اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ ایف بی آر کے حکام کے سامنے پیش ہو گئی ہے جہاں انہوں نے تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کمشنر انٹرنیشنل زون کو اپنا تحریری جواب جمع کرایا۔
جیو نیوز کے مطابق گریڈ 20 کے ان لینڈ ریونیو کے افسر ذوالفقار احمد اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ ایف بی آر کے حکام کے سامنے پیش ہو گئی ہے جہاں انہوں نے تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کمشنر انٹرنیشنل زون کو اپنا تحریری جواب جمع کرایا۔
گریڈ 20 کے ان لینڈ ریونیو کے افسر ذوالفقار احمد اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے جواب میں کہا ہے کہ بیرون ملک رقم قانونی طریقے سے بھیجی۔ انہوں نے کراچی امریکن سکول میں نوکری کے دوران آمدن کا ریکارڈ بھی جمع کرایا جبکہ کراچی میں فروخت کردہ املاک کی تفصیلات بھی جمع کرا دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق جج کی اہلیہ نے کراچی کلفٹن میں خریدی گئی پراپرٹی اور اس پر جمع کرایا گیا ٹیکس ریکارڈ بھی ایف بی آر کے سامنے رکھ دیا ہے جبکہ والد کی جانب سے تحفہ میں ملنے والی زرعی زمین کی تفصیلات سمیت ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد کی زرعی زمین کی تفصیلات بھی پیش کردی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک رقم بھیجنے کے لیے ڈالر اور پاؤنڈ بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات کرا دی گئی ہیں اور موقف اپنایا گیا ہے کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کے اکاؤنٹ سے تقریبا سات لاکھ پاؤنڈ بھجوائے، برطانیہ میں خریدی گئیں جائیداد سے جج کا کوئی تعلق نہیں۔
ذرائع کے مطابق لندن کی جائیدادوں سے ملنے والے کرائے کی تفصیلات بھی جمع کرادی گئی ہیں اور اہلیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مرکزی بنک کے پاس میرے تمام بنک ٹرانزیکشن کی تفصیلات موجود ہیں اور لندن کی تینوں جائیدادیں گزشتہ سال کے ٹیکس گوشوارے میں ظاہر کردی تھیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 19 جون 2020 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا تھا، عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیدادوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجا جائے۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں لکھا تھا کہ ایف بی آر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کرے۔ عدالت نے مزید احکامات دیے کہ ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائش گاہ پر ارسال کیے جائیں جبکہ نوٹس میں جج کی اہلیہ اور بچے فریقین ہوں گے۔
مختصر فیصلے میں احکامات دیے گئے کہ کمشنر ان لینڈ ریوینیو 30 روز میں کارروائی پر فیصلہ جاری کرے گا جس کے بعد چئیرمین ایف بی آر فیصلے پر مبنی رپورٹ 7 روز کے اندر سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کرے گا۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ ایف بی آر حکام معاملے پر التواء بھی نہ دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر قانون کے مطابق کارروائی بنتی ہو تو جوڈیشل کونسل کارروائی کی مجاز ہوگی۔
10 رکنی فل کورٹ بینچ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ درخواست 10 ماہ تک ملتوی رہی اور اس پر تقریباً 46 سماعتیں ہوئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ وکلاء کی تنظیموں نے بھی صدارتی ریفرنس چیلنج کر رکھا تھا۔