بہت عرصہ سے یہ بحث جاری ہے کہ مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ روبوٹس کو متعارف کرایا جائے تاکہ پروڈکشن بڑھائی جا سکے اور لاگت کو کم کیا جا سکے۔ لیکن دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی لاگت یا انسانوں کے روزگار سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوگا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکار مشینی نظام یورپ میں 2030 میں زیادہ تر کاموں میں اہم حصہ لے لے گا اور 5 کروڑ ملازمتوں میں انسانوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایک تجزیہ کرنے والی فرم میک کینسی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 10 سالوں میں پورے یورپ میں سے 90 لاکھ لوگوں کو اپنے کار منصبی کے اندر رہتے ہوئے انتہائی اہم اور نئے ہنر سیکھنے پڑیں گے۔
اگرچہ اس رپورٹ میں شائع ملازمتوں سے متعلق اعدادوشمار خوف زدہ کر دینے والے ہیں کہ کس طرح زیادہ تر کام روبوٹس کو سونپ دیا جائے گا۔ تاہم اس سے فوری طور پر نتائج اخذ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس تحقیق سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے کئی شعبوں میں وسیع پیمانے پر ملازمتوں میں اصافہ ہوگا جو اس نقصان کی تلافی کر دیں گی۔
آنے والے برسوں میں بزنس لیڈرز کو اپنے کارکنوں کی دوبارہ ٹریننگ، کام کرنے کی صلاحیت اور ہنرمندی پر توجہ دینا ہوگی۔ کورونا وائرس کے بحران نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی ہے۔
مک کینسی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خودکار نظام پر مبنی ملازمتوں کو بھی اس وبا کی وجہ سے زیادہ خطرہ لاحق ہوا۔
روبوٹس اور صحت کے حالیہ بحران کی وجہ سے جن 3 شعبہ جات میں ملازمتوں کو خطرہ درپیش ہے ان میں کسٹمر سروس اور سیلز، فوڈ سروسز اور بلڈنگ سیکٹر شامل ہے۔
یہ تجزیہ صرف مستقبل کیلئے نہیں ہے بلکہ ابھی بھی بہت سارے ملازمین کو آٹومیشن کی وجہ سے پریشانی کا سامنا ہے۔
میک کینسی کے تجزیہ کاروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ یورپی یونین میں تقریباً 22 فیصد افرادی قوت کی جگہ خود کار مشینیں لے سکتی ہیں۔