گزشتہ برس اقوام متحدہ نے پیش گوئی کی تھی کہ 2100 تک دنیا کی آبادی موجودہ 7 ارب 80 کروڑ سے بڑھ کر 10 ارب 90 کروڑ ہو جائے گی۔
لیکن ایک حالیہ تحقیق میں اس پیشگوئی کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے اہم معاشی اور سیاسی نتائج کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق دنیا کی آبادی 2064 تک 9 ارب 70 کروڑ تک پہنچ جائے گی مگر پھر اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی اور یہ 2100 میں 8 ارب 80 کروڑ تک رہ جائے گی۔
دی لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ بڑی عمر کے افراد کی تعداد بھی اقوام متحدہ کے اندازوں سے زیادہ ہو گی۔
ریسرچرز کا کہنا ہے کہ جاپان، تھائی لینڈ، اٹلی اور اسپین سمیت 23 ممالک کی آبادی کم ہو کر آدھی رہ جائے گی، جبکہ 34 ممالک کو 25 سے 50 فیصد تک آبادی کی شرح میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح بھارت اور چین کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ دونوں ممالک کام کرنے کی عمر والی آبادی میں بھی کمی کا شکار ہوں گے جس کے باعث ان کی عالمی معاشی قوت کمزور ہو جائے گی۔
امریکہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اگر امریکہ میں تارکین وطن کی آمد جاری رہی تو 2098 میں یہ ملک ایک مرتبہ پھر معاشی طور پر دنیا میں پہلے نمبر پر آ جائے گا۔
ریسرچ میں شامل ڈاکٹر کرسٹوفر مرے کا کہنا ہے کہ رواں صدی کے دوران دنیا میں بڑھتی آبادی کے متعلق اب تک پیش کیے گئے اندازے درست نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا یہ تحقیق مختلف ممالک کو تارکین وطن، ورک فورس اور معاشی ترقی کے متعلق اپنی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
تحقیق میں افزائش آبادی کی کم شرح کی ایک وجہ مانع حمل ادویات میں جدت اور خواتین کی بڑھتی تعلیم بتائی گئی ہے جو زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرنے کی خواہش کم کر دے گی۔
اگرچہ جون 2019 میں اقوام متحدہ کی پیش گوئی میں مانع حمل ادویات کو پیش نظر رکھا گیا تھا لیکن نئی تحقیق کے مطابق اس کے اثرات بہت جلد اور وسیع پیمانے پر سامنے آئیں گے۔
اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز میں آبادی کے متعلق ڈویژن کے ڈائرکٹر جان ولماتھ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک مکمل تحقیق نہیں پڑھی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں شرح پیدائش، اموات کی شرح اور ہجرت کے متعلق بعض مفروضوں کی بنیاد پر پیش گوئی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں سب سے بڑا مفروضہ یہ ہے کہ کم شرح پیدائش والے ممالک اس حوالے سے اگلے 80 سالوں میں کچھ نہیں کریں گے، یہ ایک انتہاپسندانہ مفروضہ ہے۔
اس وقت کسی بھی ملک میں آبادی کی شرح میں کمی کو روکنے کے لیے ہر عورت کو اوسطاً 2.1 بچے پیدا کرنا ضروری ہے، تاہم نئی تحقیق کے مطابق 2100 تک 195 میں سے 183 ممالک میں یہ شرح اس سے کم رہے گی۔
ریسرچرز کے مطابق امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسے کم شرح پیدائش رکھنے والے ممالک آبادی میں کمی کو تارکین وطن کے متعلق لبرل پالیسیوں کے ذریعے پورا کریں گے اور اپنی معاشی ترقی جاری رکھیں گے۔
تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں تارکین وطن کے متعلق منفی ردعمل ملک کی آبادی اور معاشی ترقی کے لیے خطرہ ہے۔