کورونا وائرس کے خلاف امریکی کمپنی موڈرنا کی تجرباتی ویکسین کے کامیاب نتائج سے سائنسدانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
امریکی ریسرچرز کی رپورٹ کے مطابق یہ ویکسین تجرباتی طور پر 45 صحتمند رضاکاروں پر استعمال کی گئی اور اس نے تمام افراد میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر دی۔
رضاکاروں میں ویکسین کی دو خوراکیں استعمال کرنے کے بعد کورونا وائرس کو ختم کرنے والی قوت مدافعت ان افراد سے بھی کہیں زیادہ تھی جو اس وبا سے صحتیاب ہو چکے تھے۔
کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی ایک رکاوٹ باقی رہے گی، بل گیٹس
دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟
ویکسین استعمال کرنے والوں میں کسی قسم کے شدید سائیڈ ایفیکٹس نہیں پائے گئے تاہم ان میں سے آدھے سے زائد رضاکاروں میں تھکن، سر درد، سردی، جسم میں درد یا انجیکشن لگنے والی جگہ پر درد جیسی معمولی شکایات سامنے آئیں۔
یہ علامات بھی دوسری خوراک لینے کے بعد ان افراد میں ظاہر ہوئی جنہوں نے سب سے زیادہ خوراک استعمال کی تھی۔
امریکہ کے نامور ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے اسے اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے دوران کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹس سامنے نہیں آئے اور ویکسین نے بلند سطح کی معقول قوت مدافعت پیدا کی ہے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہیں موڈرنا کمپنی کے شیئرز میں 15 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی حکومت ویکسین کی تیاری کے لیے موڈرنا کو تقریباً 50 کروڑ ڈالرز دے چکی ہے اور اسے وسیع پیمانے پر انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کے لیے اولین ویکسینز میں شامل کر لیا ہے۔
موڈرنا نے اس سے قبل کسی دوائی کا لائسنس حاصل نہیں کیا تھا، کامیاب ویکسین کی تیاری اس کے لیے بہت بڑا مرحلہ ہو گا۔
ویکسین کی تیاری کے لیے کورونا وائرس کے ایم آر این اے 1273 استعمال کیے گئے ہیں جو ایک کیمیکل پیغامبر ہے اور پروٹین کی تیاری کی ہدایات جاری کرتا ہے۔
انجیکشن لگنے کے بعد ویکسین خلیوں کو ایسی پروٹین تیار کرنے کی ہدایات جاری کرتی ہے جو کورونا وائرس کی بیرونی دیوار کی نقالی کرتی ہے، اسے انسانی جسم ایک خارجی حملہ آور تصور کر کے اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے لگتا ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق 18 سے 55 برس کے 15 رضاکاروں پر مشتمل گروہوں کو مختلف مقدار کی دو خوراکیں دی گئیں، دونوں کے درمیان 28 دن کا وقفہ تھا، ان خوراکوں کی مقدار 25، 100 اور 250 مائیکرو گرام تھی۔