اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں مندر کے لیے جگہ مختص نہ ہونے کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی ڈی اے لے آؤٹ پلان کے تحت سیکٹرز اور سب سیکٹرز میں پلاٹس مختص کرتا ہے۔
عدالت نے مزید لکھا ہے کہ حکومت نے مندر کی تعمیر کے لیے فنڈزجاری ہی نہیں کیے، سی ڈی اے نے ابھی تک بلڈنگ پلان کی منظوری بھی نہیں دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ سی ڈی اے کے قواعد وضوابط مکمل کیے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے اس معاملے میں مداخلت کی کوئی بنیاد موجود نہیں، تعمیرات سی ڈی اے کے قوانین کے مطابق ہی ہو سکتی ہیں۔
عدالت نے مزید لکھا ہے کہ وفاق کے مطابق مندر کی تعمیر پرخرچ کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستوں کو غیر موثر قرار دے کر نمٹا دیا۔