عدالت نے حکم دیا ہے کہ ریلوے کے سفر کو مسافروں کیلئے محفوظ بنایا جائے، حکومت فوری اقدامات سے یقینی بنائے کہ ریلوے کا سفر عوام کیلئے محفوظ ہو۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے دورکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے بھرتیوں کے بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
دو رکنی بینچ ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا تھا۔
سماعت کے بعد عدالت نے چار صفحات پر تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کارکردگی پر سوالات اُٹھا ئے گئے ہیں۔
عدالت نے آپزرویشن دی ہے کہ پاکستان ریلوے اس طرح سے فعال نہیں ہے جس طرح سے اسے ہونا چاہیے، ریلوے میں متواتر حادثات کے سبب قیمتی جانیں اور ریلوے کا بڑا نقصان ہو رہا ہے، ریلوے کے تمام شعبہ جات میں مجموعی طور پر بہتری کی اشد ضرورت ہے۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں بہتری نظر نہیں آ رہی، پاکستان ریلوے میں نا صرف انفراسٹرکچر ابتر حالت میں ہے بلکہ بظاہر عملہ بھی ادارے کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کو پاکستان ریلویز کو چلانے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے، حکومت ریلویز میں اوپر سے نیچے تک بہتری لائے تاکہ عوام کا سفر محفوظ ہو سکے۔
عدالت نے اس توقع کا اظہار کیا ہے حکومت فوری سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ ریلوے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل نا سکے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت شہریوں کی جان ومال کی حفاظت سے متعلق رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے ایم ایل ون منصوبہ منظوری کے لیے ایکنک کے زیرِ التوا ہے جس پر عدالت نے کہا ہے کہ توقع کرتے ہیں ایکنک ایم ایل ون منصوبے کے پی سی ون کو قانون کے مطابق ایک ماہ میں منظور کرے گی۔
عدالت نے مزید حکم دیا ہے کہ چیف سیکرٹری سندھ کراچی سرکلر ریلوے میں اوور ہیڈ پلوں سمیت تمام کام ترجیحی بنیادوں پر پورا کریں اور دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائیں جبکہ چیف سیکرٹری سندھ اور کمشنر کراچی آئندہ سماعت پر حاضر ہوں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ شیخ رشید کہتے ہیں ریلوے میں ایک لاکھ بھرتیاں کریں ے، ریلوے کے پاس پہلے ہی 77 ہزار ملازمین ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ وزیر ریلوے ایک لاکھ ملازمین کو کہاں بھرتی کریں گے؟
چیف جسٹس نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین سے ایم ایل ون کا ملنے والا پیسہ ایک لاکھ ملازمین ہی لے جائیں گے۔
سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے ملازمین کی تعداد 77 ہزار سے کم کر کے 56 ہزار تک لائی جائے، ایک لاکھ ملازمین ایم ایل ون کے لیے رکھے جائیں گے، شیخ رشید سے شاید الفاظ کے چناؤ میں غلطی ہو گئی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکرٹری ریلوے کی سرزنش بھی کی اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری صاحب آپ سے ریلوے نہیں چل رہی، ریلوے کے سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کا نظام ایسا نہیں کہ ٹرین ٹریک پر چل سکے، دنیا میں بلٹ ٹرین چل رہی ہے، ایم ایل ون منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، ریلوے کا ٹریک لوگوں کیلئے ڈیتھ ٹریک بن چکا ہے۔
سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہایم ایل ون کے تحت سٹیشنز کو کمرشلائز کریں گے، ایم ایل ون میں کراسنگ نہیں ہو گی، ایم ایل ون کے تحت ریلوے ٹریک کے نیچے انڈر پاس یا اوور ہیڈ بریج بنیں گے۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ آئے روز کے حادثات سے قیمتی زندگیوں اور ریلوے کا نقصان ہو رہا ہے، ریلوے کو جس طرح چلایا جا رہا ہے اس انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، ریلوے کا انفراسٹرکچر کام کے قابل نہیں رہا، ریلوے کے تمام شعبہ جات میں اوورہالنگ کی ضرورت ہے۔
بعدازاں عدالت نے پلاننگ ڈویژن سے ایم ایل ون منصوبے سے متعلق رپورٹ طلب کر تے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔
رائل پام کلب کیس کی سماعت
دریں اثناء سپریم کورٹ میں پاکستان ریلوے کی ملکیت رائل پام کلب کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
ریلوے کی جانب سے کلب کی فزیبلٹی اور کنسلٹنٹ کی رپورٹ پیش کی گئی تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رپورٹ آج ہی پیش ہونے کے باعث ہم اسے فی الحال زیر غور نہیں لائیں گے۔
وکیل ریلوے نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے باوجود ایم ایچ وی ایل کی جانب سے آڈٹ میں تعاون نہیں کیا گیا، ایم ایچ وی ایل کی جانب سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔
وکیل ایم ایچ وی ایل نے بتایا کہ اکاؤنٹس پہلے سے ہی ریلوے کے پاس ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریلوے نے تو کہا تھا کہ کلب کے لیے بہت سی پارٹیاں تیار ہیں، ابھی تک آر ایف ٹی بھی نہیں بنی، لگتا ہے کلب کی لیز ہونے میں مزید دس سال اور لگیں گے۔
ریلوے کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی اجازت سے اب انٹر نیشنل ٹینڈر ہونا ہے۔ بعدازاں عدالت نے ایم ایچ وی ایل کمپنی کے نمائندے کو آئندہ پیر کو ریلوے اور آڈٹ سے رابطہ کی ہدایت کرنے سمیت ریلوے کی فزیبلٹی رپورٹ پر فریقین سے رائے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔