا ڈائریکٹر اہلیہ کے اثاثے بتانے کا پابند ہے، رول آف پراکسیمیٹی صرف آپ کے دلائل میں ہے لکھا کہیں بھی نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریمارکس دیے کہ ہم اب بھی وہی نقطے پر ہیں جہاں سے آغاز کیا تھا، آپ نے ابھی اہم عدالتی سوالات کے جوابات دینے ہیں، آپ نے غیر قانونی طریقے سے شواہد اکھٹے کرنے پر ابھی دلائل دینے ہیں، آپ نے ابھی بدنیتی کے نقطے پر عدالتی معاونت کرنی ہے، آپ نے یہ بھی بتانا ہے شواہد اکھٹے کرنے کیلیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا، جج اور اسکے اہل خانہ کی جاسوسی اور سنگین مہم جیسے الزامات کا بھی جواب دیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس سوال کا بھی جواب دیں کہ غیر ملکی جائیداد کی کھوج کیلیے کس ادارے نے شواہد اکھٹے کیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم کو کہا کہ کل آپ کے پاس دلائل دینے کیلیے آخری دن ہے۔

کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰسپریم کورٹ آف پاکستانفروغ نسیم
sohail

sohail

Next Post

'کراچی افیئر' کیس میں فرانسیسی حکومت کے تین سابق عہدیداروں کو سزا

چین اور بھارت کی فوجوں میں لڑائی، ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک

بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے سشانت سنگھ کی خودکشی کی وجہ بتا دی

منی ٹریل پر بحث کے دوران سپریم کورٹ میں سلائی مشین کے کاروبار کی گونج

برطانیہ میں کورونا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش اسی ہفتے شروع ہو گی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In