قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کے جذباتی خطاب نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے میرے اوپر رشوت کا الزام لگایا ہے، مجھ پر ایک روپے کی کرپشن ثابت کر کے دکھائیں، اپنے بچوں کو حلال کا رزق کھلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں بھی بتاؤں گا کہ بھٹو کی جماعت لوٹ مار والی پارٹی کیسے بنی اور مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی کیا کہتی ہیں۔
علی زیدی نے کہا کہ عزیر بلوچ نے 58 اور نثار مورائی نے 3 قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ فریال تالپور نے نثار مورائی کو فشریز میں فریال تالپور نے عہدہ دیا تھا۔
انہوں نے اپنی جذباتی تقریر میں مزید کہا کہ بلاول کے اپنے اثاثے ڈیڑھ ارب روپے ہیں اور 2017 میں ان کا ٹیکس صرف ڈھائی لاکھ روپے تھا۔
ان کی اس تقریر پر قومی اسمبلی میں شور برپا ہو گیا اور اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے علی زیدی کا مائیک بند کر دیا۔
ان کی تقریر کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر جذباتی ہو گئے اپنا کوٹ اتار کر لڑنے کا چیلنج دے دیا۔
اس دوران پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل جواب دینے کے کھڑے ہوئے تو اسپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا جس پر اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔
قومی اسمبلی میں نوید قمر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو بم گرائے ہیں ان کے نتیجے میں عوام میں سانس لینے کی سکت بھی نہیں بچے گی۔
بعد میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ سے باہر نکل کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کو جانے والی سڑک بند کر دی۔
اسلامُ علیکمُ
محترم
میں کینیڈا میں مقیم ہوں نقار خانے کے لیے لکھنا چاہتا ہوں – اپنی تحریر کس پتہ پر روانہ کروں ؟
آپ میری ای میل پر جواب دے سکتے ہیں
واسلام
مظہربٹ
oaring@yahoo.com