قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کے الیکٹرک پر طویل لوڈ شیڈنگ اور اووربلنگ کے الزامات ہیں، اس کے علوہ کمپنی پر حکومت پاکستان سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام بھی ہے۔
نیب کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے حکومت سے معاہدے کے تحت بجلی کی پیداوار کے لیے سرمایہ کاری کرنی تھی جو اب تک نہیں کی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کراچی کو کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدے سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب کراچی کو یہ انکوائری 3 ماہ کے اندر مکمل کر کے اس کی رپورٹ چیئرمین نیب کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ قانون کے مطابق فرائض سرانجام دینے پر یقین رکھتا ہے اس لیے کے الیکٹرک کو اوور بلنگ کے ذریعے اربوں روپے ہتھیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیب بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتا ہے، کے الیکٹرک کو طویل لوڈ شیڈنگ اور معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں کراچی میں بجلی کا بحران پیدا ہوا جو ابھی تک ختم نہیں کیا جا سکتا، اس پر حزب اختلاف نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔