• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سپریم کورٹ نے آغا افتخار پر فرد جرم عائد کر دی

by sohail
جولائی 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اعلی عدلیہ کے ججز کی توہین اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکیوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم آغا افتخار الدین مرزا پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی توہین اور جسٹس فائز عیسی کو قتل کی دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

ملزم آغا افتخارالدین کو جیل حکام اپنی تحویل میں سپریم کورٹ لےکرآئے جب کہ ایف آئی اے کے متعلقہ افسران بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران افتخار الدین مرزا نے کہا کہ میں اپنے ویڈیو بیان پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں، میں انتہائی شرمندہ ہوں، قانون کے علاوہ بطور مسلمان بھی آپ سے معافی چاہتا ہوں۔

انہوں نے اپنے معافی نامہ میں کہا کہ مجھے ویڈیو کی اپ لوڈنگ اور ایڈیٹنگ کا علم نہیں، اللّٰہ کی عدالت ہے مجھے وہاں بھی جواب دینا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معافی والا کیس نہیں ہے، آپ عدالت سے مذاق نہیں کر سکتے، اس طرح تو پاکستان کا سارا نظام ناکام ہو جائے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ مسجد کے ممبر پر وہ زبان استعمال کر رہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کا بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

انہوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بیان حلفی پڑھا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں بیان حلفی نہیں ملا۔

چیف جسٹس نے انہیں ہدایت کی کہ وہ بیان حلفی پڑھیں اور جواب دیں، عدالت نے ایف آئی اے اور سی ٹی ڈی کی رپورٹس پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جرنل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ محکمے کیا کر رہے ہیں؟ اسے سیریئس نہیں لے رہے، تحقیقاتی رہورٹ میں کوئی ٹھوس چیز موجود نہیں۔

عدالت نے آغا افتخارالدین کو کہا کہ آپ کی جانب سے داخل کرائے گئے گذشتہ تحریری جواب سے بھی مطمئن نہیں۔

عدالت نے تحریری جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی

فرد جرم کی تحریری کاپی بھی ملزم کو فراہم کر دی گئی

Tags: آغا افتخار الدین مرزاجسٹس عیسیٰ دھمکی کیسسپریم کورٹ آف پاکستان
sohail

sohail

Next Post

30 ہزار کے قریب نئے کورونا کیسز کے بعد بھارت میں دوبارہ لاک ڈاؤن شروع

آئی فون کے صارفین کمپنی سے کس طرح 25 ڈالر ہرجانہ وصول کر سکتے ہیں؟

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے حلف نامے میں 24 سوال پوچھ لیے

کورونا وائرس کے خلاف امریکی کمپنی کی تجرباتی ویکسین کے کامیاب نتائج

پاکستان کے نظام تعلیم میں جامعات کا کردار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In