• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا،نسل پرستی: سیاہ فام طبقے میں خودکشی کی شرح میں اضافہ

by sohail
جولائی 17, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, صحت, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 کورونا وبا کے دوران سیاہ فام طبقے میں مجموعی طور پر خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔  بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کے مطابق 2018 میں  امریکہ میں تقریباً  48،000 خودکشیاں ہوئیں۔سال 1999 سے لے کے اب تک اسکی شرح میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہر عمر کے لوگوں میں موت کی اہم وجہ خودکشی ہے۔

جیسمین پیئر 18 سال کی تھیں جب انہوں نے مختلف اقسام کی گولیاں کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ڈیپریشن  اور اینزائیٹی ( گھبراہٹ) کے باعث وہ دو مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کے باوجود بچ گئیں۔

خودکشی کی کوششوں میں غیرمعمولی اضافہ، امریکی ڈاکٹرز کا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ

بھارت کی 16 سالہ ٹک ٹاک اسٹار نے خودکشی کر لی

سالوں کی تھراپی کی وجہ سے ترقی ہوئی، لیکن 31 سالہ سیاہ فام خاتون کی زندگی شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہے جس کی وجہ عالمی وبا کے دوران تنہائی، ذہنی تندرستی فراہم کرنے والوں کی کمی اور پولیس  کا سیاہ فام لوگوں کو نسل پرستی کے نام پر قتل کرنا ہے۔

نیو اورلینز میں رہنے والی جیسمین پیئر نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا میری ذہنی حالت پہلے کبھی اتنی بری تھی۔ سیاہ فام لوگ جو پہلے ہی ذہنی تناؤ کا شکار تھے، ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے خود کشی کے خلاف ایک وسیع مہم چلائی جس کی وجہ کورونا  وائرس سے منسلک ذہنی تندرستی کا بحران ہے،

ماہرین صحت کی وارننگ

ڈاکٹروں اور ریسرچرز کا کہنا ہے کہ سیاہ فام نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی خودکشی کی کوششیں  اور وبا کا غیر متناسب طور پر سامنا ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

دماغی تندرستی کے حامی خودکشیوں پر ریسرچ فنڈز سمیت  خصوصی وفاقی توجہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سیاہ فام ٹراما پر مرکوز کونسلرز مفت امداد پیش کر رہے ہیں۔ سیاہ فام گرجا گھرخودکشی کو دور کرنے کے لیے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ سماجی فاصلے کی بدولت لوگوں کے آپس میں روابط ختم ہو چکے ہیں۔

سینٹ لوئس میں واشنگٹن یونیورسٹی میں سیاہ فاموں کی خودکشی کے ماہر شان جو نے کہا کہ زندگیوں، ملازمتوں اور آمدنی کے ضیاع سے  امریکہ میں بے حد دکھ اور تکلیف کا وقت ہے جو آنے والے مہینوں میں مزید گہرا ہوگا۔

سیاہ فام بالغوں کی خودکشیوں اور خود کشی کی کوششوں کی شرح نے گوروں اور مقامی امریکی بالغ افراد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق سیاہ فام نوجوان جو اپنی جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پیڈیاٹرکس نامی جریدے میں نومبر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ہائی اسکول کے سیاہ فام طلبہ میں 1991 سے 2017 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ایسے خیالات اور منصوبے تمام نوعمر افراد میں پائے گئے ہیں۔ سیاہ فام بچوں میں خودکشی کے رجحانات اور تحقیق کے دیگر نتائج کی بحرانی صورتحال نے کانگریس کے سیاہ کاکس کو  دسمبر میں رپورٹ شائع کرنے پر آمادہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات بہت  پیچیدہ ہیں جس کے لیے مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔

خودکشی کی وجوہات مین ڈیپریشن، گہرا صدمہ اور ایسے والدین کی مثال جنہوں نے خودکشی کی ہو، شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی غربت، تشدد کی غیر متناسب نمائش اور  طبی سہولیات تک کم رسائی کے باعث سیاہ فام خاندانوں کو ان وجوہات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عالمی وبا نے اس تفاوت کو بڑھاوا دیا ہے

COVID-19 کی وجہ سے سیاہ فام طبقے میں اموات کی شرح دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ جنازوں اور اجتماعات پر پابندی کے ساتھ ساتھ تنہائی کی وجہ سے ان کو زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نسل پرستی کے شکار جارج فلائیڈ کا قتل ان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے برابر تھا۔

پیڈیاٹریکس کے مطالعے کے مصنف، ایریلی شیفٹال کا کہنا ہے کہ ہمیں نسل پرستی، دقیانوسی تصورات اور  عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے یہ محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری مرہم پٹی پھٹ گئی ہو اور ہر کوئی ہمارے زخموں سے بہنے والے خون کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔

مسئلے کا ایک حصہ یہ ہے کہ خود کشی کا مطالعہ بڑی حد تک گوروں تک محدود رہتا ہے، نسلی بنیاد پر بہت کم ریسرچ ہوتی ہے۔ خودکشی کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ اسے محض گوروں کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

مشی گن ماہر نفسیات ایلٹن کرک 1970 کی دہائی میں سیاہ فام خودکشیوں کا مطالعہ کرنے والے اولین افراد میں شامل تھے جس کا ذکر انہوں نے اپنی 2009 میں لکھی گئی کتاب ‘بلیک سوسائیڈ: ٹریجک ریئلٹی آف امریکہ ڈیڈلیسٹ سیکریٹ’ میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے پہلی بار شروعات کی تھی تو بہت سارے سیاہ فام افراد خودکشی کے مسئلے سے انکار کر رہے تھے۔ ہم کافی نقصان اٹھا چکے تھے۔ ہم غلامی اور  امتیازی سلوک سے بچ گئے تھے مگر انہوں نے اسے کمزوری سمجھ لیا تھا۔

اگرچہ بہت سے رویوں میں تبدیلی آئی ہے ، لیکن صحت کی دیکھ بھال میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔

ایک تو ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد کافی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ علاج روایتی طور پر گوروں پر کیے گئے تجربات پر مبنی رہا ہے جس کی وجہ سے کچھ معالجین تیار نہیں ہیں۔

جب بھی سیاہ فام لوگوں کے خلاف پولیس کی بربریت کا کوئی مشہور واقعہ سامنے آیا ہے ، ٹریور پروجیکٹ کی خودکشی سے بچاؤ فون لائنوں پر فوراً رش لگ جاتا ہے۔ اس ادارے کا مقصد ایل جی بی ٹی کیو کے نوجوانوں پر توجہ دینا اور نسلی عدم مساوات کو دور کرنا بھی شامل ہے۔

خودکشی کی کوشش سے بچ جانے والے افراد کے لیے وبا نے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

کیونا پیٹرسن ، جس نے اس سال پنسلوینیا کی ایڈنبورو یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے ، نے اپنی زندگی کو 2018 میں ختم کرنے کی کوشش کی کیونکہ انہیں اسکول سے دباؤ اور خاندان کی مدد کے لیے تین ملازمتوں پر کام کرنا پڑا۔

یونیورسٹی کی صحت کی دیکھ بھال سے محروم ہونے کے بعد وہ روزانہ دھیان دیتی ہیں اور ڈوولا (نرس) بننے کے اپنے مقصد پر دھیان دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ واقعی میں نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے والا ہے۔ آپ ہر دن اور ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں کی کسی طرح چیزوں کو کنٹرول کر کے سکون حاصل کر سکیں۔

یئر ، جو اپنے تجربات کا استعمال دوسروں کو مشورہ دینے کے لیے کرتی ہیں، نہیں چاہتیں کہ لوگ تنہا جدوجہد کریں۔ انہوں نے سیاہ فام ذہنی صحت کے لیے مفت سیف پلیس ایپ تیار کی ہے جس میں وبا کے دوران مزید لوگوں نے سائن اپ کیے ہیں۔

دوسرے بھی دیکھ بھال کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈونا بارنس خودکشی کے خلاف قومی ادارہ چلاتی ہیں، انہوں نے ایک مفت آن لائن سپورٹ گروپ بنانے کی کوشش کی ہے۔ 1990 میں اپنے بیٹے کی خودکشی کے بعد انہوں نے سیاہ فام خاندانوں کے لیے وسائل کی کمی محسوس کی اور اس تنظیم کا آغاز کیا۔

بارنس نے بتایا کہ دوبارہ مسکرانے کے لیے انہیں 4 سال لگے۔ یہ آسان نہیں تھا۔ ان کے دوستوں اور خاندان کو نہیں معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔

ٹرینیٹی یونائیٹڈ چرچ آف کرائسٹ ایک اثر و رسوخ رکھنے والا سیاہ فام چرچ ہے جس میں ایک بار سابق صدر باراک اوباما نے بھی شرکت کی تھی، اس نے شکاگو میں اس حوالے سے زوم چیٹ کا آغاز کیا ہے۔

ریو  اوٹس ماس 3 نے اپنی بہن کی خودکشی کے واقعے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے حال ہی میں پوڈ کاسٹ کا استعمال کیا، یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں اس کی شادی سے پہلے پیش آیا تھا۔

انہوں نے منسوخ شدہ سروسز کے ساتھ آئیسولیشن میں رہنے والوں کے لیے اس کو ایک بڑی وجہ قرار دیا ۔ ماس نے کہا کہ اسے اپنی بہن کے شیزوفرینیا کے بارے میں کھل کر بات کرنے اور خود کو الزام دینے سے روکنے میں کئی سال لگے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بتانے کے لیے یہ مناسب وقت ہے کہ بہت سارے افراد اسی راستے پر چل رہے ہیں جس پر وہ چل رہے ہیں۔ میں نے جانا کہ اندھیرے میں کس طرح  سوراخ کیے جاتے ہیں اور ان سوراخوں میں سے روشنی کو کیسے دیکھا جاتا ہے۔

Tags: امریکہ میں نسل پرستیسیاہ فام طبقے میں خودکشی کی بڑھتی شرحکورونا اور نسل پرستی
sohail

sohail

Next Post

وزارت داخلہ نے امریکی شہری سنتھیا رچی کو کلین چٹ دے دی

آغا افتخار کی سپریم کورٹ سے توہین عدالت کی کارروائی موخر کرنے کی درخواست

امریکہ، بھارت میں ایک ہی دن میں کورونا مریضوں کا نیا ریکارڈ

10 سالہ لڑکے کو شارک نے کشتی سے کھینچ لیا، باپ بچانے کے لیے سمندر میں کود گیا

مسائل کا حل نکالنے کے بجائے کلبھوشن کیلئے آرڈیننس نکالا جا رہا ہے، بلاول

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In