سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے جس میں فیصلے کے چند پیراگرافس حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ایس سی بی اے کے صدر سید کلب حسن نے نظرثانی اپیل میں استدعا کی ہے کہ جون 19 کے اکثریتی فیصلے سے وہ پیرے حذف کیے جائیں جن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کی تین آف شور جائیدادوں کی تصدیق سے متعلق ٹیکس حکام کو ہدایات دی گئی ہیں۔
اس سے قبل 10 رکنی بینچ کے سامنے ایس سی بی اے کی جانب سے سینئر قانون دان حامد خان نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
نظرثانی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے پیرا 3 سے 10 سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معزز جج صاحبان چاہتے ہیں کہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کو ٹیکس حکام کے سامنے پیش ہوں تاکہ قانون اور احتساب کی ضروری کارروائی پوری کی جاسکے۔
درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ہدایات، مشاہدات اور مواد غیر ضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہیں لہٰذا انہیں مختصر حکم نامے سے حذف کیا جانا چاہیے۔
نظرثانی درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے جج، جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں انکم ٹیکس حکام کو دی گئی ڈیڈ لائنز غیر قانونی ہیں کیونکہ انکم ٹیکس آرڈیننس (آئی ٹی او) 2001 اور اس سے متعلق دیگر قوانین میں سیکشن 116 یا آئی ٹی او کی دیگر دفعات کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق ایسی کوئی دفعات شامل نہیں ہیں۔
اس میں کہا گیا کہ جب ریفرنس خارج کردیا گیا تو سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے پاس اس مقصد کے لیے قانونی اختیار نہیں رہ گیا۔
درخواست گزار نے سوال اٹھایا ہے کہ عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کے اثاثوں اور جائیدادوں سے متعلق معاملے کو ایف بی آر کو آئین و قانون کی کس دفعہ کے تحت بھیجا تھا؟
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے اہلخانہ سپریم جوڈیشل کونسل یا سپریم کورٹ کارروائیوں کے فریق نہیں تھے۔
