• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا وائرس: گھریلو تعلیم والدین اور بچوں کے لیے ایک بڑاچیلنج

by sohail
جولائی 9, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

برطانیہ میں سیپٹ فار سکول مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ کوویڈ- 19 وبا کے دوران ہوم اسکول سے والدین اور بچوں دونوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مہم چلانے والے گروپ کے مطابق بچوں کی تعلیم اور کام میں توازن رکھنے کی بات پر والدین زار و قطار رو پڑے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں لاک ڈاؤن کی صورت میں والدین باآسانی اساتذہ کا کردار دوبارہ ادا کریں گے، یہ مفروضہ پائیدار ، منصفانہ یا تعلیمی حل کے طور پر قابل عمل نہیں ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ستمبر سے انگلینڈ میں تمام طلباء اسکول واپس آ سکیں گے۔

اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے تعلیمی اداروں کا ارادہ ہے کے طلباء کو نئے تعلیمی سال کی شروعات پر ہی سکول واپس بلایا جائے۔ ویلز میں وزراء نے کہا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے ملی جلی حکمت عملی بنائی جائے گی جس میں گھر اور کلاس رومز دونوں سے تعلیمی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جا سکے۔ مگر اس کی مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں متوقع ہیں۔

سیپٹ فار سکول گروپ نے ایجوکیشن سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ ہیلفون کو خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت ایک واضح، جامع اور قابل عمل منصوبہ فراہم کرے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ستمبر میں بچے با حفاظت اسکول واپس آ جائیں۔

مزید لاک ڈاؤن کی صورت میں اس منصوبے کے تحت  سکولوں اور والدین کے لیے خاطرخواہ امداد فراہم کرنا ہوگی کہ وہ جہاں اور جن بھی حالات میں ر ہیں ، سب بچوں کی تعلیم و بہبود کو ترجیح دی جاتی رہے گی۔

اس گروپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک سروے کیا ہے جس میں گھریلو تعلیم سے متعلق مزید والدین کے تجربات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس میں اب تک 250 سے زیادہ افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے یہ بات نہایت حیران کن تھی کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر ملک بھر سے فیملیز نے ہمیں اپنے جوابات جمع کرائے۔

گروپ نے اس امید پر مسٹر ہافون کو والدین کے جوابات بھیجے ہیں کہ تاکہ والدین کی آواز سنی جائے۔

فل ٹائم ملازمت کرنے والی ایک والدہ کے مطابق وہ اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے 7 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں موجود ایک واحد ٹیبل بانٹ رہی ہیں، گھر پر تعلیم نے ہماری زندگی جہنم بنا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ میں کہ میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتی یا ہمارے پاس چیزوں تک رسائی نہیں ہے لیکن میں ایک ساتھ دو نوکریاں نہیں کرسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یا تو اپنے سات سالہ بچے کو اسکول کا کام کرنے میں مدد کرسکتی ہوں یا اپنا کام کر کے اپنی نوکری برقرار رکھ سکتی ہوں۔

بچے کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اتنا چھوٹا ہے کہ انفرادی طور پرحوصلے اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنا کام نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر لاک ڈاؤن کے دوران جب وہ دوسرے بچوں اور کھیل کود سے بھی دور ہے، وہ بے حد جذباتی ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکول کے کام کرنے کی بدولت ہمارے تعلقات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور اسکول کی طرف سے باقائدہ کام کی فراہمی کے باوجود تعلیمی لحاظ سے وہ بہت پیچھے جا چکا ہے۔

ایک ماں کا کہنا تھا کہ وہ ایک ماں اور ایک ملازم کی حیثیت سے دونوں کاموں کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا گھر پر اسکول کی تعلیم ناقابل یقین حد تک مشکل کام ہے۔ اس حقیقت کے برعکس کہ میرے اور شوہر دونوں کی ملازمتیں ہیں جن کو ہم نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں ، بچوں اور ان کے والدین کے مابین صورتحال بچوں اور ان کے اساتذہ کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے ، جس کی وجہ سے مزید مسائل پیش آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ذہنی دباؤ اور احساس جرم میں اضافہ ہوا ہے کہ نا تو ہم درس و تدریس کا کام ٹھیک طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں اور نا ہی اپنی نوکریوں پر توجہ دے پا رہے ہیں۔

بی بی سے بات کرتے ہوئے ایک اور والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے ا ور ہمیں بہت جلد اندازہ ہو گیا کہ وہ گھر میں رہ کر سیکھنے سے سکول جا کے پڑھنے اور آگے بڑھنے سے لطف اندوز ہوتے تھے ا خوش نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا سب سے بڑا بیٹا غصیلہ اور جارحانہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا اداس اور الگ تھلگ رہنے لگا ہے، ان دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میں نے ان کی پڑھائی اور جذباتی فلاح پر پوری توجہ دی ہے اور اس کے نتیجے میں اپنی کمائی میں 80 فیصد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ، مجھے اپنا کاروبار کھونے کا خطرہ ہے۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسباق اور طے شدہ کام کے معیار میں، ایک اسکول میں بھی بڑے پیمانے پر فرق ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اساتذہ کی حمایت کی سطح بھی مختلف ہوتی ہے۔

ایک والد نے کہا کہ ہر بچے کو اس کے استاد سے کال موصول ہوئی ہے، میں اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے ان سے رابطے میں رہا ہوں کہ بچے اسکول میں نہ ہونے کی وجہ سے کس قدر جدوجہد کر رہے ہیں۔

سیپٹ فار اسکول کے بانی ، فیونا فوربس نے کہا کہ والدین اس معاملے میں اپنی آوازیں اٹھانا چاہتے ہیں ، لیکن وہ بچوں کی کلاس میں محفوظ واپسی کے لیے لابی کرنے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ حکومت نے اسکولوں پر والدین کے ناکافی احتجاج کو غلط سمجھتے ہوئے یہ تاثر لے لیا ہے کہ شاید والدین ان حالات سے مطمئن ہیں۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جو کچھ سنا اور پڑھا ہے ، اسی میں صداقت ہے کہ زیادہ تر والدین یہ سوچ سوچ کر تنگ آ چکے ہیں کہ وہ ایسا کیا کریں کہ ان کی آواز سنی جائے۔

کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مسٹر ہالفن نے کہا کہ انہوں نے اس مہم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ بہت سے والدین جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود کے بہت سارے اسکول اور اساتذہ بہترین کام کر رہے ہیں ، تحقیق کہ مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران 20 لاکھ سے زیادہ بچوں نے گھر میں رہتے ہوئے کوئی تعلیم نہیں حاصل کی ہے۔

محکمہ تعلیم اعتراف کیا ہے کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ والدین ، ​​اساتذہ اور سپورٹ سٹاف کے لیے بچوں کو گھر سے پڑھانا کتنا مشکل ہے۔

اس کے حکام کا کہنا ہے کہ ہم والدین کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم ملک کے بہترین سائنسی اور طبی ماہرین کے ساتھ مل کر بچوں اور عملے کے لیے اسکول کو محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

بشکریہ : بی بی سی

Tags: کورونا اور بچوں کی تعلیمکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

علی سلمان علوی کے کئی مبینہ جعلی اکاؤنٹ سامنے آ گئے

اوورلوڈنگ کے باعث بڑھتے حادثات

مقتولہ صدف زہرا کی والدہ کے علی سلمان علوی کے متعلق بڑے انکشافات

سشانت سنگھ کے بعد ایک اور بھارتی اداکار کی خودکشی

کچھ لوگ فضل الرحمان کے دھرنے پر دھاوا بولنے کے حامی تھے، چوہدری شجاعت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In