ہالی وڈ کے نامور اداکار جونی ڈیپ اور ان کی سابقہ اہلیہ ایمبرہرڈ برطانوی اخبار ‘دی سن’ کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے۔
55 سالہ اداکار نے اخبار کے پبلشر، نیوز گروپ نیوزپیپرز اور اس کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ڈان ووٹن کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے، ڈان ووٹن نے 2018 میں ایک آرٹیکل میں انہیں بیوی پر تشدد کرنے والا شخص قرار دیا تھا۔
ڈیپ اور ایمبر ہرڈ منگل کے روز کمرہ عدالت میں الگ الگ داخل ہوئے، جونی ڈیپ نے چہرے کو تاریک اسکارف سے چھپایا ہوا تھا جبکہ ہرڈ نے چہرے پر سرخ اسکارف لگایا ہوا تھا۔
‘دی سن’ نے مضمون میں لکھا تھا کہ جونی ڈیپ اپنی اہلیہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے تھے، اخبار نے ان کی سابق اہلیہ کو مظلوم خاتون قرار دیا تھا۔
جونی ڈیپ نے برطانوی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تھا جس میں انہوں نے اخبار کے خلاف 2 لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
مقدمے کی اب تک کئی سماعتیں ہو چکی ہیں، اس دوران جونی ڈیپ کے ساتھ تعلقات رکھنے والی دو اداکاراؤں نے ان کے حق میں بھی بیان دیا تھا۔
فرانسیسی نژاد گلوکارہ و اداکارہ ونیسا پیراڈائز اور امریکی اداکارہ ونونا رائیڈر نے اپنے بیانات میں جونی ڈیپ کو ایک شریف انسان قرار دیا تھا۔
امبر ہرڈ کی پرسنل سیکرٹری کیٹ جیمز نے بھی جونی ڈیپ کے حق میں بیان جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران انہیں کبھی اپنی اہلیہ پر چیختے چلاتے نہیں دیکھا تھا۔