• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا: وفاقی حکومت

by sohail
جولائی 8, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیے جانے کے کئی روز بعد  وفاقی حکومت نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے اپنے تحریری دلائل پیش کیے ہیں۔

تحریری دلائل میں کہا گیا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو رکاوٹ نہیں سمجھتی اور فیض آباد دھرنا کیس میں انکے فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وفاقی حکومت نے اپنے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کے توسط سے 154 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل جمع کرائے ہیں۔

وفاقی حکومت نے جسٹس عیسیٰ کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ چونکہ انہوں نے فیض آباد کیس کے فیصلے کو تحریر کیا تھا لہذا حکمران جماعت نے ان کی معزولی کے لیے ریفرنس دائر کیا۔

دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس عیسیٰ کی دلیل قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں ہیں اور انکی اس دلیل کی بنیاد پر صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دلائل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس پر فیصلہ دو ججز نے کیا، یہ حقیقت ہے کہ فیصلہ جسٹس عیسیٰ نے تحریر کیا تھا لیکن فیصلہ پر جسٹس مشیر عالم کے دستخط بھی تھے۔

تاہم حکومت نے جسٹس مشیر عالم کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔

دلائل میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس کا اصل مقصد فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلہ پر جسٹس عیسیٰ سے بدلہ لینے کی بجائے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کے اہلخانہ کی غیر واضح اثاثوں کے متعلق معلومات رکھنی تھیں۔

وفاقی حکومت کے مطابق جسٹس عیسیٰ نے صدر مملکت پر بدنیتی کا کوئی الزام نہیں لگایا لہٰذا صدارتی ریفرنس یا شو کاز نوٹس کو بدنیتی کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

تحریری دلائل میں وفاقی حکومت نے جسٹس عیسیٰ کی اس دلیل کو بھی مسترد کیا کہ ریفرنس کی بنیاد بننے والی معلومات دینے والا کسی کی ایماء پر ہے۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے دلیل دی کہ یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ معلومات کے مندرجات اور اہمیت متعلقہ ہے جبکہ شکایت کنندہ یا تفصیلات دینے والے کا اچھا یا برا ہونا غیر متعلقہ ہے۔

تحریری دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر ڈوگر سے موصول معلومات میں دو دیگر ججوں کے نام بھی بتائے گئے جن کے مبینہ طور پر غیر ملکی اثاثے ہیں، ان دیگر دو ججوں میں جسٹس فرخ عرفان اور جسٹس کے کے آغا ہیں، جسٹس عرفان کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا جبکہ جسٹس کے کے آغا کے خلاف کارروائی کی گئی۔

تحریری دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں مذکورہ ججوں کا فیض آباد دھرنا کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدارتی ریفرنس بھجوانے کی وجہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ نہیں۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے بحثیت سیاسی جماعت نظر ثانی درخواست سے متعلق وفاقی حکومت نے دلائل میں کہا ہے کہ نظرثانی درخواست دائر کرنا متاثرہ فریق کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس درخواست میں کہیں نہیں کہا گیا کہ جسٹس عیسیٰ کو اسے نہیں سننا چاہیے۔

دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے نظر ثانی درخواست میں لارجر بینچ بنانے کی کوئی استدعا نہیں کی اور درحقیقت فیض آباد دھرنا کیس پر فیصلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تحریری دلائل میں کہا گیا ہے کہ جسٹس عیسیٰ کا موقف کہ انہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے اور وہ بغیر خوف یا لالچ کے فیصلے دیتے ہیں معاملے سے بالکل غیر متعلقہ ہے، اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج آئین اور قانون کے مطابق بغیر کسی خوف یا حمایت کے فیصلے کرتے ہیں مگر صدارتی ریفرنسز صرف دو ججوں کے خلاف بیرون ملک مبینہ اثاثوں کی بنیاد پر دائر کیے گئے جو اس بات کی غمازی ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اس لیے دائر نہیں کیا گیا کہ وہ بغیر خوف کے فیصلے کرتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کو کبھی رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔

وفاقی حکومت نے جج کے اہلخانہ کے اثاثوں کا سراغ لگانے کے لیے  جاسوسی کرنے کا الزام بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں کوئی بھی غیر منقولہ جائیداد عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے جبکہ قانون کے تحت خفیہ نگرانی کا مطلب جائیداد یا گاڑی کے بجائے اس شخص کے اوپر نظر رکھنا ہے۔

دلائل میں کہا گیا ہے کہ رائٹ ٹو پرائیویسی کے تحت جو معلومات آتی ہیں ان می‌ میڈیکل ریکارڈ ، شادی ، تناسب ، مانع حمل ، خاندانی رشتے ، بچوں کی پرورش ، تعلیم یا دیگر ذاتی معلومات شامل ہیں۔

دلائل میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی معاملات یا جائیداد کی ملکیت یا ریکارڈ پرائیویسی کے زمرے میں نہیں آتے، تاہم اس کے علاوہ بھی درخواستگزار جج اور ان کے اہل خانہ نے لندن کی تین املاک کے حوالے سے ملکیت اور تفصیلات کا اعتراف کیا ہے۔

تحریری دلائل میں  کہا گیا ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججوں کا طرز عمل بہتر اور اعلیٰ ہونا چاہیے اور عدالتی طرز عمل کی توقع ان عوامی عہدوں کے حامل افراد سے زیادہ کی جاتی ہے جو انتخابی اور قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین کے تابع ہیں، اسی طرح توقع کی جاتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا طرز عمل نہ صرف عوامی عہدے کے حامل دیگر افراد سے مطابقت رکھتا ہو بلکہ اور بھی زیادہ شفاف ہو۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
sohail

sohail

Next Post

سپریم کورٹ کا 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کا حکم

مجھے اوپن ہارٹ سرجری کرانے کا کہا گیا ہے، آغا افتخار کا سپریم کورٹ میں جواب

علی سلمان علوی کا لیپ ٹاپ، موبائل پولیس کے پاس، مزید انکشافات

وفاقی حکومت کا 15 ستمبر سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر میں کیا جمع کرایا، اندرونی تفصیلات سامنے آ گئیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In